پنجاب حکومت نے زرعی تحقیق کے بجٹ میں 200فیصد تک اضافہ کر دیا ،
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر دسمبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 29/12/2014 - 21:01:27 وقت اشاعت: 29/12/2014 - 21:01:27 وقت اشاعت: 29/12/2014 - 21:01:27 وقت اشاعت: 29/12/2014 - 20:59:58 وقت اشاعت: 29/12/2014 - 20:59:58 وقت اشاعت: 29/12/2014 - 20:59:58 وقت اشاعت: 29/12/2014 - 20:55:01 وقت اشاعت: 29/12/2014 - 20:55:01 وقت اشاعت: 29/12/2014 - 20:53:10 وقت اشاعت: 29/12/2014 - 20:53:10 وقت اشاعت: 29/12/2014 - 20:43:21
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

پنجاب حکومت نے زرعی تحقیق کے بجٹ میں 200فیصد تک اضافہ کر دیا ،

حکومت نے کاشتکاروں کے مسائل حل کرنے کیلئے متعدد اقدامات کیے ہیں،گندم کی امدادی قیمت 1300روپے فی من مقرر کی ہے ، , ہمارے زرعی سائنسدانوں نے پانی کی کمی برداشت کرنیوالی فصلوں کی نئی اقسام دریافت کر لی ہیں‘ صوبائی وزیر زراعت ڈاکٹر فرخ جاوید

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔29دسمبر 2014ء) پنجاب حکومت نے زرعی تحقیق کے بجٹ میں 200فیصد تک اضافہ کر دیا ،ہمارے زرعی سائنسدانوں نے پانی کی کمی برداشت کرنے والی فصلوں کی نئی اقسام دریافت کر لی ہیں۔یہ بات ڈاکٹر فرخ جاوید وزیر زراعت پنجاب نے زراعت ہاؤس لاہور میں صوبہ پنجاب اور لاہور ڈویژن میں مقابلہ گندم 2014ء میں انعام حاصل کرنے والے کاشتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔

اس موقع پر علی طاہرسیکرٹری زراعت پنجاب اور محکمہ زراعت کے افسران کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔وزیر زراعت نے کہا کہ موجودہ حکومت نے کاشتکاروں کے مسائل حل کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔گندم کی امدادی قیمت 1300روپے فی من مقرر کی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ محمد شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب نے سختی سے ہدایت کی ہے کہ جو مل مالکان گنے کے کاشتکاروں کو ان کی پیداوار کے صحیح معاوضے نہیں دیں گے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔

وزیر زراعت نے کہا کہ صوبہ پنجاب میں گنے کے نرخ 180روپے فی من جبکہ سندھ میں 155روپے فی من ہیں۔وزیر زراعت پنجاب نے عام کاشتکاروں اورمثالی کاشتکاروں کے مابین پیداواری فرق کو کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ہمارے مثالی کاشتکار 80من فی ایکڑ سے زائد پیداوار بھی حاصل کر رہے ہیں جبکہ ہماری اوسط پیداوار 30من فی ایکڑ ہے ۔انہوں نے کہا کہ زرعی سائنسدانوں اور کاشتکاروں کی محنت سے صوبہ پنجاب میں تمام فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔

آلواور گندم کی ریکارڈ پیداوار حاصل ہوئی ہے جبکہ کپاس کی پیداوار 10ملین گانٹھ سے تجاوز کر چکی ہے ۔چاول کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔اس کامیابی پر ہمارے زرعی سائنسدان اور کاشتکار مبارکباد کے مستحق ہیں۔علی طاہر سیکرٹری زراعت پنجاب نے بھی اپنے خطاب میں بتایا کہ گندم کی زیادہ پیداوار حاصل کرنے والے کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومت پنجاب نے 130ملین روپے کے انعامات دئیے ہیں ۔

انعام حاصل کرنے والے کاشتکاروں کا چناؤ نہایت ہی منصفانہ انداز میں کیا گیا ہے۔جس سے کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی ہو گی اور ان میں صحت مندانہ مقابلہ کے رجحان کو مقبولیت ملے گی ۔ڈاکٹر انجم علی ڈائریکٹر جنرل زراعت (توسیع)پنجاب نے اس موقع پر بتایا کہ صوبہ پنجاب میں گندم کی 1کروڑ97لاکھ ٹن ریکارڈ پیداوار حاصل ہوئی ہے ۔حکومت پنجاب نے دالوں اور سبزیوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے نئے منصوبے شروع کیے ہیں۔

جن کے تحت کاشتکاروں کوسبسڈی دی جائے گی ۔تقریب کے اختتام پر وزیر زراعت پنجاب نے انعام حاصل کرنے والے کاشتکاروں میں ٹریکڑز و دیگر انعامات تقسیم کیے ۔الله بخش ضلع خوشاب نے 98.78من فی ایکڑ پیداوار حاصل کر کے صوبہ پنجاب میں پہلی پوزیشن حاصل کی اور 85 ہارس پاور کا ٹریکٹر حاصل کیا۔وسیم عباس ضلع مظفر گڑھ نے84.21 من فی ایکڑ پیداوار حاصل کر کے پنجاب کی سطح پر دوسری پوزیشن حاصل کی 75 ہارس پاورکا ٹریکٹر حاصل کیا جبکہ محمد حسنین خالد ضلع رحیم یار خان نے 80.52من فی ایکڑ پیداوار حاصل کر کے تیسری پوزیشن حاصل کر کے 75 ہارس پاور کاٹریکڑ حاصل کیا۔حکومت پنجاب نے پیداواری مقابلہ گندم 2014کے سلسلے میں کامیاب کاشتکاروں میں 542زرعی مشینری اور دیگر زرعی آلات تقسیم کیے ہیں۔

29/12/2014 - 20:59:58 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان