سپریم کورٹ کی مداخلت سے آرٹیکل 6کی کارروائی کا عمل متعصب ہو گیا ہے  یہ صرف وفاقی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 23/01/2014 - 18:56:48 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 18:56:48 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 18:56:48 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 18:55:32 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 18:55:32 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 18:55:32 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 17:42:17 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 17:18:56 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 17:18:56 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 17:03:34 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 17:03:34
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:14 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:15 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:18 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:19 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:54 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:56 اسلام آباد کی مزید خبریں

سپریم کورٹ کی مداخلت سے آرٹیکل 6کی کارروائی کا عمل متعصب ہو گیا ہے  یہ صرف وفاقی حکومت کا دائرہ اختیار تھا  انور منصور ،وفاقی حکومت کی آئین میں دی گئی تعریف وزیراعظم اور کابینہ ہیں، انتظامیہ اختیار کا استعمال ڈویژن کے ذریعے نہیں  وفاقی کابینہ کے ذریعے ہوتا ہے، کابینہ کا اختیار کسی سیکرٹری کو نہیں دیا جا سکتا  پرویز مشرف کے وکیل کے دلائل ، وزیراعظم نواز شریف نے غداری کے مقدمے کی تفتیش میں مداخلت نہیں کی، آئین پر عمل کیا گیا ہے  پراسیکیوٹر اکرم شیخ ،ضرورت پڑی تو تفتیشی افسر کو عدالت میں پیش کرسکتے ہیں  خصوصی عدالت میں غداری کیس میں دلائل

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔23 جنوری ۔2014ء) آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے وکیل انور منصور نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کی مداخلت سے آرٹیکل 6کی کارروائی کا عمل متعصب ہو گیا ہے  صرف وفاقی حکومت کا دائرہ اختیار تھا وفاقی حکومت کی آئین میں دی گئی تعریف وزیراعظم اور کابینہ ہیں، انتظامیہ اختیار کا استعمال ڈویژن کے ذریعے نہیں  وفاقی کابینہ کے ذریعے ہوتا ہے، کابینہ کا اختیار کسی سیکرٹری کو نہیں دیا جا سکتاجبکہ سرکاری پراسیکیوٹر اکرم شیخ نے کہاہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے غداری کے مقدمے کی تفتیش میں مداخلت نہیں کی، آئین پر عمل کیا گیا ہے  ضرورت پڑی تو تفتیشی افسر کو عدالت میں پیش کرسکتے ہیں۔

جمعرات کو جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس کی سماعت شروع کی تو سپیشل پروسیکیوٹر اکرم شیخ نے اپنے دلائل میں کہا کہ وزیراعظم نواز شریف نے غداری کے مقدمے کی تفتیش میں مداخلت نہیں کی، غداری کے مقدمے میں آئین پر عمل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو تفتیشی افسر کو عدالت میں پیش کرسکتے ہیں۔

اکرم شیخ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کیا گیا، عدالت نے اچھی شہرت اور ایماندار لوگوں پر مشتمل تفتیشی ٹیم بنانے کا حکم دیا۔انور منصور نے کہا کہ وفاقی حکومت کی آئین میں دی گئی تعریف وزیراعظم اور کابینہ ہیں، انتظامیہ اختیار کا استعمال ڈویژن کے ذریعے نہیں بلکہ وفاقی کابینہ کے ذریعے ہوتا ہے، کابینہ کا اختیار کسی سیکرٹری کو نہیں دیا جا سکتا، انور منصور نے کہا کہ آئین میں لکھا ہوتا تو کسی سیکرٹری کو اختیار تفویض کیا جا سکتا تھا۔

جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ نوٹیفکیشن میں لکھا ہے وفاقی حکومت کی جانب سے سیکرٹری داخلہ کو شکایت دائر کرنے کا اختیار دیا جا رہا ہے۔ آرٹیکل 90ٹو میں لکھا ہے وزیراعظم اپنے اختیارات کسی وزیر کو تفویض کرسکتاہے۔ اس پر انور منصور نے دلیل دی کہ اس میں یہ نہیں لکھا کہ کابینہ اپنا اختیار کسی کو سونپ سکتی ہے، خصوصی عدالت کے قیام کا فیصلہ کابینہ نے نہیں کیا جو قانونی تقاضہ تھا۔

انور منصور

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

23/01/2014 - 18:55:32 :وقت اشاعت