آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت ملک بھر میں جشن عید میلا د النبی انتہائی مذہبی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 15/01/2014 - 20:43:43 وقت اشاعت: 15/01/2014 - 20:40:53 وقت اشاعت: 15/01/2014 - 20:40:53 وقت اشاعت: 15/01/2014 - 20:40:53 وقت اشاعت: 15/01/2014 - 20:40:07 وقت اشاعت: 15/01/2014 - 20:40:07 وقت اشاعت: 15/01/2014 - 20:38:55 وقت اشاعت: 15/01/2014 - 20:38:55 وقت اشاعت: 15/01/2014 - 20:29:55 وقت اشاعت: 15/01/2014 - 20:29:55 وقت اشاعت: 15/01/2014 - 20:28:29
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت ملک بھر میں جشن عید میلا د النبی انتہائی مذہبی جوش وجذبے اور عقیدت و احترام سے منایا گیا دہشتگردی کے خطرے کے پیش صوبائی دارالحکومتوں سمیت مختلف شہروں میں موبائل فون 10سے زائد گھنٹے بند رہی ، عاشقان رسول کی حفاظت کیلئے ہزاروں اہلکار سکیورٹی کے فرائض سر انجام دیتے رہے ، حساس علاقوں میں ہیلی کاپٹرسے فضائی نگرانی کی گئی ، ڈبل سواری پر پابندی کے باعث کو شدید مشکلات کا سامنا کر نا پڑا

اسلام آباد/راولپنڈی /کراچی/لاہور/کوئٹہ /پشاور/مظفر آباد/گلگت (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔15 جنوری ۔2014ء)آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت ملک بھر میں جشن عید میلا د النبی انتہائی مذہبی جوش وجذبے اور عقیدت و احترام سے منایا گیا ،دہشتگردی کے خطرے کے پیش صوبائی دارالحکومتوں سمیت مختلف شہروں میں موبائل فون 10سے زائد گھنٹے بند رہی ، عاشقان رسول کی حفاظت کیلئے ہزاروں اہلکار سکیورٹی کے فرائض سر انجام دیتے رہے ، حساس علاقوں میں ہیلی کاپٹرسے فضائی نگرانی کی گئی ، ڈبل سواری پر پابندی کے باعث کو شدید مشکلات کا سامنا کر نا پڑا ۔

تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں جشن عیدمیلادالنبی مذہبی جوش وجذبے اور عقیدت و احترام سے منایاگیا اس سلسلے میں ملک بھرمیں عید میلاد النبی کے تقریباً 10 ہزار سے زائد جلوس نکالے گئے ، 20 ہزار سے زائد مقامات پر سیرت النبی کانفرنسز کا انعقادکیا گیا اور ہزاروں محافل نعت منعقدکی گئیں،جشن عید میلاد النبی کے سلسلہ میں مساجد،سرکاری ونجی عمارات پر چراغاں کیا گیا جبکہ گھروں ،گلیوں اورمحلوں کو رنگ برنگی جھنڈیوں سے سجایا گیا تھا اسی طرح جلوسوں کے تمام روٹس کو بھی رنگ برنگی جھنڈیوں اور برقی قمقموں سے سجایا گیا تھا۔

ملک بھر کی طر ح صوبائی دارالحکومت لاہور میں بھی دو بڑے مرکزی جلوس نکالے گئے جن کیلئے میلاد کمیٹی کی طرف سے ضابطہ اخلاق مرتب کیاگیا تھا جس کے تحت تمام جلوس غیر شرعی حرکات سے پاک، مذہبی فرقہ وارانہ اقدامات سے گریز ، شرپسند عناصر پر کڑی نگاہ رکھنے، ضلعی انتظامیہ سے مکمل تعاون اور اس دن کی افادیت کے پیش نظر مکمل تقدس برقرار رکھا گیا،پولیس کی طرف سے بھی سیکورٹی کے فول پروف انتظامات کئے گئے تھے ۔

صوبائی دارالحکومت لاہورمیں79واں قدیمی مرکزی جلوس جشن عیدمیلادالنبی جامع مسجدحنفیہ محلہ کشمیری سادھواں اندرون اکبری گیٹ سے بعدازنمازظہرچیئرمین مرکزی جلوس جشن عید میلاد النبیکمیٹی محمداشفاق قادری، سجادہ نشین دربار شاہ محمد غوث، سید پیر مکرم علی شاہ، علامہ مقصود احمد قادری اور صدر تحفظ ناموس رسالت محاذ علامہ صاحبزادہ رضائے مصطفی نقشبندی کی زیرقیادت نکالاگیا۔

اس میں سنی اتحاد کونسل، تحفظ ناموس رسالت محاذ، مصطفائی تحریک، بزم نوجوانان اہلسنت مسجد عائشہ صدیقہ پیرگیلانیاں،بزم شمسیہ فیض باغ شمالی لاہور، بزم جامعہ حیات القرآن چوک نواب صاحب، بزم شان مصطفی، المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ، فیضان ویلفیئر آرگنائزیشن ڈیرہ میاں صاحب کدھر شریف، دارالعلوم جماعتیہ رضویہ، جامعہ رسولیہ شیرازیہ، جامعہ کریمیہ، جامعہ تاجدار مدینہ بلال گنج، جامعہ مازاع البصر کریم پارک ،جامعہ حق باہو سلطانیہ موہنی روڈ، بزم رضا جامعہ نظامیہ لوہاری گیٹ، تنظیم محمدی کشمیری بازار، انجمن غلامان رسول موتی ٹبہ بھاٹی گیٹ، تنظیم غلامان رسول کٹٹرہ ولی شاہ اوردیگرتنظیموں کے سینکڑوں اراکین نے شرکت کی۔

شرکائے جلوس درودوسلام کانذرانہ پیش کرتے ہوئے چوہٹہ مفتی باقر، اکبری منڈی اور سرکلر روڈ سے ہوتے ہوئے بعدازنمازعصر میلاد چوک دہلی گیٹ پہنچے اس موقع پرمختلف علاقوں سے آنیوالے چھوٹے چھوٹے جلوس بھی مرکزی جلوس میں شامل ہوتے گئے ، انجمن تاجران کے زیراہتمام مرکزی جلوس کے راستے میں جگہ جگہ دودھ اور چائے کی سبیلیں لگائی گئی تھیں۔مرکزی جلوس روایتی راستوں مسجد وزیر خان، پرانی کوتوالی، کشمیری بازار، ڈبی بازار، پانی والا تالاب، بازار حکیماں، اونچی مسجد بھاٹی گیٹ سے ہوتا ہوا دربار حضرت داتا گنج بخش پر اختتام پذیر ہوا۔

ادھر صوبائی دارالحکومت بلوچستان میں عیدمیلاد النبی مذہبی جوش وخروش سے منائی گئی اس دوران سیکورٹی کے سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے موبائل فونز سروس بند رہی۔کوئٹہ میں شہر کے مختلف حصوں کے روایتی راستوں سے ہوتے ہوئے شہر کے مرکز ی باچاخان چوک پرقائم جلسہ گاہ میں پہنچے۔ جلوس کے شرکاء نے بینرز اور جھنڈیاں ہاتھوں میں اٹھا رکھی تھیں ۔

جلوس کی دیکھ بھال کے لئے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی تاہم خوش قسمتی سے اس دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آیا ۔ مرکزی جلسے سے مولانا شہزاد عطاری ، علامہ عباس قادری، احمد جان قاسمی، حبیب اللہ چشتی، حبیب سلطان نے خطاب کرتے ہوئے ولادت مآب حضور کی سیرت پاک کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ۔صوبائی دارالحکومت پشاور میں آقائے دو جہاں سرکار دو عالم حضرت محمد مصطفیﷺ کا جشن ولادت پشاورسمیت خیبرپختونخوابھر میں عقیدت و احترام اور دینی جوش وجذبے سے منایا گیا۔

عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلے میں پشاور کے جناح گراونڈمیں دن کا آغازتوپوں کی سلامی سے ہوا اورپاک فوج کے چاک و چوبند دستے نے 21 توپوں کی سلامی دی۔۔نمازفجرکے بعد بارہ ربیع الاول کی مناسبت سے خصوصی دعائیں مانگی گئیں جس میں ملک کی خوشحالی ،ترقی،دہشت گردی کے خاتمے اورامن وامان کے قیام کی دعائیں کی گئیں۔ملک بھر کے دیگر شہروں کی طرح راولپنڈی میں بھی میلا دالنبیانتہائی عقیدت و احترام سے منا یا گیا ‘راولپنڈی شہر و کینٹ میں سرکاری ‘نیم سرکاری عمارتوں‘گلی محلوں اور بازاروں میں چراغاں کیاگیا ، محافل میلاد ‘ اور جلوس رات گئے تک جاری رہے ‘ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جا نب سے مرکزی جلوس کے لیے فول پروف سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے ‘جلوس کے آغاز سے قبل ہی روٹ کو جدید آلات کے ذریعے کلیئر کیا گیا ‘مرکزی جلوس کیلئے داخلی راستے پر واک تھرو گیٹ سے گذار کر سکیورٹی اہلکاروں کی چیکنگ کے بعد شرکاء کو جلوس میں داخل کیا گیا ‘ گھروں کی چھتوں پر کھڑے ہوکر جلوس دیکھنے ‘جلوس کے قریب پارکنگ پر مکمل پابندی تھی ۔

مرکزی جلوس جا مع مسجد روڈ پر امام باڑہ چوک میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کی جانب سے جلوس کے شرکاء کے لیے سٹیج لگا یا گیاتھا جہاں پر شیخ رشید احمد ‘شیخ راشد شفیق ‘چوہدری اظہر ‘ شیخ امین سمیت عوامی مسلم لیگ کے دیگر راہنما موجود تھے جبکہ جلوس کے دوران پاکستان مسلم لیگ (ن )کے اراکین پارلیمنٹ ‘ پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی مختلف مقامات پر قائم سٹیج پر انعامات دیئے ‘جلوس اپنے روایتی راستوں پر چلتا رہا ۔

راولپنڈ ی پولیس نے ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی ہدایات پر 5ہزار جوانوں کوراولپنڈی میں مرکزی جلوس کیلئے فول پروف سکیورٹی انتظاما ت پر مامور کیا تھا جبکہ رینجرز ‘ پنجاب کانسٹیبلری کی ریزویں ‘سکیورٹی برانچ ‘سپیشل برانچ ‘لیڈیز پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے اہلکار بھی سکیورٹی امور سرانجام دیتے رہے ۔مرکزی جلوس کے داخلی اور خارجی راستوں

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

15/01/2014 - 20:40:07 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان