بلوچستان اسمبلی نے دومختلف قراردادوں کواکثریت رائے سے منظورکرلیا
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ جنوری

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 15/01/2014 - 22:15:48 وقت اشاعت: 15/01/2014 - 22:14:24 وقت اشاعت: 15/01/2014 - 22:13:09 وقت اشاعت: 15/01/2014 - 21:09:26 وقت اشاعت: 15/01/2014 - 21:09:26 وقت اشاعت: 15/01/2014 - 21:01:04 وقت اشاعت: 15/01/2014 - 21:01:04 وقت اشاعت: 15/01/2014 - 20:48:03 وقت اشاعت: 15/01/2014 - 20:43:43 وقت اشاعت: 15/01/2014 - 20:38:55 وقت اشاعت: 15/01/2014 - 20:32:31
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کوئٹہ

بلوچستان اسمبلی نے دومختلف قراردادوں کواکثریت رائے سے منظورکرلیا

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔15 جنوری ۔2014ء) بلوچستان اسمبلی نے کوئٹہ ژوب ڈیرہ اسماعیل خان قومی شاہراہوں پر ہائی وے پولیس کی تعیناتی اور سپیڈ کنٹرول کرنے سے متعلق صوبائی وزراء اراکین اسمبلی کی دو مختلف قرار دادوں کو اکثریت رائے سے منظور کرلیا بدھ کو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس سپیکر میر جان محمد جمالی کی صدارت میں ہوا جس میں صوبائی وزیر شیخ جعفر خان مندوخیل عبدالرحیم زیارتوال عبیداللہ بابت لیاقت آغا مجید اچکزئی نصر اللہ زیرے عارفہ صدیق سپوژمئی اچکزئی معصومہ حیات منظور کاکڑ اور ولیم برکت کی جانب سے پیش کی گئی ایک جیسی دو قرار دادیں منظور کرلی پہلی قرار داد شیخ جعفر خان مندوخیل نے پیش کرتے ہوئے کہاکہ کوئٹہ ڈیرہ اسماعیل خان ہائی ویز پر آئے روز ٹریفک میں اضافے کی وجہ سے حادثات کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے اضافہ لوڈنگ اور بے قابو ڈرائیونگ کی روک تھام کیلئے ضروری ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی مذکورہ ہائی ویز پر پولیس کی تعیناتی عمل میں لائے دوسری قرار داد عبدالرحیم زیارتوال نے پیش کرتے ہوئے کہاکہ کوئٹہ ڈیرہ اسماعیل خان ہائی ویز کی تعمیر کے بعد ٹریفک کیلئے اہمیت اختیار کرچکا ہے ٹریفک کے رش میں اضافے کے باعث ٹریفک پولیس چیک نظام اور سپیڈ کنٹرول موجود نہ ہونے کی وجہ سے ٹریفک کے حادثات میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے اس طرح بہت سے خاندان اور گھر اجڑ چکے ہیں اس کے علاوہ ژوب سے درازندہ تک سڑک کی حالت انتہائی خستہ اور سفر کے قابل نہیں ژوب ڈیرہ اسماعیل خان شاہراہ کے باقی ماندہ حصے کو فوری تعمیر اور فنڈز مہیا کرنے کی ضرورت ہے وفاقی حکومت ژوب ڈیرہ اسماعیل خان شاہراہ کو ہائی ویز پولیس بلا تاخیر مہیا اور ژوب ترازندہ تک فوری طور پر سڑک کی تعمیر کی جائے شیخ جعفر خان مندوخیل نے اپنی قرار داد پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ جب سے کوئٹہ ژوب قومی شاہراہ تعمیر مکمل ہوئی ہے رش ہونے کی وجہ سے آئے روز ٹریفک حادثات میں اضافہ ہوگیا ہے انہوں نے کہاکہ ایک بات واضح ہے کہ یہ شاہراہ ایک آمر کے دور میں بنی ہے پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور حکومت میں اس کی بہتری کیلئے کوئی کام نہیں ہوا ہے پی پی حکومت کو بار بار یاد دہانی کرائی لیکن کوئی عملدرآمد