بدقسمتی سے آٹھ دس سال سے خودکش حملوں کا کلچر ہے جو اب پھیل گیا ہے،شرجیل انعام میمن،طالبان ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 12/01/2014 - 23:33:17 وقت اشاعت: 12/01/2014 - 23:33:17 وقت اشاعت: 12/01/2014 - 23:33:17 وقت اشاعت: 12/01/2014 - 23:30:40 وقت اشاعت: 12/01/2014 - 23:30:40 وقت اشاعت: 12/01/2014 - 23:30:40 وقت اشاعت: 12/01/2014 - 23:22:44 وقت اشاعت: 12/01/2014 - 22:01:12 وقت اشاعت: 12/01/2014 - 20:48:05 وقت اشاعت: 12/01/2014 - 20:48:05 وقت اشاعت: 12/01/2014 - 20:48:05
پچھلی خبریں - مزید خبریں

حیدرآباد

بدقسمتی سے آٹھ دس سال سے خودکش حملوں کا کلچر ہے جو اب پھیل گیا ہے،شرجیل انعام میمن،طالبان اور سیاسی عسکری ونگوں کے بارے میں ہماری رائے مختلف نہیں ہے جو بھی کریمنل ہے سندھ حکومت اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کر رہی ہے، پریس کانفرنس

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔12 جنوری ۔2014ء)پیپلزپارٹی کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل اور صوبائی وزیر اطلاعات و بلدیات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے جرات سے ایس پی چوہدری محمد اسلم قتل کیس میں طالبان کے سربراہ مولوی فضل اللہ اور ترجمان شاہد اللہ شاہد کو نامزد کرنے کا بولڈ اسٹیپ لیا ہے وفاقی حکومت کو بھی حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے گومگو کی کیفیت سے نکلنا چاہیے وہ کیوں ان کے خلاف کریک ڈاؤن نہیں کرتی، کراچی میں سیاسی پارٹیوں کے عسکری ونگوں سمیت کویمنلز کے خلاف کاروائی جاری ہے مگر پکڑے جانے والوں کی سیاسی وابستگی بتانے کا ہمیں کوئی شوق نہیں، پیپلزپارٹی آرٹیکل 6 سے غداری کا لفظ نکالنے کی چوہدری شجاعت کی ترمیم کی حمایت نہیں کرتی، پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کا فیصلہ اب عدالت اور وزیراعظم نوازشریف نے کرنا ہے، سندھ میں بلدیاتی حلقہ بندیوں میں تھرڈ پارٹی کو شامل کرنے کا مطالبہ نہیں ہونا چاہیے یہ حکومت کا ہی کام ہے۔

وہ سول لائن میں اپنی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے، اس موقع پر مسلم لیگ فنگشنل تحصیل دیہی حیدرآباد کے صدر طاہر پوہڑ اور ان کے بیٹے اقبال پوہڑ نے برادری کے ساتھ پی پی میں شمولیت کا اعلان کیا جس کا شرجیل میمن نے خیرمقدم کیا۔ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم پر خودکش حملے کی ایف آئی آر کے حوالے سے سوال پر پی پی کے رہنما اور صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ تحریک طالبان نے چوہدری اسلم پر خودکش حملے کی ذمہ داری چونکہ قبول کی ہے اس لئے سندھ حکومت نے جراتمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے طالبان کے سربراہ مولوی فضل اللہ اور ترجمان کو ایف آئی آر میں نامزد کیاہے اگر سندھ حکومت میں یہ جرات ہے تو وفاقی حکومت میں بھی یہ حوصلہ ہونا چاہیے کہ وہ ایسا ہی کرے حکومت میں بیٹھے ایسے لوگ بھی ہیں جو طالبان کا نام بھی کھل کر نہیں لیتے اور دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے بھی سو بار سوچتے ہیں کہ ان کی کوئی بات طالبان کو بری نہ لگ جائے یہ رویہ ختم ہونا چاہیے، کراچی میں طالبان کے کھلی جنگ شروع کرنے کے بارے میں سوال پر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ یہ نئی بات نہیں لیکن طالبان کھل کے سامنے نہیں وقفے وقفے سے سازشیں کرتے ہیں رینجرز اور پولیس کراچی میں کالعدم تنظیموں کے خلاف کاروائی کر رہی ہیں اور ان کو مارا اور گرفتار کیا جا رہا ہے دو روز قبل ہی طالبان کے تین افراد مقابلے میں مارے ہیں ہماری فورسز ان کے خلاف لڑ رہی ہیں اگر سندھ حکومت ایسا کر سکتی ہے تو وفاقی حکومت کیوں نہیں کر سکتی وہ کیوں ان کے خلاف کریک ڈاؤن نہیں کرتی ہمارے جون شہید ہو رہے ہیں اور کچھ لوگ تماشہ دیکھ رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے آٹھ دس سال سے خودکش حملوں کا کلچر ہے جو اب پھیل گیا ہے یہ ان حکومتوں کی ناکامی ہے جنہوں نے ماضی میں اپنے ادوار میں اسے روکنے کے لئے کچھ نہیں کیا، انہوں نے کہا کہ اب طالبان کے بھی 10 گروپ سامنے آ گئے ہیں اس سلسلے کو ختم کرنے کے لئے وفاقی حکومت کو نہایت سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات اٹھانا ہوں گے ہم چاہتے ہیں کہ امن قائم ہو اے پی سی نے حکومت کو یہ مینڈیٹ دیا تھا کہ ہتھیار پھینکنے کی شرط تسلیم کرنے والے طالبان سے مزاکرات کئے جائیں یہ نہیں ہو سکتا کہ مزاکرات کی بات کرکے یہ شہریوں اور افسروں

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

12/01/2014 - 23:30:40 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان