پرویز مشرف غداری کیس کی سماعت جاری
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 17/01/2014 - 12:56:55 وقت اشاعت: 17/01/2014 - 12:16:39 وقت اشاعت: 17/01/2014 - 12:16:39 وقت اشاعت: 17/01/2014 - 12:15:09 وقت اشاعت: 17/01/2014 - 12:15:09 وقت اشاعت: 17/01/2014 - 12:15:09 وقت اشاعت: 17/01/2014 - 11:54:20 وقت اشاعت: 17/01/2014 - 11:50:26 وقت اشاعت: 17/01/2014 - 11:50:26 وقت اشاعت: 17/01/2014 - 11:45:03 وقت اشاعت: 17/01/2014 - 11:45:03
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

پرویز مشرف غداری کیس کی سماعت جاری

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 17جنوری 2014ء) پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس کی سماعت جاری ہے۔ مشرف کے وکیل انور منصور ایڈوکیٹ نے دلائل دیئے کہ خصوصی عدالت کیلیے عدلیہ کی بجائے کابینہ سے مشاورت کرنا تھی، جو نہیں کی گئی۔آج کیس کی سماعت کے دوران مشرف کے وکیل انور منصور ایڈووکیٹ نے ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے شوکت عزیز کا پرویز مشرف کو لکھا گیا خط پڑھ کر سنایا اور کہا کہ ایمرجنسی نفاذ کے حکم نامے کے مطابق پرویز مشرف نے مسلح افواج کے سربراہان، کور کمانڈرز سمیت دیگر شخصیات سے مشاورت کی، کارروائی صرف پرویز مشرف کے خلاف کی جا رہی ہے،ایمرجنسی حکم نامے میں لکھا ہے کہ کچھ ججز ایگزیکٹوز کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، انور منصور ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کو خصوصی عدالت کی تشکیل کا اختیار ہے، چیف جسٹس سے مشاورت قانون کا تقاضا نہیں تھا، عدلیہ کی بجائے کابینہ سے مشاورت ضروری تھی جو نہیں کی گئی، وزیراعظم کو ایک شخص سے ذاتی عناد ہے اور جس سے مشاورت کی گئی وہ بھی پرویز مشرف کے اقدامات سے متاثرہ فرد ہیں۔

ان دونوں باتوں سے حکومت کی بدنیتی ظاہر ہوتی ہے،انصاف صرف ہونا نہیں بلکہ ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے ، خصوصی عدالت کی تشکیل کانوٹی فی کیشن درست نہیں اور یہ غیر قانونی ہے۔

17/01/2014 - 12:15:09 :وقت اشاعت