سینٹ میں سانحہ پشاور پر بحث جاری،ایکشن پلان پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے‘ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ دسمبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 26/12/2014 - 16:03:12 وقت اشاعت: 26/12/2014 - 16:02:08 وقت اشاعت: 26/12/2014 - 15:59:55 وقت اشاعت: 26/12/2014 - 15:59:55 وقت اشاعت: 26/12/2014 - 15:48:08 وقت اشاعت: 26/12/2014 - 15:48:08 وقت اشاعت: 26/12/2014 - 15:18:06 وقت اشاعت: 26/12/2014 - 15:14:15 وقت اشاعت: 26/12/2014 - 15:10:46 وقت اشاعت: 26/12/2014 - 15:08:41 وقت اشاعت: 26/12/2014 - 15:08:41
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:36 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:38 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:39 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 10:35:10 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 اسلام آباد کی مزید خبریں

سینٹ میں سانحہ پشاور پر بحث جاری،ایکشن پلان پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے‘ پارلیمنٹ کی کمیٹی تشکیل دی جائے جو ایکشن پلان کی مانیٹرنگ کرے، سینیٹرز کا مطا لبہ

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 26 دسمبر 2014ء) سینٹ میں جمعہ کے روز سانحہ پشاور پر بحث جاری رہی اور بیشتر سینیٹرز نے مطالبہ کیا کہ ایکشن پلان پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے۔ پارلیمنٹ کی کمیٹی تشکیل دی جائے جو ایکشن پلان کی مانیٹرنگ کرے۔ سینیٹر زاہد خان نے سانحہ پشاور پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام کے نام پر بچوں کو شہید کیا گیا ہے۔

کالعدم تنظیموں کو کام کرنے سے تو روکا گیا ہے لیکن ان کا نام نہیں لیا گیا۔ جیش محمد‘ لشکر طیبہ اور دفاع پاکستان میں شامل جماعتوں کا نام نہیں لیا گیا۔ البدر‘ حزب المجاہدین اور حرکت الانصار جیسی تنظیموں پر کہاں پابندی عائد کی گئی ہے۔ پنجاب میں پختونوں کو جیلوں میں ڈالا گیا ہے۔ پھانسی پر چڑھنے والوں میں ایک بھی پختون نہیں تھا۔

افغانستان کو تباہ کرنے میں پاکستان کا بھی کردار ہے اب افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے کی باتیں ہورہی ہیں۔ جامعہ حفصہ کی طالبات کھلے عام داعش سے اپنی وابستگی کا اعلان کررہی ہیں۔ پچھلے دس سالوں میں مرنے والوں کا کون ذمہ دار ہے۔ ماضی سے سبق سیکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سچ سے پردہ اٹھانا ہوگا‘ مصلحت سے کام نہیں لینا چاہئے۔ دھاندلی کے نام پر سیاسی جماعت کا اپنا نقطہ نظر ہے۔

عمران خان نے کے پی کے میں اے این پی کا مینڈیٹ چرایا ہے۔ ہم نے بھی دھاندلی کے بارے میں الیکشن کمیشن کو خط لکھا ہے لیکن جواب ابھی تک نہیں ملا۔ سیاسی جرگہ پر پی پی پی اپنا نقطہ نظر واضح کرے۔ جو کچھ باہر ہورہا ہے اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں جب پارلیمنٹ میں مسئلہ آئے گا تو دیکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق و صوبائی حکومتیں اور پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس میں جو فیصلہ ہوا ہے اسے پارلیمنٹ میں لایا اور اس پر بحث کرائی جائے۔

اگر پارلیمنٹ کو بائی پاس کیا گیا تو نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ جیش محمد اور لشکر جھنگوی کے دہشت گرد ملک بھر میں پھر رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے ہمارے ساتھ جو رویہ اختیار کیا ہے اس کی ذمہ دار وہ خود ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت پختونوں کیساتھ نارواء سلوک بند کرے۔ حکومت واضح کرے کہ کالعدم تنظیموں سے نمٹنے کیلئے کیا لائحہ عمل تیار کیا ہے اس پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے۔

دفاع پاکستان میں شامل جماعتوں کیخلاف اگر کوئی ایکشن پلان بنایا گیا ہے تو بتایا جائے۔ سینیٹر رؤف لالہ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت نے پختونوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں بند کررکھا ہے حکومت اس سلسلے کو فوری طور پر بند کرے۔ پیپلزپارٹی کے راہنماء اور سینیٹر بیرسٹر عثمان سیف اللہ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ سانحہ پشاور عام دہشت گردی کا واقعہ نہیں ہے اس واقعہ کے بعد یہ شکوک و شبہات ختم ہوگئے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

26/12/2014 - 15:48:08 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان