پنجاب حکومت کا کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کابڑا منصوبے شروع کرنے کا اعلان، 10 ارب ڈالر ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 22/01/2014 - 21:40:24 وقت اشاعت: 22/01/2014 - 21:40:24 وقت اشاعت: 22/01/2014 - 21:39:36 وقت اشاعت: 22/01/2014 - 21:39:36 وقت اشاعت: 22/01/2014 - 21:38:09 وقت اشاعت: 22/01/2014 - 21:25:57 وقت اشاعت: 22/01/2014 - 21:24:42 وقت اشاعت: 22/01/2014 - 21:21:59 وقت اشاعت: 22/01/2014 - 21:16:32 وقت اشاعت: 22/01/2014 - 21:15:08 وقت اشاعت: 22/01/2014 - 21:13:47
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

پنجاب حکومت کا کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کابڑا منصوبے شروع کرنے کا اعلان، 10 ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری ہوگی‘ شہباز شریف،3 سے 5 برس کے دوران کوئلے سے 6ہزارمیگاواٹ بجلی پیدا کی جائیگی، پنجا ب حکومت 660میگاواٹ کے2 پلانٹس خود لگائیگی،کول پاور پلانٹس کیلئے 6مقامات کا انتخاب کر لیا ہے، منصوبہ صارفین ، صنعت اور زراعت کیلئے مطلوبہ بجلی کی فراہمی کیلئے مددگار ہوگا، سستی بجلی کا حصول ممکن ہوگا،روزگار کے وسیع تر مواقع پیدا ہوں گے ،یہ منصوبہ حقیقی ترقی اور قومی خوشحالی کا ایک عظیم منصوبہ ہے ‘ وزیر اعلیٰ کی پریس کانفرنس

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔22 جنوری ۔2014ء)وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے صوبہ پنجاب میں کوئلے کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کے ایک بڑے منصوبے پر عملدرآمد کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اہمیت کے اس منصوبے کا مقصدتین سے پانچ برس کے دوران پنجاب میں کوئلے کے ذریعے 6000میگاواٹ بجلی پیدا کرنا ہے اور کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے ان منصوبوں میں8سے 10 ارب ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری ہو گی، وزیراعلیٰ نے اس منصوبے کی جلد ازجلد تکمیل اور بہتر نتائج حاصل کرنے کے لئے حکومت پنجاب کی جانب سے اس پراجیکٹ کے تحت 660میگاواٹ کے 2پلانٹس خود لگانے کا بھی اعلان کیا ہے،حکومت پنجاب نے فی الوقت کوئلے سے بجلی بنانے کے پلانٹ نصب کرنے کے لئے پنجاب میں 6مقامات کا انتخاب کیا ہے جو قادر آبادضلع ساہیوال‘ بھکھی ضلع شیخوپورہ‘ حویلی بہادرشاہ ضلع جھنگ‘ بلوکی ضلع قصور‘ترنڈہ ساوے والارحیم یار خان اور موضع کرم داد قریشی ضلع مظفر گڑھ میں واقع ہیں، حکومت اس مقصد کے لئے نجی شعبہ کی حوصلہ افزائی اور بجلی کی پیداوار میں اس کی شمولیت کو یقینی بنانے کی خاطر ٹھوس اور نتیجہ خیز اقدامات کرے گی۔

وہ ماڈل ٹاؤن میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر صوبائی وزراء رانا ثناء اللہ خان، چوہدری محمد شفیق، ملک ندیم کامران، شیر علی خان، چیف سیکرٹری، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، ایڈیشنل چیف سیکرٹری توانائی، متعلقہ سیکرٹریز اور اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اس وقت دو بڑے مسائل درپیش ہیں جن میں ایک توانائی کا بحران ہے اوردوسرا انتہا پسندی کاخاتمہ،بجلی اورگیس کی فراہمی مضبوط معیشت کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

معیشت پھلے پھولے گی تو انتہا پسندی کے رحجانات میں کمی آئے گی۔زراعت اورصنعت ترقی کرے گی تو روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔پنجاب حکومت نے صوبے میں کوئلے سے بجلی کے پلانٹس لگانے کی منصوبہ بندی کی ہے اور ہم نے انتہائی محنت سے کول پاور پلانٹس لگانے کے حوالے سے اپنے اقدامات کو حتمی شکل دی ہے ۔ان پاور پلانٹس کے لیے کراچی سے بذریعہ ریل کوئلے کو پنجاب ٹرانسپورٹ کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ گذشتہ ماہ انہوں نے بھارت کے مشرقی پنجاب میں مختلف مقامات پر کول پاور پلانٹس کا دورہ کیا وہاں پر چینی کمپنیاں ہزاروں میگا واٹ کے پلانٹس پر کام کررہی ہیں ۔چین میں 65فیصد،بھارت میں 63فیصد ،جرمنی میں 60فیصداور امریکہ میں 50فیصد سے زائد بجلی کوئلے سے حاصل کی جارہی ہے جبکہ پاکستان میں ایک فیصد سے بھی کم بجلی کوئلے سے پیدا ہوتی ہے جبکہ تھرمل سے پاکستان میں 65فیصد بجلی حاصل کی جارہی ہے اورہائیڈل سے 35فیصد ،بدقسمتی سے گذشتہ کئی دہائیوں کی غلط منصوبہ بندی اور حکمت عملی کے باعث پاکستان میں کم پیداواری لاگت سے بجلی کا حصول ممکن نہیں بنایا جاسکا۔

پانی سے بجلی حاصل کرنے کے حوالے سے بھی خاطر خواہ کام نہیں ہواصرف کاغذی کارروائیاں کی گئی ہیں۔پنجاب حکومت نے قائد اعظم سولر پارک میں ایک سو میگا واٹ کے سولر منصوبے پر کام شروع کررکھا ہے اورفروری کے وسط تک اس منصوبے کی بڈز موصول ہوجائیں گی تاہم 24گھنٹے بجلی پیدا کرنے کے لیے کوئلہ سب سے بہترآپشن ہے ۔بدقسمتی سے پاکستان اس وقت بجلی پیدا کرنے کے لیے تیل کی درآمد پر 10ارب ڈالر خرچ کررہا ہے جس کی پاکستانی معیشت متحمل نہیں ہوسکتی۔

درآمدی تیل سے بجلی کی قیمت 19روپے فی یونٹ جبکہ درآمدی کوئلے سے بجلی کی قیمت صرف 9روپے فی یونٹ مقرر کی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تھر میں کوئلے کے وسیع ذخائر موجود ہیں جبکہ پنجاب میں 500ملین ٹن کوئلہ موجود ہے ۔جس کے بارے میں آسٹریلوی کمپنی نے فیزبیلیٹی رپورٹ تیار کی ہے تاہم پنجاب کا کوئلہ زیادہ معیاری نہیں ہے ۔فی الوقت شارٹ ٹرم کے طورپر امپورٹڈ کول کے ذریعے یہ پلانٹ چلائے جائیں گے ۔

بعدازاں ان پلانٹس کو لوکل کوئلے پرچلایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کیلئے جن مقامات کا انتخاب کیا ہے وہ اس لحاظ سے انتہائی اہم ہیں کہ یہاں بجلی کے استعمال کے بڑے مراکز کے قریب ہیں اور یہاں سے تیار ہونے والی بجلی کو فوری طور پرنیشنل

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

22/01/2014 - 21:25:57 :وقت اشاعت