مشرف غداری کیس، ملزم کے پیش نہ ہونے پر عدالت برہم، میڈیکل بورڈ تشکیل دینے ، 24 جنوری ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 16/01/2014 - 20:21:49 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 20:16:21 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 20:16:21 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 20:15:32 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 20:14:14 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 20:14:14 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 20:07:46 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 20:07:46 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 19:56:51 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 19:56:51 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 19:01:44
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

مشرف غداری کیس، ملزم کے پیش نہ ہونے پر عدالت برہم، میڈیکل بورڈ تشکیل دینے ، 24 جنوری تک رپورٹ جمع کرانے کا حکم،میرے موکل کی طبیعت ٹھیک نہیں،حاضری سے استثنیٰ دیاجائے،وکیل دفاع … چاہے ائیر ایمبولینس پرہی کیوں نہ لانا پڑے، پیش کیاجائے،عدالت، ملزم کی عدالت میں عدم پیشی پر ڈائریکٹر وزارت داخلہ کی طلبی، پیش نہ ہونا ملزم کا ذاتی فعل ہے،ہماراکام سیکورٹی فراہم کرنا ہے جو کی گئی،عامرندیم،ججز نظر بندی کیس میں سابق صدرکو 27 جنوری کو پیش ہونے کا حکم، ضامنوں کو بھی نوٹسز جاری

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔16 جنوری ۔2014ء)پرویز مشرف غداری کیس میں خصوصی عدالت نے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیتے ہوئے کہاہے کہ بورڈ 24 جنوری تک اپنی رپورٹ داخل کرے جبکہ ججز نظر بندی کیس میں سابق صدر مشرف کو 27 جنوری کو پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے سابق صدر کے ضامنوں کو بھی نوٹسز جاری کردیئے گئے،جمعرات کو سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں خصوصی عدالت کے تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جب سماعت شروع ہوئی تو عدالت نے وکلاء سے پرویز مشرف کے بارے میں پوچھا کہ وہ کہاں ہیں جس پر پرویز مشرف کے وکلاء نے کہا کہ پرویز مشرف ہسپتال میں ہیں اور ان کی طبیعت ٹھیک نہیں جس کے باعث ڈاکٹرز نے انہیں عدالت میں پیش ہونے کی واضح طور پر اجازت نہیں دی۔

وکلاء نے درخواست کی کہ پرویز مشرف کو حاضری سے استثنیٰ دے دیا جائے جس پر عدالت نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے پرویز مشرف کو دوپہر بارہ بجے تک ہرحال میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ چاہے انہیں ایئرایمبولیس کے ذریعے ہی لایا جائے آپ انہیں پیش کریں،اس پرسابق صدر پرویز مشرف کے وکیل الیاس صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ سابق صدر اسپتال میں زیر علاج ہیں وہ عدالت آنے کے قابل نہیں، انہیں حاضری سے استثنی دیا جائے۔

الیاس صدیقی نے کہا کہ سابق صدر کو سیکورٹی خدشات بھی ہیں اس لئے عدالت محفوظ مقام پر منتقل کی جائے،تاہم مقررہ وقت گزر گیا نہ ایمبولینس آئی نہ مشرف، سماعت دوبارہ شروع ہونے پرعدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور ڈائریکٹر وزارت داخلہ کو وضاحت کے لئے طلب کرلیا، پراسیکیوٹر عامر ندیم کا بیان میں کہنا تھا کہ ملزم ضمانت پر ہے، عدالت میں پیش ہونا یا نہ ہونا اس کا ذاتی فعل ہے، حکومت کا کام سیکیورٹی فراہم کرنا ہے جو کی گئی ،اس پرعدالت نے سابق صدرپرویز مشرف کی صحت کے حوالے سے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیتے ہوئے کہاکہ بورڈ 24 جنوری تک اپنی رپورٹ داخل کرے، عدالتی حکم میں کہا گیا کہ اے ایف آئی سی کے سینئر ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے ،میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے بعد پراسیکیوٹراکرم شیخ کے اعتراضات کا جائزہ لیا جائے گا، میڈیکل بورڈ پرویز مشرف کی صحت سے متعلق اپنی رپورٹ پیش کرے اور بتائے کہ پرویز مشرف کتنے علیل ہیں، عدالت کو یہ بھی بتایا جائے کہ پرویزمشرف نے کیا اس سے پہلے کبھی سرجری کرائی ہے، میڈیکل بورڈ بتائے پرویز مشرف کب تک زیرعلاج رہیں گے؟جبکہ انسداد دہشت گردی عدالت نے ججز نظر بندی کیس میں سابق صدر مشرف کو 27 جنوری کو پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے سابق صدر کے ضامنوں کو بھی نوٹسز جاری کردیئے ۔

خصوصی عدالت میں غداری کے مقدمے کی سماعت کے ساتھ ساتھ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ججز نظر بندی کیس اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں خصوصی عدالت میں پیشی کے خلاف درخواست کی سماعتیں ہوئیں،پرویز مشر ف کے خلاف ججز نظر بندی کیس کی سماعت جسٹس عتیق الرحمان نے کی ۔ پبلک پراسیکیوٹر عامرندیم تابش،چیف کمشنر آفس سے ڈائریکٹر ایڈمن چوھدری محمد علی عدالت میں پیش ہوئے۔واضح رہے کہ گزشتہ سماعت پربھی پرویز مشرف کے وکلاء نے میڈیکل کو بنیاد بنا کر مشرف کی عدالت میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی تھی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے اگلی سماعت پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا ۔

16/01/2014 - 20:14:14 :وقت اشاعت