مغرب منتظر کہ نواز شریف فرقہ وارنہ تشددروکنے کے قابل ہو جائیں گے،امریکی اخبار
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 16/01/2014 - 13:04:37 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 13:04:37 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 12:51:43 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 12:21:22 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 12:20:03 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 12:20:03 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 12:20:03 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 12:03:21 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 11:56:20 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 11:47:57 وقت اشاعت: 16/01/2014 - 11:47:57
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

مغرب منتظر کہ نواز شریف فرقہ وارنہ تشددروکنے کے قابل ہو جائیں گے،امریکی اخبار

span dir=\"rtl\" class=\"lblUrduNewsDescription\" id=\"ContentPlaceHolder1_lblNewsDetail\">کراچی(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 16جنوری 2014ء)امریکی اخبار”واشنگٹن پوسٹ“ لکھتا ہے کہ فرقہ واریت کے پر تشدد واقعات اور ہلاکتوں میں اضافے سے پاکستان کے استحکام کے بارے نئے خدشات نے سر اٹھا لیا ہے۔بڑے شہروں میں مختلف فرقوں کے خلاف تشدد اورپروفیشنلز کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

انتہا پسند چاہتے ہیں کہ تعلیم یافتہ اور بہترین اذہان کو ملک چھوڑنے پر مجبورکر دیا جائے۔یہ بحران ایسے نازک موقع پر جنم لے رہا ہے جب نیٹو افواج کا افغانستان سے انخلاء ہونے جا رہا ہے اورامریکی رہنماتوقع کر رہے ہیں کہ پاکستان رواں برس علاقائی استحکام برقرار رکھنے میں مدد کرسکتا ہے۔تاہم مبصرین کے نزدیک پاکستان میں کسی بھی قسم کی فرقہ وارانہ کشیدگی افغانستان میں آسانی سے داخل ہو سکتی ہے جہاں مذہبی اور نسلی دشمنیاں پہلے ہی پیچ و تاب کی حالت میں ہیں۔

گزشتہ برس 687فرقہ وارانہ ہلاکتیں ہوئیں جو 2012 سے 22فی صد زیادہ تھیں۔گزشتہ برس پرتشدد اور دہشت گردی کے واقعات میں 4725ہلاکتیں ہوئیں۔ ملک بھر میں فرقہ وارانہ بدامنی تسلسل کے ساتھ پھیل رہی۔پاکستان فرقہ وارانہ کشیدگی کے باوجود ایسے بحران سے بڑی حد تک محفوظ ہے جس طرح عراق اور شام ڈوب گیا ۔لیکن تجزیہ کار اور کچھ پاکستانی سیاسی رہنما یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ وزیر اعظم نواز شریف 18کروڑ کے جوہری ملک میں امن و امان برقرار رکھ سکے گے۔

فرقہ وارانہ کشیدگی نہ صرف کسی دہشت گردی کے واقعات کے بعد پیدا ہوتی ہے بلکہ مختلف فرقوں میں جھڑپیں بھی معمول بنتی جا رہی ہیں۔امریکی تھنک ٹینک کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ مغربی حکام اور انسانی حقوق گروپ ابھی تک واضح سگنل کے منتظر ہیں کہ نواز شریف مذہبی انتہا پسندی کی بڑھتی ہوئی لہر کو دبانے کے قابل ہو جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ فرقہ واریت کی یہ لہر تیزی پکڑے گی۔

ایک ایشیائی تھنک ٹینک کے مطابق1989کے بعد سے سب سے زیادہ فرقہ واریت

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

16/01/2014 - 12:20:03 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان