وفاقی حکومت کا گیس چوروں کیخلاف کارروائی میں سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں کے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 21/01/2014 - 14:52:29 وقت اشاعت: 21/01/2014 - 14:52:29 وقت اشاعت: 21/01/2014 - 14:52:29 وقت اشاعت: 21/01/2014 - 14:49:48 وقت اشاعت: 21/01/2014 - 14:49:48 وقت اشاعت: 21/01/2014 - 14:49:48 وقت اشاعت: 21/01/2014 - 14:39:00 وقت اشاعت: 21/01/2014 - 14:39:00 وقت اشاعت: 21/01/2014 - 13:51:12 وقت اشاعت: 21/01/2014 - 13:51:12 وقت اشاعت: 21/01/2014 - 13:51:12
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

وفاقی حکومت کا گیس چوروں کیخلاف کارروائی میں سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں کے عدم تعاون پر اپنی ناراضگی کا اظہار ، بڑے پیمانے پر قدرتی وسائل کی چوری کو روکا جائے تو گھریلو اور صنعتی صارفین کو فراہم کیا جاسکتا ہے ، شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔21 جنوری ۔2014ء)وفاقی وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی نے گیس چوروں کے خلاف کارروائی میں سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں کے عدم تعاون پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بڑے پیمانے پر قدرتی وسائل کی چوری کو روکا جائے تو گھریلو اور صنعتی صارفین کو فراہم کیا جاسکتا ہے ،موسم سرما کی شدت ختم ہونے کے بعد گیس کا پریشر بہتر ہو جائیگا ، رواں سال کے آخر میں ایل این جی کی در آمد شروع ہو جائیگا ، دوبارہ پریشر کی کمی والی صورتحا ل نہیں ہوگی ، ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ فی الحال بین الاقوامی پابندیوں کی زد میں ہے، ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، انڈیا پائپ لائن منصوبے سے 2017ء کے آخر یا 2018ء کی ابتداء میں گیس کی فراہمی شروع ہوجائیگی ۔

ایک انٹرویو میں وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ پنجاب سمیت ملک بھر میں گیس کا لو پریشر موسم سرما کی شدت ختم ہونے کے بعد بہتر ہوجائے گا تاہم اس طرح کی صورتحال اگلے سال دوبارہ نہیں پیدا ہوگی اس لیے کہ رواں سال کے اختتام سے قبل متوقع طور پر ایل این جی (مائع قدرتی گیس) کی درآمد شروع ہوجائے گی۔وفاقی وزیر نے گیس چوروں کے خلاف کارروائی میں سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں کے عدم تعاون پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ گیس چوری کی بڑی تعداد کا پتہ لگانے میں وفاقی کی مدد کرنے پر پنجاب اور خیبرپختونخوا کی تعریف کی۔

شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ جب سے ملک بھر میں گیس چوروں کو پکڑنے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں، بدقسمتی سے وفاق کو سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں کی جانب سے محدود طرزوں میں مدد حاصل ہوئی ہے تاہم پنجاب میں یہ کوششیں بے مثال رہی ہیں جبکہ خیبرپختونخوا کی حکوت بھی گیس چوری کے معاملات کا پتہ لگانے میں ہماری مدد کررہی ہے پنجاب میں ان دنوں گھریلو صارفین کیلئے بڑے پیمانے پر جاری گیس کی لوڈ شیڈنگ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ پنجاب تک مخصوص ہے، اس لیے کہ سردیوں میں گیس کی طلب میں اضافہ ہوگیا اور آئین کے آرٹیکل 158 کے تحت گیس کی فراہمی محدود ہے۔

انہوں نے کہا کہ مختصر مدت میں گیس کی فراہمی میں اضافہ ہی واحد حل ہے، جو گیس کی درآمد کی صورت میں ہی ممکن ہوسکے گا۔ ہم گیس کی درآمد کے مختلف منصوبوں پر کام کررہے ہیں اور امید ہے کہ اس سال کے آخر تک ایل این جی کی درآمد شروع ہوجائے گی۔ارجنٹ گیس کنکشن کیلئے گھریلو صارفین سے پچیس ہزار روپے چارج کرنے کے حوالے سے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

21/01/2014 - 14:49:48 :وقت اشاعت