کسٹمز کلیئرنس نہ ہونے سے 2ہزار ری کنڈیشنڈ گاڑیاں پورٹ پر پھنس گئیں،گاڑیوں کی کلیئرنس ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر جنوری

مزید تجارتی خبریں

وقت اشاعت: 13/01/2014 - 22:32:16 وقت اشاعت: 13/01/2014 - 21:48:49 وقت اشاعت: 13/01/2014 - 21:48:49 وقت اشاعت: 13/01/2014 - 20:47:19 وقت اشاعت: 13/01/2014 - 20:47:19 وقت اشاعت: 13/01/2014 - 15:03:43 وقت اشاعت: 13/01/2014 - 15:00:16 وقت اشاعت: 13/01/2014 - 13:54:14
-

کراچی

کسٹمز کلیئرنس نہ ہونے سے 2ہزار ری کنڈیشنڈ گاڑیاں پورٹ پر پھنس گئیں،گاڑیوں کی کلیئرنس ہونے سے حکومت پاکستان کو 2ارب روپے سے زائد کا ریونیو ملے گا، ذرائع

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔13 جنوری ۔2014ء)کسٹم افسران کی جانب سے تین سال پرانی ری کنڈیشنڈ گاڑیوں کی درآمد کے ایس آر او کی تشریح میں اچانک تبدیلی سے کراچی پورٹ پر کلیئرنس روک دی گئی ہیں ، اس ضمن میں مارکیٹ ذرائع نے بتایا کہ کسٹم کلیئرنس نہ ہونے کی وجہ سے اس وقت پورٹ پر درآمد کی جانے والی گاڑیوں کی تعداد 2ہزار سے بڑھ چکی ہے ، ان گاڑیوں کی کلیئرنس ہونے سے حکومت پاکستان کو 2ارب روپے سے زائد کا ریونیو ملے گا ، ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب کراچی کسٹم حکام نے تین سال پرانی ری کنڈیشنڈ گاڑیوں کی درآمد کے سلسلے میں جاری ایس آر او کی تشریح کواچانک تبدیل کرکے پرانی تشریح کو ماننے سے انکارکر دیا ، کسٹم حکام نے نہ تو اس سلسلے میں کوئی نوٹس بھیجا اور نہ ہی اس تشریح کو تبدیل کرنے سے پہلے درآمد کی گئی گاڑیوں کی کلیئرنس کی جارہی ہے جس سے درآمد کی گئی 2ہزار سے زائد گاڑیاں پورٹ پر پھنس گئی ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ ان روکی گئی گاڑیوں پر روزانہ کے حساب سے ڈیمرج پڑ رہا ہے اور اس وقت تک عائد ہونے والے ڈیمرج کی مالیت ایک کروڑ روپے سے بڑھ چکی ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ درآمد کی جانے والی ری کنڈیشنڈ گاڑیوں کی کلیئرنس صرف کراچی میں روکی گئی ہے جبکہ ملک کے ڈرائی پورٹس پر ان گاڑیوں کی کلیئرنس ایس آر او کی پرانی تشریح کے مطابق بدستور جاری ہے، ذرائع کے مطابق کراچی میں کسٹم کی جانب سے کلیئر نہ کی جانے والی ان گاڑیوں

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

13/01/2014 - 22:32:16 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان