پرویزمشرف کے خلاف ٹرائل منطقی انجام تک پہنچے گا،سینیٹرمشاہداللہ خان، مشرف کے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 17/01/2014 - 20:39:12 وقت اشاعت: 17/01/2014 - 20:33:34 وقت اشاعت: 17/01/2014 - 20:33:34 وقت اشاعت: 17/01/2014 - 20:32:22 وقت اشاعت: 17/01/2014 - 20:30:30 وقت اشاعت: 17/01/2014 - 20:30:30 وقت اشاعت: 17/01/2014 - 20:25:48 وقت اشاعت: 17/01/2014 - 20:17:24 وقت اشاعت: 17/01/2014 - 20:12:00 وقت اشاعت: 17/01/2014 - 18:29:54 وقت اشاعت: 17/01/2014 - 18:22:47
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

پرویزمشرف کے خلاف ٹرائل منطقی انجام تک پہنچے گا،سینیٹرمشاہداللہ خان، مشرف کے وکلاء نوشتہ دیوار پڑھ چکے، صحافیوں کو دھمکانا قابل مذمت ہے،کارکنوں سے گفتگو

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔17 جنوری ۔2014ء)پاکستان مسلم لیگ(ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات وسینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہاہے کہ پرویزمشرف کے خلاف ٹرائل منطقی انجام تک پہنچے گا او رعدالتی فیصلے سے ایسی قانونی نظیر قائم ہوگی کہ آئندہ کسی کو غیر جمہوری اور غیر آئینی اقدامات کرنے کی ہمت نہیں ہوگی- انہوں نے کہاکہ مشرف کے وکلاء کی جانب سے مشرف ٹرائل کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو دھمکانا اور اُن پر الزامات عائد کرنا نہایت ہی شرمناک اور قابل مذمت ہے-مشرف کے وکلاء نوشتہ دیوار پڑھ چکے اور دھمکی اور دھونس سے ان کی بوکھلاہٹ عیاں ہوچکی ہے-مشاہداللہ خان نے کہاکہ مشرف کو پاکستان کاکمانڈو کہنے والے اسے ایک بار بھی عدالت کے سامنے پیش نہ کرسکے- یہ وہی کمانڈو ہیں جو چند ماہ قبل کمرہ عدالت میں اپنے وکلاء کو چھوڑ کر کھلے عام بھاگ گئے تھے او رآج بھی بار بار وردی کا واسطہ دے کر دہائیاں دے رہے ہیں-انہوں نے ان خیالات کا پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ اسلام آباد میں کارکنوں سے گفتگو خطاب کرتے ہوئے کیا- سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ بعض سیاسی جماعتیں جنرل مشرف کے ٹرائل سے خوفزدہ ہیں۔

مشرف کے ساتھیوں کے ٹرائل کا مطالبہ کرنے والے پریس کانفرنس اور اخباری بیانات کی بجائے عدالتی کارروائی میں فریق بن جائیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ یہ کہنا سرا سر گمراہی اور بد نیتی پر مبنی ہے کہ پرویز مشرف کے خلاف ٹرائل بطور آرمی چیف کیا جارہا ہے۔ مشاہداللہ خان نے کہا کہ پرویز مشرف نے آرمی چیف کے عہدے کا بے جا استعمال کر کے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کا نظر بند کیا اور مرضی کی عدالتیں تشکیل دیں۔

بطور صدر آئین کا تحفظ اور اس کی پاسداری کسی بھی صدر کا بنیادی فریضہ ہوا کرتا ہے۔ پرویز مشرف نے وردی پہن کر صدارتی انتخابات میں حصہ لیا اور بعد ازاں اپنے مذموم اور غیر آئینی اقدامات کی خاطر آرمی چیف کے عہدے کے تقدس کو پامال کیا۔ انھوں نے کہا کہ 12اکتوبر 1999ء کے اقدامات کو اسمبلیوں کے ذریعے تحفظ فراہم کیا گیا۔ تحفظ فراہم کرنے والے ہم نہیں‘ پریس کانفرنس کرنے والے اور 10بار باوردی صدر منتخب کروانے کے خواہش مند لوگ تھے۔ اب معاملات حکومت کے نہیں بلکہ عدالت کے دائرہ اختیار میں ہے۔ کوئی بھی شہری ایک درخواست دے کر پرویز مشرف غداری کیس میں فریق بن سکتا ہے۔ بیانات دینے والے جرا ت کا مظاہرہ کریں اور عدالت میں آکر اپنا موقف پیش کریں-

17/01/2014 - 20:30:30 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان