قائمہ کمیٹی برائے ہاوسنگ اینڈ ورکس کااجلاس، کسی کو خوف خدا نہیں،پی ڈبلیو ڈی میں ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 16/01/2014 - 21:17:33 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 21:17:33 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 21:17:33 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 21:16:52 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 21:16:52 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 21:16:52 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 21:15:19 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 21:15:19 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 21:15:19 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 20:37:40 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 20:37:40
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

قائمہ کمیٹی برائے ہاوسنگ اینڈ ورکس کااجلاس، کسی کو خوف خدا نہیں،پی ڈبلیو ڈی میں نچلی سطح سے اوپر تک کرپشن کا بازار گرم ہے، شاہی سید ، اپنے عہدوں کو بچانے اور وزیروں کو خوش رکھنے کی پالیسی ختم کرنے ،قومی خزانے کو ہڑپ کرنے والوں سے وصولیاں کی جائیں اور عبرتناک سزائیں دی جائیں ، عوامی فلاحی ترقیاتی منصوبوں مکمل نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات بڑھیں گی،چیئرمین قائمہ کمیٹی

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔16 جنوری ۔2014ء)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاوسنگ اینڈ ورکس کے چیئرمین سینیٹر شاہی سید نے فاٹا میں پانی فراہمی کی 49کروڑ کی جعلی سکیموں پر ٹھیکیداروں کو موقع پر غیر موجود منصوبوں کی ناجائز ا دائیگیوں پر کہا ہے کہ پی ڈبلیو ڈی میں نچلی سطح سے اوپر تک کرپشن کا بازار گرم ہے کسی کو خوف خدا نہیں اپنے عہدوں کو بچانے اور وزیروں کو خوش رکھنے کی پالیسی ختم کرنے ،قومی خزانے کو ہڑپ کرنے والوں سے وصولیاں کی جائیں اور عبرتناک سزائیں دی جائیں اور کہا کہ 49کروڑ ڈکارنے والوں کو مزید ترقی دے دی گئی ہیں اور صرف انکوائیریاں کی جا رہی ہیں اور چارج شیٹ دے کر معاملہ دبانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

فاٹا میں اس سال PDSPکے فنڈز میں سے 40لاکھ کی سکیمیں موجود ہیں اور صرف 6لاکھ جاری کئے گئے ہیں اس سے وفاقی حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔شاہی سید نے کہا کہ PWDکے محکمہ نے وزیر مملکت کے عمرہ کے دوران وزیر اعظم سے جعل سازی کے ذریعے فنڈز منظوری کی سمری منظور کروائی اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کو اپنے مقصد اور مطلب کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے زبانی حکم کو تسلیم کر کے ادا ئیگیاں کر دی گئی اور تحریری حکم ناموں پر تحفظات اور سرکاری قوائد کا کہہ دیا جاتا ہے ۔

افسوس کا مقام ہے کہ محکمے ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کر رہے ۔53ملین جاری ہوئے 6ملین خرچ ہوئے اور 47ملین تاخیر کی وجہ سے حکومت کو واپس ہو جائینگے جسکی وجہ سے عوامی فلاحی ترقیاتی منصوبوں مکمل نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات بڑھیں گی۔PWDتگ و دو کے ذریعے جلد از جلد فنڈز حاصل کرے پہلی سہ ماہی دفتری کام میں دوسری سہ ماہی فنڈز کے اجراء میں ضائع کر دی جاتی ہے جس وزارت میں 2ماہ سے سیکریٹری نہیں اور ڈی جی بار بار تبدیل ہوتے ہیں اور مستقل ڈی جی کی ابھی تک تعیناتی نہیں کی جا سکی ۔

اس محکمے نے ترقیاتی سکیموں کو کیا مکمل کرنا ہے ۔محکمہ PWDوزیر کو بھی چکر دے جاتا ہے اور وزارت کے حکام غلط بیانی کے ذریعے فیصلے کروا لیتے ہیں ۔سٹیٹ آفس میں غریب ملازمین سے 5سے 8لاکھ تک روشوت لے کر مکان کی الاٹمنٹ کی جا تی ہے۔پہلے مکان الاٹ کیا جاتا ہے اور نوٹس کے ذریعے دوبارہ رشوت کا بازار گرم کیا جاتا ہے ۔PWDمیں اربوں روپے کے گھپلوں کے ذمہ داروں کے خلاف کاروئی کی تفصیلی

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

16/01/2014 - 21:16:52 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان