قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے تحفظ پاکستان آرڈیننس 2013ء کی کثرت رائے سے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 21/01/2014 - 21:41:05 وقت اشاعت: 21/01/2014 - 21:40:03 وقت اشاعت: 21/01/2014 - 21:40:03 وقت اشاعت: 21/01/2014 - 21:40:03 وقت اشاعت: 21/01/2014 - 21:39:06 وقت اشاعت: 21/01/2014 - 21:39:06 وقت اشاعت: 21/01/2014 - 21:39:06 وقت اشاعت: 21/01/2014 - 21:17:38 وقت اشاعت: 21/01/2014 - 21:17:38 وقت اشاعت: 21/01/2014 - 21:17:38 وقت اشاعت: 21/01/2014 - 21:16:35
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے تحفظ پاکستان آرڈیننس 2013ء کی کثرت رائے سے منظور ی دیدی ،اپوزیشن کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سلامتی کیلئے خطرہ بننے والوں کو گولی مارنے کا اختیاردئیے جانے پرتحفظات، وزیر مملکت برائے داخلہ بلیغ الرحمان کا اپوزیشن اراکین کمیٹی کی کئی تجاویز سے اصولی اتفاق ، بل میں شامل کرنے سے انکار ۔ تفصیلی خبر

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔21 جنوری ۔2014ء)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے تحفظ پاکستان آرڈیننس 2013ء کی کثرت رائے سے منظوری دیدی،قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پاکستان کی سلامتی کے لئے خطرہ بننے والوں کے خلاف پیشگی حراست اور گولی مارنے کا اختیاردئیے جانے پراپوزیشن کے تحفظات ، وزیر مملکت برائے داخلہ بلیغ الرحمان نے اپوزیشن اراکین کمیٹی کی کئی تجاویز سے اصولی اتفاق کیا مگر بل میں شامل کرنے سے انکار کردیا۔

منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین رانا شمیم احمد خان کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔ اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ بلیغ الرحمان ، نیکٹا اور وزارت داخلہ کے حکام و اراکین کمیٹی نے شرکت کی۔ اجلاس میں تحفظ پاکستان آرڈیننس زیر بحث لایا گیا ۔وزیر مملکت برائے داخلہ بلیغ الرحمان نے کمیٹی اراکین کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی سلامتی کو دہشت گردی جیسے خطرات سے غیر معمولی صورت حال کا سامنا ہے ۔

پاکستان میں امن وا مان کی صورت حال بہتر بنانے کیلئے غیر معمولی قانونی سازی کی ضرورت ہے ۔ آرڈیننس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رکن نبیل گبول کا کہنا تھا کہ پیشگی فائر کرنے اختیار پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو” لائسنس ٹو کل “دینے کے مترادف ہے ۔ حکومت کالا قانون پاس کروانا چاہتی ہے کسی بھی سیاسی احتجاج کیلئے جمع ہونیوالے سیاسی کارکنوں پر ایک پولیس آفیسر گولی چلوا سکتا ہے۔

پی ٹی آئی کے رکن ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پیشگی وارنٹ کے اختیارات کا سیاسی استعمال ہونے کا خطرہ ہے ایسے قانون سے سیاسی جماعتوں اور پھر جمہوری حکومت تک کو فارغ کر دیا جا سکے گا۔ جبکہ پیشگی گرفتاری کے اختیار سے مسنگ پرسنز کا معاملہ مزید گھمبیر ہو جائے گا انہوں نے کہا کہ حکومت دئیے گئے اختیارات کو کیموفلاج کر رہی ہے۔سائبر کرائمز کو آرڈیننس سے نکلا جائے کیونکہ اس کیلئے الگ سے بل زیر بحث ہے۔

مسلم لیگ ن کی رکن تہمینہ دولتانہ نے کہا کہ کراچی میں امن و امان کا معاملہ اسی لئے خراب ہے کہ پولیس کمزور ہے اور رینجرز کو ٹیک اوور کرنا پڑا ہے ۔ سری لنکا

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

21/01/2014 - 21:39:06 :وقت اشاعت