بنوں ، سیکورٹی فورسز پردھماکے میں شہادتوں کی تعداد22 ہو گئی، بارودی مواد ایف سی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 19/01/2014 - 13:19:09 وقت اشاعت: 19/01/2014 - 13:19:09 وقت اشاعت: 19/01/2014 - 12:55:43 وقت اشاعت: 19/01/2014 - 12:55:16 وقت اشاعت: 19/01/2014 - 12:55:16 وقت اشاعت: 19/01/2014 - 12:39:18 وقت اشاعت: 19/01/2014 - 12:00:50 وقت اشاعت: 19/01/2014 - 12:00:50 وقت اشاعت: 19/01/2014 - 11:55:02 وقت اشاعت: 19/01/2014 - 11:55:02 وقت اشاعت: 19/01/2014 - 11:55:02
پچھلی خبریں - مزید خبریں

بنوں

بنوں ، سیکورٹی فورسز پردھماکے میں شہادتوں کی تعداد22 ہو گئی، بارودی مواد ایف سی کی جانب سے کرائے پر لی گئی نجی گاڑی میں نصب کیا گیا تھا، کالعدم تحریک طالبان نے ذمہ داری قبول کر لی

بنوں(رحمت اللہ شباب۔ اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔19جنوری۔2014ء)بنوں میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے میں دھماکے سے 22 اہلکار شہید اور 30 زخمی ہوگئے۔ بارودی مواد ایف سی کی جانب سے کرائے پر لی گئی نجی گاڑی میں نصب کیا گیا تھا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بنوں سے ہر ہفتے اور اتوار کو فورسز کے قافلے اہل کاروں کی تعیناتی اور سامان کی ترسیل کے لیے شمالی وزیرستان جاتے ہیں۔

یہ عمل روڈ آپریشنل ڈیپلائے منٹ کہلاتا ہے اور اس مقصد کے لیے نجی گاڑیاں بھی کرائے پر لی جاتی ہیں۔ اتوار کی صبح بھی میران شاہ جانے کے لیے فورسز کے قافلے میں شامل گاڑیاں بنوں کینٹ میں رزمک گیٹ پر جمع ہورہی تھیں۔ اس دوران 8 بجکر 45 منٹ پر قافلے میں شامل ایک نجی گاڑی میں دھماکا ہوگیا۔ دھماکا اتنا زور دار تھا کہ پورے بنوں میں اس کی آواز سنی گئی۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جس گاڑی میں بارودی مواد نصب کیا گیا اس میں ایف سی کے اہل کار سوار تھے۔ لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر کمبائنڈ ملٹری اسپتال بنوں منتقل کیا گیا۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کا محاصرہ کرلیا اور کسی کو دھماکے کے مقام کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ذرائع کے مطابق اس بارے میں تحقیقات شروع کردی گئی ہیں کہ پرائیوٹ گاڑی کس کے ذریعے اور کس سے کرائے پر لی گئی تھی۔

آئی ایس پی آر نے20شہادتوں اور30اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے، 15کا تعلق شوال رائفلز جبکہ 5کا تعلق پاکستان آرمی سے ہےھماکے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کرلی۔ ترجمان شاہد اللہ شاہد نے نامعلوم مقام سے ٹیلی فون پر بتایا کہ ہم اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں سیکورٹی فورسز ہمارے خلاف کاروائیاں کرتے ہیں لہٰذا اس کے خلاف ہماری کاروائیاں جاری رہے گی۔

19/01/2014 - 12:39:18 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان