سانحہ پشاور کی بے لاگ تحقیقات کرکے مجرموں کو بے نقاب کیاجائے ،پروفیسر محمد ابراہیم،
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات دسمبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 25/12/2014 - 20:46:18 وقت اشاعت: 25/12/2014 - 20:46:18 وقت اشاعت: 25/12/2014 - 20:46:18 وقت اشاعت: 25/12/2014 - 20:43:59 وقت اشاعت: 25/12/2014 - 20:43:59 وقت اشاعت: 25/12/2014 - 20:43:59 وقت اشاعت: 25/12/2014 - 20:39:50 وقت اشاعت: 25/12/2014 - 20:39:50 وقت اشاعت: 25/12/2014 - 20:39:50 وقت اشاعت: 25/12/2014 - 20:29:28 وقت اشاعت: 25/12/2014 - 20:29:28
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

سانحہ پشاور کی بے لاگ تحقیقات کرکے مجرموں کو بے نقاب کیاجائے ،پروفیسر محمد ابراہیم،

انہیں جناح پارک پشاور میں سر عام گولی مار دی جائے،امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔25دسمبر 2014ء)امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخواپروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا مطالبہ کیا ہے کہ سانحہ پشاور کی بے لاگ تحقیقات کرکے مجرموں کو بے نقاب کیاجائے اور انہیں جناح پارک پشاور میں سر عام گولی مار دی جائے۔جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہری پور کی تحصیل غازی میں سانحہ پشاور کے شہداء کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران کیا۔

تعزیتی ریفرنس سے جماعت اسلامی ہری پور کے امیر غزن اقبال، تحصیل غازی کے امیر عقیل الرحمن اور نائب امیر بہادر شیر نے بھی خطاب کیا۔ پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا کہ آرمی پبلک سکول میں جس انداز میں معصوم بچوں کا قتل عام کیا گیا یہ کسی مسلمان تو کیا انسان کا بھی کام نہیں ۔اس میں جو بھی ملوث ہے اور جو بھی اس کی ذمہ داری قبول کررہے ہیں ہم دوٹوک الفاظ میں ان کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ان کو سرعام سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

ایسے لوگ کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں۔بے لاگ تحقیقات اور مجرموں کو سزا دینے سے ہی متاثرہ خاندانوں اور غمزدہ والدین کے دلوں کو سکون مل سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ 16دسمبر 1971ء کو ہم سے اپنا مشرقی بازو بنگلہ دیش کی صورت میں الگ کردیا گیا ۔ پاکستان کو بنانے والی جماعت مسلم لیگ کا قیام ڈھاکہ میں لایاگیا تھالیکن ہمارے حکمران اللہ تعالیٰ سے کئے گئے وعدے بھلا بیٹھے ۔

1947ء کو پاکستان دنیا میں سب سے بڑی اسلامی ریاست کو طور پر وجود میں آئی لیکن یہاں پر اسلامی نظام کے بجائے 1935ء کا برطانوی ایکٹ نافذ کردیا گیا۔ اس وقت بھی ملک میں انگریز کا نظام رائج ہے ۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی اس جنگ میں امریکہ ، اسرائیل اور بھارت ملوث ہیں ۔ الطاف حسین آج کل مفتی بن کر فتوے دے رہے ہیں لیکن انہوں نے عوام کو بوری بند لاشوں کا تحفہ دیا۔

کسی مسجد کو ڈھانے اور جلانے کی بات کرنا بذات خود سب سے بڑی دہشت گردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الطاف حسین نے مارشل لاء کے نفاذ کا مطالبہ کیا ہے اور آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ کراچی کے لوگوں نے ایم کیو ایم پر اعتماد کیا لیکن ایم کیو ایم نے کراچی کو ٹارگٹ کلنگ اور بوری بند لاشوں کا تحفہ دیا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ اور دیانتدار باصلاحیت قیادت ہی قوم کو مسائل سے نجات دلاسکتی ہے۔

25/12/2014 - 20:43:59 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان