سینیٹ میں حکومت اور اپوزیشن کے ارکان نے اے این پی کے نائب صدر میاں مشتاق کی شہادت ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 13/01/2014 - 22:34:35 وقت اشاعت: 13/01/2014 - 22:34:35 وقت اشاعت: 13/01/2014 - 22:34:35 وقت اشاعت: 13/01/2014 - 22:33:12 وقت اشاعت: 13/01/2014 - 22:33:12 وقت اشاعت: 13/01/2014 - 22:33:12 وقت اشاعت: 13/01/2014 - 22:32:16 وقت اشاعت: 13/01/2014 - 22:30:06 وقت اشاعت: 13/01/2014 - 22:29:19 وقت اشاعت: 13/01/2014 - 22:05:46 وقت اشاعت: 13/01/2014 - 22:05:46
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

سینیٹ میں حکومت اور اپوزیشن کے ارکان نے اے این پی کے نائب صدر میاں مشتاق کی شہادت اور انجنیئر امیر مقام پر ہونیوالے بم حملہ کی شدید الفاظ میں مذمت،خیبر پختونخوا حکومت اور عمران خان پر کڑی تنقید ،عمران میں جراًت ہے تو حکومت سے مستعفی ہو جائیں ،تاریخ میں لکھا جائے گا کہ دہشتگردی کیخلاف قومی اتفاق رائے میں تحریک انصاف نے دراڑیں ڈالیں ،مولانا غفور حیدری، فرحت اللہ بابر،صوبائی حکومت نے دہشتگردی کیخلاف سیاسی اونر شپ ختم کر دی ہے ، حکومت ان کیمرہ اجلاس بلا کر طالبان سے مذاکرات پر ایوان کو اعتماد میں لے اور نیشنل سیکیورٹی پالیسی کا مسودہ پیش کرے ، رضا ربانی، طالبان سے معاہدے کے بعد عوام کو بتایا گیا تو مناسب نہیں ہو گا، خیبر پختونخوا میں اشرافیہ بھتہ دینے پر مجبور ہے ، عمران خان نے طالبان سے مک مکا کیا ہے ان کا نام کیوں نہیں لیتے ، مثالی صوبہ بنانے کی باتیں کرنیوالوں کیلئے اب وہاں جانا مشکل ہو گیا ہے ، افراسیاب خٹک، حاجی عدیل ، زاہد خان ، عبد الرؤف ، کلثوم پرویز، مشاہداللہ اور دیگر کا سینیٹ میں اظہار خیال

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔13 جنوری ۔2014ء)سینیٹ میں حکومت اور اپوزیشن کے ارکان نے اے این پی کے نائب صدر میاں مشتاق کی شہادت اور انجنیئر امیر مقام پر ہونیوالے بم حملہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خیبر پختونخوا حکومت اور عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اگر ان میں جراًت ہے تو حکومت سے مستعفی ہو جائیں تاریخ میں لکھا جائے گا کہ دہشتگردی کیخلاف قومی اتفاق رائے میں تحریک انصاف نے دراڑیں ڈالیں ،صوبائی حکومت نے دہشتگردی کیخلاف سیاسی اونر شپ ختم کر دی ہے حکومت ان کیمرہ اجلاس بلا کر طالبان سے مذاکرات پر ایوان کو اعتماد میں لے اور نیشنل سیکیورٹی پالیسی کا مسودہ پیش کرے ، طالبان سے معاہدے کے بعد عوام کو بتایا گیا تو مناسب نہیں ہو گا۔

خیبر پختونخوا میں اشرافیہ بھتہ دینے پر مجبور ہے ، عمران خان نے طالبان سے مک مکا کیا ہے ان کا نام کیوں نہیں لیتے ، مثالی صوبہ بنانے کی باتیں کرنیوالوں کیلئے اب وہاں جانا مشکل ہو گیا ہے ۔پیر کو سینیٹ کے اجلاس میں نکتہ اعتراض پر اے این پی کے سینیٹر حاجی عدیل نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ہمارے نائب صدر میاں مشتاق کو دو ساتھیوں سمیت شہید کر دیا گیا امیر مقام پر بھی شانگلہ میں حملہ ہوا اور ہنگو میں خود کش حملہ آور کو اعتزاز حسن نے روک کر سینکڑوں نوجوانوں کو بچایا صوبے میں بڑے بڑے واقعات ہوئے ہیں اس کے علاوہ اغواء کے واقعات ہو رہے ہیں لوگوں سے بھتہ لیا جا رہا ہے، مختلف کاروبار کرنے والے کارخانے چھوڑ کر جا چکے ہیں جب ہم حکومت میں تھے تو اس وقت بھی واقعات ہوتے تھے لیکن حکومت میں شامل جماعتیں اور پولیس دہشتگردوں سے لڑ رہی تھی پولیس کو حوصلہ تھا کہ انکے پیچھے سیاسی جماعت کھڑی ہے اب پولیس کو کچھ پتہ نہیں کہ وہاں کی حکومت اور عمران خان کی دہشتگردوں کے حوالے سے کیا پالیسی ہے دہشتگردوں کو بھائی کہا جاتا ہے اور دفتر کھولنے کی اجازت دینے کی بات کی جاتی ہے جب صوبے میں امن و امان کی صورتحال ایسی ہو تو گھر سے باہر نہیں نکل سکتے وزیراعلیٰ اور کور کمانڈر بھی رات کو باہر نہیں جا سکتے۔

تمام سیکیورٹی فورسز ، فوج اور دیگر اداروں کی سیکیورٹی پر مامور ہے ہم سے سیکیورٹی واپس لے لی گئی دہشتگردی ہمارا نہیں پاکستان کا مسئلہ ہے ایوان سے گزارش ہے کہ ایجنڈے کی کارروائی سے قبل اس پر بحث کی جائے اس موقع پر قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے حاجی عدیل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان کی پریشانی اور دکھ میں اظہار یکجہتی کرتے ہیں یہ سنگین مسئلہ ہے اس کو کنٹرول کرنے والے پورے طریقے سے توجہ نہیں دینگے عمران خان نے خود کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت اور وزیراعلیٰ سے مایوس ہوں اس موقع پر چیئرمین سینیٹ نے اس معاملے پر بحث کی اجازت دی ۔

بحث کا آغاز کرتے ہوئے اے ا ین پی کے سینیٹر افراسیاب خٹک نے کہا کہ دہشتگردی کا سلسلہ کئی سالوں سے جاری ہے جب ہماری حکومت تھی تو اس وقت ایک عزم ہم دہشتگردی کیخلاف کھڑے تھے سوات آپریشن کی قیمت ادا کی لیکن انتخابات کے بعد ایسی حکومت آئی جس نے لاٹری بھی نہیں خریدی اور اس کی لاٹری نکل آئی ۔ خیبر پختونخوا میں حکومت کی گرفت کمزور ہو رہی ہے صوبہ دہشتگردوں کے نرغے میں ہے بڑے پیمانے پر بھتہ وصول ہو رہا ہے اشرافیہ بھتہ دے رہے ہیں امیر مقام سے بھی بھتے کا مطالبہ کیا گیا تھا انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ریاست کی اجارہ داری نہیں رہی مایوس کن وزیر اعلیٰ کو عمران خان نے کیوں وہاں بٹھایا ہوا ہے اگر ایسی صورتحال پنجاب میں ہوتی تو کیا ریاست تماشہ دیکھتی ہمارے صوبے سے سرمایہ کار پنجاب جا رہے ہیں امن و امان کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے ریاست تماشائی بنی ہوئی ہے سیاست سے بالا تر ہو کر تمام جماعتیں ملک کو بچائیں۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر زاہد خان نے کہا کہ صوبے میں حکومت کی رٹ ختم ہو رہی ہے ملک میں کوئی بھی واقعہ ہوتا ہے تو اس کو ڈرون سے ملا دیا جاتا ہے عوام کی مال و جان کا تحفظ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے طالبان نے خود کو منظم کیا جہاں سے خود کش بمبار آ رہے ہیں وہاں پر نظریں بند کی ہوئی ہیں صوبے میں انارکی ہے عمران خان کو سیاست کا علم ہی نہیں اور نہ ہی وہ صوبے پر توجہ دے رہے ہیں اگر وہ اپنے وزیراعلیٰ سے مایوس ہیں تو انکے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتے حکومت میں یہ ہیں اور مارے ہم جا رہے ہیں عمران خان نے طالبان سے مک مکا کیا ہے ان کا نام کیوں نہیں لیتے ۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر لالہ عبد الرؤف نے کہا کہ ملک میں دہشتگردی کی لہر اٹھی ہوئی ہے خاص طور پر کے پی کے کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے جتنی قربانیاں اے این پی نے دی ہیں اتنی کسی نے نہیں دی آج بھی ان کا قتل عام جاری ہے چوہدری اسلم کے ساتھ جو ہوا سب کے سامنے ہے اعتزاز حسن

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

13/01/2014 - 22:33:12 :وقت اشاعت