اسلامی نظریاتی کونسل ڈکٹیٹر کی باقیات ، عوام کے ذہنوں میں کنفیوژن پیدا کرنے کا ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 20/01/2014 - 21:36:58 وقت اشاعت: 20/01/2014 - 21:36:58 وقت اشاعت: 20/01/2014 - 21:33:35 وقت اشاعت: 20/01/2014 - 21:31:06 وقت اشاعت: 20/01/2014 - 21:29:42 وقت اشاعت: 20/01/2014 - 21:29:42 وقت اشاعت: 20/01/2014 - 21:29:42 وقت اشاعت: 20/01/2014 - 21:29:07 وقت اشاعت: 20/01/2014 - 21:29:07 وقت اشاعت: 20/01/2014 - 21:29:07 وقت اشاعت: 20/01/2014 - 21:25:54
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلامی نظریاتی کونسل ڈکٹیٹر کی باقیات ، عوام کے ذہنوں میں کنفیوژن پیدا کرنے کا باعث بن رہی ہے، ختم کی جائے ، ضرورت نہیں رہی ، پیپلز پارٹی،کونسل کے چیئرمین اور ممبران اپنی جماعتوں کے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں ،فرحت اللہ بابر ، اسلامی نظریاتی کونسل آئینی ادارہ ہے ،ضرورت نہیں تھی تو پیپلزپارٹی اپنے دور حکومت میں ختم کر دیتی، جے یو آئی (ف)،اخباری بیانات کو بنیاد بنا کر تحریکیں پیش کرنے کی اجازت نہ دی جائے، پہلے کونسل کی سفارشات کو ایوان میں پیش کیا جائے پھر اس پر بحث کی جا سکتی ہے ، سینیٹر حمد اللہ ، قائداعظم مذہبی آزادی کے خواہاں تھے ، لبرل اور ماڈرن پاکستان چاہتے تھے ، ایم کیوایم نے پیپلز پارٹی کی حمایت کردی ،آئین میں نہیں لکھا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کو سات سال بعد ختم کر دیا جائیگا ، راجہ ظفر الحق

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔20 جنوری ۔2014ء)پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل ڈکٹیٹر کی باقیات کی ہے ، کونسل عوام کے ذہنوں میں کنفیوژن پیدا کرنے کا باعث بن رہی ہے، کونسل کے چیئرمین اور ممبران اپنی جماعتوں کے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں ،اب کوئی ضرورت نہیں رہی جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف)کے رہنما سینیٹر حمد اللہ نے کہا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل آئینی ادارہ ہے ،ضرورت نہیں تھی تو پیپلزپارٹی اپنے دور حکومت میں ختم کر دیتی، اخباری بیانات کو بنیاد بنا کر تحریکیں پیش کرنے کی اجازت نہ دی جائے، پہلے کونسل کی سفارشات کو ایوان میں پیش کیا جائے پھر اس پر بحث کی جا سکتی ہے۔

پیر کو سینٹ اجلاس کے دور ان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر فرحت اللہ بابر نے 13 جنوری 2014ء کو اسلامی نظریاتی کونسل کے کام اور حالیہ بیانات کو زیر بحث لانے کی اپنی تحریک پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہاکہ اسلامی نظریاتی کونسل نے ڈی این اے ٹیسٹ کو مسترد کرتے ہوئے اس کی بناء پر سزائیں نہ دینے کی سفارش کی جبکہ سپریم کورٹ نے ریپ کیسز میں اسے لازمی قرار دیا ہے اور ساری دنیا میں اس ٹیسٹ کو مانا جاتا ہے، اسی کونسل نے اپنی اندرونی بحث میں ناموس رسالت قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے قانون میں ترمیم کی ضرورت پر زور دیا تاہم بعد ازاں اس سے انکار کر دیا گیا فرحت اللہ بابر نے کہاکہ کونسل نے 2008ء میں 90 فیصد قوانین کی اسلام کی تعلیمات کے مطابق نظرثانی کرنے کی تجویز دی تھی۔

اسلامی نظریاتی کونسل اپنا کام مکمل کر چکی ہے، وفاقی شرعی عدالت بھی یہی کام کر رہی ہے جو کونسل کر رہی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی اب کوئی ضرورت ہے جبکہ وہ اپنے ذمہ جو کام تھا اسے مکمل کر چکی ہے، کونسل کے ارکان سیاسی جماعتوں کے کارکن ہیں، کونسل عوام کے ذہنوں میں کنفیوژن پیدا کرنے کا باعث بن رہی ہے، یہ ادارہ ڈکٹیٹر کی باقیات ہے اور کونسل کے چیئرمین اور ممبران اپنی جماعتوں کے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں، جائزہ لیا جائے کہ اس کی ضرورت ہے یا نہیں۔

۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے مطابق زنا کے تمام مقدمات میں تحقیقات کے لئے ڈی این ٹیسٹ کروانے اور اس کے نمونے محفوظ کرنے کے لئے کہا گیابلکہ اسے لازمی قرار دیا گیا۔ گزشتہ سال ستمبر میں کونسل نے پہلے تو اس قرارداد کی سفارشات کی منظوری دی جس میں توہین رسالت کے مقدمے میں جھوٹا الزام لگانے والے کے لئے سزا تجویز کی گئی تھی تاہم اس کے بعد اس قرارداد کی سفارشات کو ختم کر دیا گیا۔

حال ہی میں کونسل نے ایک ایسے قانون کے مسودے کو جس میں عمررسیدہ لوگوں کے لئے گھر بنائے جانے تھے، یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ یہ اقدام معاشرے کے رسم و رواج کے خلاف ہے۔ کونسل نے خواتین کے تحفظ کا بل مجریہ 2006 یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ یہ قرآن اور شریعت کی روح کے منافی ہے۔ کونسل کی جانب سے اس قسم کی سفارشات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ یہ کونسل موجودہ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

20/01/2014 - 21:29:42 :وقت اشاعت