بامعنی مذاکرات کے سوا دوسرے راستے امن کے حصول کو دہائیوں پیچھے دھکیلے گے ،مولانا ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 20/01/2014 - 20:38:21 وقت اشاعت: 20/01/2014 - 20:38:21 وقت اشاعت: 20/01/2014 - 20:35:34 وقت اشاعت: 20/01/2014 - 20:34:04 وقت اشاعت: 20/01/2014 - 20:34:04 وقت اشاعت: 20/01/2014 - 20:34:04 وقت اشاعت: 20/01/2014 - 20:32:01 وقت اشاعت: 20/01/2014 - 20:32:01 وقت اشاعت: 20/01/2014 - 20:32:01 وقت اشاعت: 20/01/2014 - 20:27:19 وقت اشاعت: 20/01/2014 - 20:27:19
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

بامعنی مذاکرات کے سوا دوسرے راستے امن کے حصول کو دہائیوں پیچھے دھکیلے گے ،مولانا فضل الرحمن ، بندوق اٹھانے والے طالبان ہی نہیں بلکہ اور لوگ بھی ہیں جن کو سیاسی پشت پناہی حاصل ہے، حکومت کو مذاکرات کے حوالے سے ناکامی کا تاثر نہیں دینا چاہیئے، گڈ اور بیڈ طالبان کی اصطلاح ہم نے ایجاد نہیں کی ،سربراہ جے یو آئی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔20 جنوری ۔2014ء)جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ طالبان کو آئینی دائرے میں لانے کے لئے بامعنی مذاکرات کے سوا دوسرے راستے امن کے حصول کو دہائیوں پیچھے دھکیلے گے، وقت آگیا ہے کہ ان حالات کا سد باب کیا جائے جس نے طالبان کو جنم دیا ۔ پیرکوجاری بیان کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آئین کی بات کر نے والے یہ بات بھول گئے ہیں کہ جتنے طالبان آئین کی خلاف ورزی کر تے ہیں اتنے ہی ان میں آمر بھی شامل ہیں جن کو آج بھی وی آئی پی پروٹوکول دیا جارہا ہے ۔

انہوں نے کہا ہے کہ ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والے طالبان ہی نہیں بلکہ اور لوگ بھی ہیں جن کو سیاسی پشت پناہی حاصل ہے اور وہ عسکریت پسند بھی ہیں، گڈ اور بیڈ طالبان کی اصطلاح ہم نے ایجاد نہیں کی ۔انہوں نے کہا ہے

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

20/01/2014 - 20:34:04 :وقت اشاعت