حریت ایک نظم ہے اور یہاں انفرادی نہیں اجتماعیت کے ساتھ فیصلے لئے جاتے ہیں ‘میرواعظ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر جنوری

مزید کشمیر کی خبریں

وقت اشاعت: 13/01/2014 - 15:48:59 وقت اشاعت: 13/01/2014 - 15:47:49 وقت اشاعت: 13/01/2014 - 13:46:27 وقت اشاعت: 13/01/2014 - 13:45:42 وقت اشاعت: 13/01/2014 - 13:45:42 وقت اشاعت: 13/01/2014 - 13:45:42 وقت اشاعت: 13/01/2014 - 13:44:41 وقت اشاعت: 13/01/2014 - 13:44:41 وقت اشاعت: 13/01/2014 - 13:44:41
پچھلی خبریں -

حریت ایک نظم ہے اور یہاں انفرادی نہیں اجتماعیت کے ساتھ فیصلے لئے جاتے ہیں ‘میرواعظ عمر فاروق

سرینگر(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 13جنوری 2014ء)کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ حریت ایک نظم ہے اور یہاں انفرادی نہیں بلکہ اجتماعیت کے ساتھ فیصلے لئے جاتے ہیں ‘ حریت کے دروازے کسی کیلئے بند نہیں ہیں اصولوں کے تابع رہنا ہوگااور کسی پر بھی زبردستی اپنا ذاتی فیصلہ ٹھونسا نہیں جاسکتا۔ موبائل فون ہمارے لئے ایک زحمت بن گئے ہیں۔

چھوٹے بچوں کو فون دئیے گئے ہیں نائٹ سکیمیں متعارف کرائی گئی ہیں اس لئے والدین پر لازمی ہے کہ اپنے بچوں کو خلاقی تعلیم فراہم کریں کیوں کہ اللہ کے حضور ان سے اس معاملے پر پوچھ گچھ ہوگی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوم رحمت للعالمین کے موضوع پر منعقدہ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا-میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ حریت میں مختلف سوچ اور خیالات رکھنے والے رہنما ہیں لیکن فیصلے انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی سوچ سے کئے جاتے ہیں۔

میرواعظ نے کہاہم کسی پر قدغن نہیں لگاسکتے لیکن باہر کنفیوژن پیدا کرنے کے بجائے بند کمرے میں بیٹھ بحث و مباحثہ کے ذریعہ معاملات کو سلجھایا جاسکتا ہے۔ میرواعظ نے کہا کہ اس قوم پر جو مظالم ڈھائے گئے اور اس قوم کا ہر فرد مصائب و آلام کا شکار ہوالیکن اس کا المناک پہلو یہ ہے کہ ان مصائب کے باوجود ہم نے ہدایت اور نجات کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے مادہ پرستی کو اپنا شیوا بنا لیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ قوم ہر مثبت احساس سے بیگانہ ہو چکی ہے اور ہم اپنے مستقبل کے حوالے سے اگر ایک مہم جو جدوجہد میں مصروف ہیں لیکن اس جدوجہد کے تقاضوں کو پورا کر نے کی بجائے اور فکری یکسوئی اور اتحاد کے ساتھ منزل کی جانب قدم بڑھائے کے بجائے اپنی انا پرستی کی خاطر ایک دوسرے کے ساتھ باہم دست و گریبان ہورہے ہیں۔ میرواعظ نے کہا کہ مستقبل سازی کے حوالے سے ہماری جدوجہد اس وقت تک کوئی معنی نہیں رکھتی جب تک ہم اخلاقی، سماجی اور معاشرتی سطح پر ایک مہذب قوم نہیں بن جاتے ۔

میرواعظ نے کہا کہ دنیا میں سب سے زیادہ جو کتاب پڑھی جاتی ہے اور سب سے زیادہ تحقیق قرآن کریم پر ہورہی ہے لیکن بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ سب سے کم عمل مسلمانوں کی جانب سے ہی۔ قرآن پر ہی ہوتا ہی۔ انہوں نے کہا ان مجالس کے انعقاد کا حق اسی صورت میں ادا ہوسکتا ہے جب ہم پیغام رسالت کو صحیح معنو ں میں سمجھنے کی کوشش کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے بڑے بڑے مفکرین اور اہل دانش نے قرآن کریم کو حکت و دانش کا واحد سرچشمہ تسلیم کیا ہے اور آج کے مسلمان کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ وہ روز بروز قرآنی تعلیمات اور اسوہ رسول  سے دور ہوتا جا رہا ہی۔

انہوں نے چند مغربی مفکرین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ پیغمبر اسلام  کوایک مدبر ، مفکر اور انسان ساز قائد کی حیثیت سے واحد عظیم شخصیت تسلیم کرتے ہیں لیکن دوسری طرف مسلمانوں کایہ حال ہے کہ وہ پیغمبر اسلام  کی ذات کو اپنی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

13/01/2014 - 13:45:42 :وقت اشاعت