نہیں ہوا انہوں نے کہاکہ کوئٹہ ژوب ڈیرہ اسماعیل خان قومی شاہراہ کی تعمیر سے اسلام آباد پشاور کیساتھ منسلک ہوجاتا ہے ڈیزل کی بچت کے علاوہ سیکورٹی کے حوالے سے بھی یہ شاہراہ انتہائی محفوظ ہے البتہ کچھ واقعات ضرور ہوئے ہیں انہوں نے کہاکہ زیادہ ٹریفک ہونے کی وجہ سے حادثات رونما ہورہے ہیں جس کی وجہ سے قیمتی جانیں ضائع ہورہی ہیں اس لئے وفاقی حکومت پنجاب سندھ اور خیبر پختونخوا کی طرح بلوچستان کی قومی شاہراہوں پر بھی ٹریفک پولیس تعینات کرے تاکہ حادثات کی روک تھام ہوسکے ڈاکٹر حمید اچکزئی نے کہاکہ ریکارڈ کی درستگی کیلئے یہ بتانا ضروری ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان ژوب قومی شاہراہ کیلئے متعدد بار وزیراعظم اور دیگر حکام سے ملاقاتیں اور اجلاس کرچکے ہیں یہ الگ بات ہے کہ مشرف دور میں اس پر کام ہوا مگر اس شاہراہ کی تعمیر کیلئے ہماری کوششیں بہت پہلے سے جاری تھیں عبدالرحیم زیارتوال نے کہاکہ کوئٹہ ژوب ڈیرہ اسماعیل خان قومی شاہراہ پر کام کا آغاز 1993ء میں ہوا جب نواب ایاز جوگیزئی اور ڈاکٹر حامد اچکزئی قومی اسمبلی کے اراکین تھے یہ بات ہمارے لئے اہم نہیں کہ کام کس دور میں شروع ہوا کوئی اگر اسے اپنے کھاتے میں ڈالنا چاہے تو یہ الگ بات ہے یہ پر شیخ جعفر خان مندوخیل نے کہاکہ غیر پارلیمانی الفاظ کے استعمال سے گریز کیا جائے ڈاکٹر حامد خان اچکزئی نے بھی موقف کا اظہار کیا مگر انہوں نے پارلیمانی زبان استعمال کی جس پر سپیکر نے غیر پارلیمانی الفاظ حذف کرائے عبدالرحیم زیارتوال نے کہاکہ ہم اپنی روایات کے پابند ہیں مگر جب کوئی آمر کی بات کرے گا اور آمر کو ہیرو بنانے کی کوشش کرے گا تو ہم ضرور بات کرینگے سابق آمر پر آج مقدمہ چل رہا ہے سپریم کورٹ نے تمام آمروں کو غلط قرار دیا ان کے تمام اقدامات اور ون یونٹ کو غلط قرار دیا ہے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ دونوں جماعتوں نے کبھی آمریت کی حمایت نہیں کی بلکہ جمہوریت کیلئے جدوجہد کی اور اس کیلئے قربانیاں دی ہیں انہوں نے کہاکہ ژوب ڈیرہ اسماعیل خان روڈ کی تعمیر کیلئے ہم نے بارہا آواز بلند کی جس کے بعد کام ہوا مگر حصہ کچھ ابھی باقی ہے سڑک پر اکثر اوقات حادثات ہوتے رہتے ہیں اب تک کئی قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہیں ہم چاہتے ہیں کہ اس شاہراہ پر ٹریفک کنٹرولنگ سسٹم اور ہائی وے پولیس ہو انہوں نے کہاکہ کوئٹہ سے ژوب کا فاصلہ 200 میل سے زیادہ ہے اور یہ فاصلہ 4 گھنٹے میں طے ہوتا ہے لیکن اس سے آگے 100 کلو میٹر کا فاصل بھی 4 گھنٹوں میں طے ہوتا ہے کیونکہ سڑک کی حالت انتہائی خراب ہے سڑک کا کچھ حصہ بلوچستان اور کچھ خیبر پختونخوا میں ہے ہم نے خیبر پختونخوا حکومت سے بات کی ہے کہ آئیں وفاق سے ملکر بات کرتے ہیں کہ سڑک کا کام جلد مکمل کیا جائے انہوں نے کہاکہ یہ راستہ مختصر ہونے کیساتھ باقی تین صوبوں سے ملتا ہے اس لئے اس پر رش بڑھتا جارہا ہے انہوں نے زور دیا کہ سڑک کی تعمیر کا کام مکمل کیا جائے مذکورہ شاہراہ سمیت کوئٹہ کراچی اور کوئٹہ چمن شاہراہ پر بھی پولیس ٹریفک کنٹرول سسٹم ہو پشتونخوا

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

15/01/2014 - 21:01:04 :وقت اشاعت