پاکستان ،43 فیصد خواتین اور ایک تہائی مرد سمجھتے ہیں کہ شوہر اپنی بیوی کی پٹائی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 23/01/2014 - 18:55:32 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 18:55:32 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 17:42:17 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 17:18:56 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 17:18:56 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 17:03:34 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 17:03:34 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 17:03:34 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 16:41:05 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 16:41:05 وقت اشاعت: 23/01/2014 - 16:27:58
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 28/02/2017 - 11:04:23 وقت اشاعت: 28/02/2017 - 11:04:29 وقت اشاعت: 28/02/2017 - 11:04:31 وقت اشاعت: 28/02/2017 - 11:09:56 وقت اشاعت: 28/02/2017 - 11:09:57 وقت اشاعت: 28/02/2017 - 11:10:00 اسلام آباد کی مزید خبریں

پاکستان ،43 فیصد خواتین اور ایک تہائی مرد سمجھتے ہیں کہ شوہر اپنی بیوی کی پٹائی کر سکتے ہیں ،رپورٹ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 23جنوری 2014ء)پاکستان میں 43 فیصد خواتین اور ایک تہائی مرد سمجھتے ہیں کہ شوہر اپنی بیوی کی پٹائی کر سکتے ہیں پاکستان میں آبادی سے متعلق قومی ادارے انسٹیٹیوٹ آف پاپولیشن سٹیڈیز کے آبادی اور صحت سے متعلق ایک تازہ سروے میں یہ رائے سامنے آئی ہے پاکستان میں ایک سرکاری سروے کے مطابق ملک کی آبادی کی تقریباً 43 فیصد خواتین اور ایک تہائی مرد سمجھتے ہیں کہ شوہر اپنی بیوی کی پٹائی کر سکتے ہیں۔

پاکستان میں آبادی سے متعلق قومی ادارے انسٹیٹیوٹ آف پاپولیشن سٹیڈیز کے آبادی اور صحت سے متعلق ایک تازہ سروے میں یہ رائے سامنے آئی ہے۔اس پر 34 فیصد خواتین کا جواب تھا کہ اگر بیوی شوہر سے بحث کرے تو تشدد کا جواز بنتا ہے جبکہ 20 فیصد مردوں کے مطابق اگر بیوی بغیر بتائے گھر سے جائے تو بیوی پر ہاتھ اٹھانا جائز ہے جبکہ مجموعی طور پر 43 فیصد خواتین مجموعی طور پر شوہر کے تشدد کو جائز سمجھا۔

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کارکن ربعیہ وقار کے مطابق گھریلو تشدد کے واقعات کے اعداد و شمار اور رویوں کے بارے میں پہلی بار حکومت کی جانب سے اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ صوبوں میں گھریلو تشدد سے متعلق قانون سازی کیلئے یہ اعداد و شمار اہم ہیں جس میں صوبہ سندھ میں 20 فیصد خواتین کے مطابق وہ نفسیاتی یا جسمانی تشدد کا شکار رہی ہیں ، خیبر پختونخوا میں ایسے واقعات 57 فیصد کے قریب ہیں۔

سروے کی وجہ سے گھریلو تشدد کے بارے میں ہمارے پاس اب ریاست کی جانب سے اعداد و شمار آگئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس صوبے میں سب سے پہلے قانون سازی ہوئی، وہاں ایسے واقعات کم ہوئے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ ہیں۔سال 2009 میں قومی اسمبلی میں گھریلو تشدد کے خاتمے سے متعلق بل منطور ہوا تھا تاہم بعض مذہبی جماعتوں کے اعتراضات کی وجہ سے یہ قانون نہیں بن سکا تھا۔

18ویں ترمیم کے بعد صوبہ سندھ نے گذشتہ سال گھریلو تشدد سے متعلق قانون منظور کیا تھا اور اس برس جنوری میں اسی طرح کا قانون پنجاب اسمبلی میں پیش ہوا جبکہ بلوچستان اور صوبہ خیبر پختونخوا نے گھریلو تشدد سے متعلق قانون سازی نہیں کی۔خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے قومی ادارے نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ومین کی سربراہ خاور ممتاز کے مطابق خواتین کیوں گھریلو تشدد کو صحیح سمجھتی ہیں؟ ایک مرد سے پوچھا گیا کہ اگر عورت کا کام کھانا پکانا ہے اور نہ اچھا بنانے پر اس کی پٹائی کی جانی چاہیے، تو اگر آپ کا کام کمانا ہے اور آپ نہیں کما پائیں تو آپ پر ہاتھ اٹھانا چاہیے؟ وہ بہت حیران ہوئے کیونکہ اس پہلو پر انھوں نے سوچا نہیں تھا۔

خواتین کی شادی کرنے کی اوسط عمر 19.5 سال اور مردوں کی 24.7 سال ہے۔14 میں سے ایک بچے کی اپنی پہلی سالگرہ سے پہلے موت واقع ہو جاتی جبکہ 11 میں سے ایک بچہ اپنی پانچویں سالگرہ تک زندہ نہیں رہتا۔پاکستانی مرد اور خواتین چار بچے چاہتے ہیں۔ یہ تعداد صوبہ بلوچستان میں چھ جبکہ اسلام آباد میں تین ہے۔1990 میں 9 فیصد مرد اور خواتین جبکہ سال 2013 میں 26 فیصد خاندانی منصوبہ بندی کے جدید طریقے استعمال کرتے تھے۔45 فیصد بچے غذائیت کی کمی کا شکار ہیں جبکہ 11 فیصد شدید غذائی کمی کا شکار ہیں۔گھریلو تشدد کی شکار 52 فیصد خواتین نے تشدد کے بارے میں کسی کو آگاہ نہیں اور نہ ہی مدد مانگی۔ملک میں چھ فیصد خواتین اور 45 فیصد مرد تمباکو نوشی کرتے ہیں۔

23/01/2014 - 17:03:34 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان