راہ آزادی میں بے شمار قربانیاں دینا پڑتی ہیں اور لمبا وقت بھی درکار ہوتا ہے‘ یاسین ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر جنوری

راہ آزادی میں بے شمار قربانیاں دینا پڑتی ہیں اور لمبا وقت بھی درکار ہوتا ہے‘ یاسین ملک

سرینگر(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 13جنوری 2014ء)جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہا ہے کہ راہ آزادی کا سفر نہ ہی مختصر ہوتا ہے اور نہ ہی آسان ہوا کرتا ہی۔ اس راہ میں بیشمار قربانیاں بھی دینی پڑتی ہیں اور لمبا وقت بھی درکار ہوتا ہے۔ مسئلہ جموں کشمیر کو پس پشت ڈال کر آگے بڑھنے کا عمل کئی دفعہ آزمایا جاچکا ہے لیکن ہر بار اس مسئلے کی وجہ سے آگے کا سفر ناکامی سے دوچار رہا ہی۔

مسئلہ کشمیر حل کئے بغیرخطے میں پائیدار امن اور ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا، کشمیریوں نے اپنی آزادی کیلئے لاکھوں نفوس کی قربانیاں دی ہیں اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے ۔ان قربانیوں کا تقاضہ ہے کہ ہم بحیثیت ایک قوم عزم صمیم اور ایک چہرے کے ساتھ ان قربانیوں کی حفاظت بھی کریں اور راہ عزیمت میں کسی بھی تساہل و تغافل کو آڑے نہ آنے دیں۔

بھارت نواز سیاستدان جتنی بھی مکاری کر لیں ان کی کشمیر دشمنی چھپ نہیں سکتی۔گاندربل میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے لبریشن فرنٹ چیئر مین محمد یاسین ملک نے کہا کہ سخت سردی کے باوجود لوگوں کی آمدخوش آئند ہے دعا ہے یہ جذبہ جوان رہے اور منزل مقصود کی جانب ہمارا سفر یکسوئی کے ساتھ عزم مسلسل کے ساتھ جاری ہو تو دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت ہمیں حصول مقصد سے روک نہیں سکتی ہی۔

یاسین ملک نے کہا کہ خود ہندوستان کو 200سال کی جدوجہد کے بعد انگریزوں سے آزادی ملی تھی۔اسلئے جو لوگ آزادی کے سفر کے دوران شارٹ کٹ اور دوسرے آسان راہوں کی تلاش میں رہتے ہیں وہ عزیمت کے اس سفر کے راہی بننے کے لائق نہیں ہوتی۔ یاسین ملک نے کہا کہ جموں کشمیر میں کام کرنے والے ہند نواز سیاست کار، جماعتیں اور لیڈران خواہ انکے نعرے کتنے ہی مزین کیوں نہ ہوں اصلا بھارت کی ظلم و جبر کی کلہاڑی کے دستے ہیں جن کا کام ظلم و جبر کو آئینی و قانونی جواز فراہم کرکے کشمیریوں کے مصائب میں اضافہ کرنا ہی۔

ان سیاست کاروں کی سیاست کا اصل محور بھارت کی جی حضوری ہے اور جس اسمبلی کا یہ لوگ حصہ ہوا کرتے ہیں اس کا کام کشمیریوں کے خلاف افسپا اور پی ایس

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

13/01/2014 - 13:44:41 :وقت اشاعت