فلسطینی کی حمات میں بیان ، اسرائیل نے یورپی یونین کے سفیروں کو وزارت خارجہ طلب ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ جنوری

مزید بین الاقوامی خبریں

وقت اشاعت: 18/01/2014 - 15:24:23 وقت اشاعت: 18/01/2014 - 15:24:23 وقت اشاعت: 18/01/2014 - 15:24:23 وقت اشاعت: 18/01/2014 - 13:25:04 وقت اشاعت: 18/01/2014 - 13:25:04 وقت اشاعت: 18/01/2014 - 13:25:04 وقت اشاعت: 18/01/2014 - 13:23:32 وقت اشاعت: 18/01/2014 - 13:23:32 وقت اشاعت: 18/01/2014 - 13:19:32
-

فلسطینی کی حمات میں بیان ، اسرائیل نے یورپی یونین کے سفیروں کو وزارت خارجہ طلب کرلیا

مقبوضہ بیت المقدس (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 18جنوری 2014ء)فلسطین کی حمایت میں بیان جاری کرنے پر اسرائیل نے یورپی یونین کے سفیروں کو وزارت خارجہ طلب کرلیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیرخارجہ نے لائبرمین نے برطانیہ، فرانس، اسپین اور اٹلی کے سفیروں کو طلب کرنے کا حکم دیا ہے۔اسرائیلی حکام کے مطابق یہودی بستیوں کی تعمیر کے حوالے سے یک طرفہ بیانات نا قابل قبول ہیں۔

فلسطینیوں کی حمایت میں بیانات نہ صرف متعصبانہ بلکہ حقائق سے عاری ہیں اور ان سے کسی امن معاہدے پر پہنچنے کی کوششیں متاثر ہو ں گی ۔یورپی یونین کی خارجہ امور کی نمائندہ کیتھرین ایشٹن نے بھی ان یہودی بستیوں کی تعمیر کو امن کے لیے رکاوٹ قرار دیا ہے۔دوسری جانب اسرائیل کے وزیرِ اعظم بین یامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ منافقت کو ختم کر دیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ یورپی یونین نے ہمارے سفارت کاروں کو صرف چند مکانوں کی تعمیر کرنے پر طلب کیا۔اسرائیلی حکومت نے الزام عائد کیا کہ فلسطینی اتھارٹی اپنے سرکاری میڈیا میں اسرائیل اور یہودی افراد کے خلاف شر انگیز زبان استعمال بند کرنے کے لیے کوئی اقدام نہیں اٹھاتی۔بین یامین نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے خلاف عدمِ توازن اور تعصب امن کو آگے بڑھانے کے لیے درست نہیں ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے گذشتہ ہفتے غربِ اردن اور مشرقی یروشلم میں 1400 مکانوں پر مشتمل نئی یہودی بستیاں تعمیر کرنے کا اعلان کیا تھا۔یہ اقدام گذشتہ ماہ 26 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بعد متوقع تھا تاہم اسے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے دورہِ مشرقِ وسطیٰ کے بعد تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا۔غربِ اردن اور مشرقی یروشلم پر سنہ 1967 سے اسرائیلی قصبے کے بعد 100 سے زیادہ یہودی بستیاں تعمیر کی جا چکی ہیں جن میں پانچ لاکھ سے زیادہ یہودی رہتے ہیں۔بین الاقوامی قوانین کے مطابق یہ بستیاں غیر قانونی ہیں تاہم اسرائیل اس بات سے انکار کرتا ہے۔

18/01/2014 - 13:25:04 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان