وفاقی حکومت نے دہشتگردی کیخلاف آپریشن کیلئے اندرونی سلامتی لائحہ عمل تیار کرلیا،دہشتگردی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 23/01/2014 - 19:47:41 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 19:31:32 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 19:30:56 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 19:29:13 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 19:29:13 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 19:27:31 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 19:27:31 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 19:17:26 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 19:17:26 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 19:14:33 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 19:14:33
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

وفاقی حکومت نے دہشتگردی کیخلاف آپریشن کیلئے اندرونی سلامتی لائحہ عمل تیار کرلیا،دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے سول آرمڈفورسز کے ایک لاکھ ترپن ہزارنوے آفیسرز اوراہلکاروں کی قوت کو بروئے کار لانے کافیصلہ ، ایف آئی اے، اسلام آباد پولیس ،نادرا ، سول ڈیفنس، ایئرونگ کے اداروں کی خدمات کو استعمال میں لایاجائیگا ، پاکستان کی26 مختلف انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ کامربوط نظام کیاجارہا ہے ،صوبائی اورضلعی سطح پر فاسٹ رسپانڈیونٹس کو دہشتگردوں کی نشاندہی پر کارروائی کیلئے تربیت دی گئی ، القاعدہ ، تحریک طالبان پاکستان وافغانستان ،لشکرجھنگوی، کالعدم فرقہ وارانہ تنظیمیں ،بھارتی وبیرونی خفیہ عناصر کو اندرونی سلامتی کیلئے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ،سیکیورٹی پالیسی کی منظوری آئندہ کابینہ کے اجلاس میں دی جائے گی

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔23 جنوری ۔2014ء)دہشتگردی کیخلاف آپریشن کیلئے وفاقی حکومت نے اندرونی سلامتی لائحہ عمل تیار کرلیا ،دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے حکومت نے سول آرمڈفورسز کے ایک لاکھ ترپن ہزارنوے آفیسرز اوراہلکاروں کی قوت کو بروئے کار لانے کافیصلہ کیا ہے ،دہشتگردی پرقابو پانے کیلئے ایف آئی اے، اسلام آباد پولیس ،نادرا ، سول ڈیفنس، ایئرونگ کے اداروں کی خدمات کو بھی استعمال میں لایاجائیگا جبکہ پاکستان کی26 مختلف انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ کامربوط نظام کیاجارہا ہے صوبائی اورضلعی سطح پر فاسٹ رسپانڈیونٹس کو دہشتگردوں کی نشاندہی پر کارروائی کیلئے تربیت دی گئی ہے جبکہ القاعدہ ، تحریک طالبان پاکستان وافغانستان ،لشکرجھنگوی، کالعدم فرقہ وارانہ تنظیمیں ،بھارتی وبیرونی خفیہ عناصر کو اندرونی سلامتی کیلئے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے،سیکیورٹی پالیسی کی منظوری آئندہ کابینہ کے اجلاس میں دی جائے گی جبکہ تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیاجائیگا ۔

وزارت داخلہ کی دستاویز کے مطابق حکومت نے ملک میں دہشتگردی پرقابو پانے کیلئے اپنا وژن ترتیب دیا ہے جس کے تحت فاٹا اورخیبرپختونخوا میں تحریک طالبان، القاعدہ، لشکرجھنگوی اورغیرملکی مدد رکھنے والے دہشتگرد گروپوں کو خطرہ قرار دیا گیا ہے وزارت داخلہ کی دستاویز کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں القاعدہ ، تحریک طالبان اورلشکرجھنگوی کالعدم تنظیمیں دہشتگرد حملے کرسکتی ہیں گلگت بلتستان میں تحریک طالبان پاکستان ،کالعدم فرقہ وارانہ گروپوں اورلشکرجھنگوی سے دہشتگردی خطرات لاحق ہیں جبکہ آزاد جموں وکشمیر میں بھارتی مدد رکھنے والے دہشتگرد خطرہ ہیں دستاویز کے مطابق پنجاب میں تحریک طالبان ،لشکرجھنگوی اورکالعدم تنظیمیں دہشتگرد حملے کرسکتی ہیں صوبہ سندھ میں تحریک طالبان پاکستان ،لشکرجھنگوی، القاعدہ،لسانی دہشتگرد تنظیمیں، جرائم پیشہ مافیا اورٹارگٹ کلر اندرونی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیئے گئے ہیں جبکہ بلوچستان میں القاعدہ ،تحریک طالبان پاکستان ،لشکرجھنگوی ، بلوچ انتہاپسند گروپ، بی آر اے، بی این پی، لشکربلوچستان ،بی ایل یو ایف، بی ایم ڈی ٹی، بی بی پی اے، بی ڈبلیو ایل اے ، بی آر پی اے، بی این ایل اے ، یو بی اے، بی ایل ایف وغیرملکی

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

23/01/2014 - 19:27:31 :وقت اشاعت