ملک میں سول جوڈیشری کی فعالیت کے دوران فوجی عدالتیں قبول نہیں کی جاسکتیں، آئینی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ دسمبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 24/12/2014 - 21:39:37 وقت اشاعت: 24/12/2014 - 21:38:22 وقت اشاعت: 24/12/2014 - 21:38:22 وقت اشاعت: 24/12/2014 - 21:38:22 وقت اشاعت: 24/12/2014 - 21:36:35 وقت اشاعت: 24/12/2014 - 21:36:35 وقت اشاعت: 24/12/2014 - 21:36:35 وقت اشاعت: 24/12/2014 - 21:34:07 وقت اشاعت: 24/12/2014 - 21:34:07 وقت اشاعت: 24/12/2014 - 21:28:22 وقت اشاعت: 24/12/2014 - 21:28:22
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

ملک میں سول جوڈیشری کی فعالیت کے دوران فوجی عدالتیں قبول نہیں کی جاسکتیں، آئینی ماہرین ،

دہشت گردی کے مقدمات فوجی عدالتوں میں بھیجتے ہوئے بہت احتیاط سے کام لینا ہوگا ،حکومت نے تمام سیاسی جماعتوں کی مدد سے فوجی عدالتیں بنانے کا فیصلہ وسیع تر قومی مفاد میں کیا ہے تو اس کے اثرات بھی دور رس ہوں گے، ملک میں فوجی عدالتوں کے قیام پر ملے جلے ردِ عمل کا اظہار

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔24دسمبر 2014ء ) آئینی ماہرین نے ملک میں فوجی عدالتوں کے قیام پر ملے جلے ردِ عمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ عدلیہ دہشت گردوں کو سزا دینے میں کئی اسباب کے باعث کامیاب نہیں ہوسکی تاہم سابق اٹارنی جنرل جسٹس ریٹائرد ملک محمد قیوم نے فوجی عدالتوں کے قیام کی کلی طور پر مخالفت کی ہے اور عدلیہ پر عدم اعتماد کا اظہار قراردیا ہے ۔

فوجی عدالتوں کے قیام کے فیصلے پرتبصرہ کرتے ہوئے ملک محمد قیوم نے کہا کہ فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ عدلیہ پر واضح اور کھلا عدم اعتماد ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ سوال حکومت کیسے فوجی عدالتیں قائنم کرسکتی ہے جبکہ سول عدالتیں کام کر رہی ہیں ؟ ”آن لائن“ سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ نے بھی دہشت گردوی سے نمٹنے کیلئے فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ کیا تھا مگر سپریم کورٹ نے اسے رد کردیا تھا ۔

ملک میں سول جوڈیشری کی فعالیت کے دوران فوجی عدالتیں قبول نہیں کی جاسکتیں ، سابق ایڈووکیٹ جنرل اشتر اوصاف علی نے فوجی عدالتوں کے قیام کی حمایت کی تاہم انہوں نے ان عدالتوں مین مقدمات کی سماعت میں انتہائی احتیاط سے کام لینے پر زوردیا اور کہا کہ جھوٹے مقدمات اور لوگوں کو محض مقدمات میں پھنسانے سے بچاؤ کیلئے خصوصی اقدامات کی ضرورت ہوگی، اس ضمن میں وکلاء تنظیموں ، اور آئنی ماہرین کی مدد سے دوتین روز کے اندر تجاویز لیکر گائڈ لائن بنائی جاسکتی ہیں ۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے اور ان کے تحفظ کے ضمن میں پراسیکیوٹر پر بھاری ذمہ داری عائد ہوگی اور ابن کا اصل کردار بھی یہی ہوگا ، انہیں دہشت گردی کے مقدمات فوجی عدالتوں میں بھیجتے ہوئے بہت احتیاط سے کام لینا ہوگا ۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک جنگ کی حالت میں ہے اور پورا ملک دہشت گردوں سے جنگ کررہا ہے ، جنگی حالات میں ایمر جنسی اور خصوصی اقدامات اٹھانا ناگزیر ہوتے ہیں ،حکومت نے تمام سیاسی جماعتوں کی مدد سے فوجی عدالتیں بنانے کا فیصلہ وسیع تر قومی مفاد میں کیا ہے تو اس کے اثرات بھی دور رس ہوں گے ۔



اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

24/12/2014 - 21:36:35 :وقت اشاعت