امریکہ کو دوٹوک موقف سے آگاہ کردیا ،شکیل آفریدی کو رہا نہیں کیا جائیگا،سیکرٹری ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 23/01/2014 - 18:58:20 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 18:58:20 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 18:56:48 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 18:56:48 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 18:56:48 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 18:55:32 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 18:55:32 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 18:55:32 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 17:42:17 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 17:18:56 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 17:18:56
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:05 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:06 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:09 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:16 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:11:11 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:11:13 اسلام آباد کی مزید خبریں

امریکہ کو دوٹوک موقف سے آگاہ کردیا ،شکیل آفریدی کو رہا نہیں کیا جائیگا،سیکرٹری دفاع آصف یاسین ، دھرنا سیاسی معاملہ ہے ،بین الاقوامی معاہدے کے تحت نیٹو سپلائی جاری رکھنے کے پابند ہیں ،ڈرون حملوں بارے امریکہ کو آگاہ کردیا ، سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کو بریفنگ،سینٹ قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے کراچی پورٹ ٹرسٹ اور پورٹ قاسم اتھارٹی کی زمین ڈی ایچ اے کو فروخت کرنیکی ڈیل کی رپورٹ طلب کر لی ،راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ میں پلاٹس کے الاٹیوں کا معاملہ وزارت دفاع اور پنجاب حکومت کے اجلاس تک مئوخر کردیا گیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔23 جنوری ۔2014ء)سیکرٹری دفاع آصف یاسین نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ دھرنا سیاسی معاملہ ہے بین الاقوامی معاہدے کے تحت نیٹو سپلائی جاری رکھنے کے پابند ہیں ،ڈرون حملوں بارے امریکہ کو دوٹوک موقف سے آگاہ کردیا ۔شکیل آفریدی امریکی مطالبہ پر رہا نہیں کیا جائیگا،سینٹ قائمہ کیمٹی برائے دفاع نے کراچی پورٹ ٹرسٹ اور پورٹ قاسم اتھارٹی کی زمین ڈی ایچ اے کو فروخت کرنیکی ڈیل کی رپورٹ طلب کر لی ، راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ میں پلاٹس کے الاٹیوں کا معاملہ وزارت دفاع اور پنجاب حکومت کے اجلاس تک مئوخر کردیا گیا۔

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس جمعرات کو چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین کی زیر صدارت منعقد ہو ا۔اجلاس میں سیکرٹری دفاع آصف یاسین ،ڈی ایچ اے کراچی کے حکام میجر جنرل مظہر سعیداور بریگیڈئیرعبداللہ و اراکین کمیٹی نے شرکت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری دفاع آصف یاسین نے پاک امریکہ دفاعی مشاورتی اجلاس کے بائیسویں اجلاس کے حوالے سے بریفنگ دی ۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ امریکہ کا مائنڈ سیٹ تبدیل نہیں ہوا ۔امریکہ نے خود ایک اسرائیلی جاسوس کو کئی سالوں سے قید کر رکھا ہے مگر شکیل آفریدی جو ایک سی آئی اے جاسوس ہے کو چھوڑنے کیلئے پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے امریکی امداد کو شکیل آفریدی کی رہائی سے مشروط کرنے کی مذمت کرتے ہیں ۔ مشاہد حسین نے کہا کہ ریمن ڈیوس ایک سی آئی اے کنٹریکٹر تھا مگر اسے سفارتکار قرار دے کر پاکستان سے رہا کروا لیا گیا انہوں نے کہا افغانستان سے امریکی و نیٹو افواج کے انخلاء کے مرحلہ پر دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑی دفاعی ساز و سامان کی منتقلی کا عمل ہونا افغانستا ن سے ساڑھے سات لاکھ فوجی سامان کے کنٹینرزواپس جانے ہیں اور ان کنٹینرز کا 70فیصد پاکستان کے راستے واپس جائیگا ۔

ایسے حالات میں امریکہ کو ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا جا نا چاہئے۔اجلاس میں سیکرٹری دفاع آصف یاسین نے پاک امریکہ دفاعی مشاورتی گروپ کے اجلاس کی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاک امریکہ دفاعی مشاورتی گروپ کا بیس سال میں یہ بائیسواں اجلاس تھا جس میں ڈپٹی سیکرٹری دفاع امریکہ نے امریکی وفد کی قیادت کی جبکہ چک ہیگل نے خصوصی طور پر افتتاحی اجلاس میں شرکت کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس ایسے اہم وقت پر ہوا جب پاکستان میں نئی جمہوری حکومت قائم ہوئی ہے اور وزیراعظم کے دورہ امریکہ کے دوران پاک امریکہ سٹرٹیجک مذاکرات بحال ہوئے ہیں اور امریکہ و نیٹو افواج کے افغانستان کے انخلاء کا مرحلہ آنے والا ہے ۔ سیکرٹری دفاع نے بتایا کہ انہوں نے بتایا کہ امریکی حکام پر واضح کیا ہے کہ مستحکم اور پرامن افغانستان نہ صرف علاقے بلکہ پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔

اراکین کمیٹی کے سوالات کے جواب میں سیکرٹری آصف یاسین نے بتایا کہ ابھی تک امریکی حکام خود تعین نہیں کر پائے کہ2014ء میں نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد کتنی امریکی فوج افغانستان میں رہیگی ۔ انہوں نے بتایا کہ 2014ء انخلاء کے بعد امریکی افواج افغانستان میں اسی صورت قیام کر سکے گی اگر افغان حکومت اور عوام انہیں اجازت دیگی کیونکہ افغانستان ایک خودمختار اور آزاد ملک ہے۔

اگر 2014ء کے بعد افغانستان میں امن و امان کی صورتحال خراب ہوئی تو اس سے پاکستان بھی متاثر ہوگا ، پاکستان پر مزید افغان مہاجرین کا بوجھ پڑے گا۔ پاک امریکہ دفاعی مشاورتی گروپ کے اجلاس میں امریکہ دفاعی حکام پر 2014 ء میں امریکی و نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال پر پاکستان کے تحفظات سے آگاہ کیا گیا ۔ امریکہ حکام کو واضح طور پر ڈرون حملے بند کرنے کا موقف پیش کیا گیا جو دہشتگردی کیخلاف جنگ کو متاثر کرنے کا باعث ہیں ۔

آج کل ڈرون حملے کم ہوئے ہیں شائد امریکہ نے پاکستان کی بات سن لی ہے یا پھر انہیں ٹارگٹ ڈھونڈنے میں مشکلات آرہی ہو نگی۔ سیکرٹری دفاع نے کہا امریکی دفاعی حکام کو بھارت کے دفاعی بجٹ میں اضافہ پر تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

23/01/2014 - 18:55:32 :وقت اشاعت