35لاپتہ افراد کیس پر عدالتی فیصلہ ، عدالت کی جانب سے جبری گمشدگی کا ذمہ دار فوج ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 19/01/2014 - 15:27:23 وقت اشاعت: 19/01/2014 - 15:26:47 وقت اشاعت: 19/01/2014 - 15:26:47 وقت اشاعت: 19/01/2014 - 15:25:53 وقت اشاعت: 19/01/2014 - 15:25:53 وقت اشاعت: 19/01/2014 - 15:25:53 وقت اشاعت: 19/01/2014 - 14:54:29 وقت اشاعت: 19/01/2014 - 14:19:35 وقت اشاعت: 19/01/2014 - 14:19:35 وقت اشاعت: 19/01/2014 - 14:18:34 وقت اشاعت: 19/01/2014 - 14:18:34
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

35لاپتہ افراد کیس پر عدالتی فیصلہ ، عدالت کی جانب سے جبری گمشدگی کا ذمہ دار فوج کو ٹھہرانے سے افواج کا مورال کم ہوگا ،وزارت دفاع ، فیصلے کے ملک میں اور بیرونِ ملک میں ریاست پر تباہ کن اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ،درخواست میں موقف ،وزارت دفاع نے عدالتی فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست دائر کر دی ، آبزرویشن اور ریمارکس کو حذف کئے جانے کی استدعا ،جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا ایک رکنی بنچ (کل)سے لاپتہ یاسین شاہ کیس کی دوبارہ سماعت کریگی

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔19 جنوری ۔2014ء) وزارت دفاع نے دس دسمبر 2013کو 35 لاپتہ افراد کے کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے جاری فیصلے پر کہا ہے کہ عدالت کی جانب سے جبری گمشدگی کا ذمہ دار پاکستانی فوج کو ٹھہرانے سے افواج کا مورال کم ہوگا جو سوات اور مالاکنڈ میں دہشتگردوں سے جنگ میں مصروف ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق فیصلے پر عدالت کی جانب سے نظر ثانی کی پٹیشن دائر کرتے ہوئے وزارتِ دفاع نے مجاز عدالت سے درخواست کی کہ ملک کو وقوم کے مفاد میں افواجِ پاکستان اور انٹیلی جنس اداروں کیخلاف ریکارڈ کی گئے الفاظ، شواہد اور تفصیلات کو مٹادیا جائے۔

وزارت نے زور دیا کہ ان آبزرویشن اور ریمارکس کو اسطرح حذف کیا جائے کہ یہ فیصلے کا حصہ نہیں تھی۔ریویو پٹیشن کا ڈرافٹ ایڈیشنل اٹارنی جنرل شاہ خاور نے تیار کیا جس میں یہ کہا گیا کہ عدالت یہ جاننے میں ناکام رہی ہے کہ مالاکنڈ اور سوات میں فوج کو آرٹیکل 245 کے تحت بلایا گیا ہے تاکہ وہ دہشتگردی سے شدید متاثر علاقے میں سول انتظامیہ کی مدد کرسکے۔

جب آرمی کو آئینی ڈیوٹی کے تحت سول اتھارٹیز کی مدد

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

19/01/2014 - 15:25:53 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان