پیپلز پارٹی انتقامی کاروائی یا دباوٴ پر یقین نہیں رکھتی اور لوگوں کی مخلصانہ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 12/01/2014 - 23:22:44 وقت اشاعت: 12/01/2014 - 22:01:12 وقت اشاعت: 12/01/2014 - 20:48:05 وقت اشاعت: 12/01/2014 - 20:48:05 وقت اشاعت: 12/01/2014 - 20:48:05 وقت اشاعت: 12/01/2014 - 20:46:03 وقت اشاعت: 12/01/2014 - 20:46:03 وقت اشاعت: 12/01/2014 - 20:39:48 وقت اشاعت: 12/01/2014 - 20:38:57 وقت اشاعت: 12/01/2014 - 20:38:57 وقت اشاعت: 12/01/2014 - 20:38:57
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

پیپلز پارٹی انتقامی کاروائی یا دباوٴ پر یقین نہیں رکھتی اور لوگوں کی مخلصانہ خدمت کر رہی ہے، وزیر اطلاعات وبلدیات شرجیل میمن ،دیگر سیاسی جماعتوں کے عہدیداران پی پی پی میں اپنی مرضی سے شامل ہو رہے ہیں کیونکہ وہ لوگ اپنی جماعتوں سے تنگ آ چکے ہیں اور انہیں کوئی بھی سہارا نہیں مل رہا ،چودھری اسلم کی جگہ پر کسی عملدار کی مقرری کا اختیار آئی جی سندھ کو دیا گیا ہے اور امید ہے کہ وہ ایک ایماندا ر آفیسر کو مقرر کریں گے، میڈیا سے گفتگو

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔12 جنوری ۔2014ء) صوبائی وزیر اطلاعات و بلدیات شرجیل انعام میمن کی سول لائن حیدرآباد میں رہائش گاہ پر فنکشنل لیگ حیدرآباد تعلقہ رورل کے صدر طاہر پھوڑ نے اپنے تمام عہدیداران اور 500سے زائد کارکنان کے ہمراہ پاکستان پیپلز پارٹی میں غیر مشروط طور پرباقائدہ شمولیت کا اعلان کیا ۔ قبل ازیں طاہر پھوڑ اپنے بیٹے اقبال پھوڑ کے ہمراہ ایک بڑی ریلی کی صورت میں صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کی رہائش گاہ پر پہنچے جہاں شرجیل انعام میمن نے پی پی پی کے دیگر رہنماوٴں کے ہمراہ ریلی کا والہانہ استقبال کیا اور انہیں خوش آمدید کہا ۔

اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی انتقامی کاروائی یا دباوٴ پر یقین نہیں رکھتی اور لوگوں کی مخلصانہ خدمت کر رہی ہے جس کے مد نظر دیگر سیاسی جماعتوں کے عہدیداران پی پی پی میں اپنی مرضی سے شامل ہو رہے ہیں کیونکہ وہ لوگ اپنی جماعتوں سے تنگ آ چکے ہیں اور انہیں کوئی بھی سہارا نہیں مل رہا ۔

انہوں نے مزید کہا کہ پی پی پی ملک کی سب سے بڑی جمہوری جماعت ہے جس نے ہمیشہ لوگوں کو دلوں میں جگہ دی ہے اور انہیں حقوق فراہم کیے ہیں ایک سوا ل پر انہوں نے کہا کہ صوبے میں فنکشنل لیگ کے خراب حالات کا اہم ذمہ دار امتیاز شیخ ہے جس کے متعلق لوگوں کو کافی شکایات بھی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ضلع دادو میں لیاقت جتوئی کی جانب سے پی پی پی میں شمولیت کے حوالے سے کسی رابطے کا انہیں معلوم نہیں حالانکہ ضلع دادو کے مقامی عہدیداران کی مرضی کے بغیر لیاقت جتوئی کو پی پی پی میں شامل نہیں کیا جائیگا جبکہ پی پی پی کو لیاقت جتوئی جیسے سیاستدانوں کو ضرورت بھی نہیں ہے ۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ صوبے میں کی گئی حلقہ بندیوں میں کسی بھی سیاسی جماعت کی مداخلت نہیں ہوئی کیونکہ حلقہ بندیوں کی ذمہ داری حکومت کی ہے اور یہ کام سرکاری حکام نے انجام دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی جماعت کو حلقہ بندیوں پر اعتراضات تھے تو انہوں نے حلقہ بندیوں کے عمل کے دوران آواز کیوں نہیں اٹھائی اور جب حلقہ بندیوں کی حتمی فہرستیں سامنے آئیں تو انہیں عدالت میں چیلنج کیا گیا ۔

انہوں نے کہا کہ 2001ءء کی حلقہ بندیوں کے تحت آبادی کو مد نظر نہیں رکھا گیا جبکہ موجودہ حکومت کی حلقہ بندیوں میں دور دراز علاقوں اور دیہاتوں کو یوسیز بنا یا گیا تاکہ وہاں کے عوام کوانکی دہلیز پر سہولیات فراہم کی جا سکیں ۔انہوں نے کہا کہ آمرانہ دور میں من پسند حلقہ بندیاں کرو ا کے من پسند نتائج حاصل کیے گئے جبکہ حیدرآباد ضلع کو مختلف اضلاع میں بانٹ کے لوگوں کو جاگیریں دی گئیں ۔

انہوں نے کہا کہ جب پی پی پی نے حیدرآباد ضلع کی پرانی حیثیت بحال کرنے کی کوشش کی تو ان ہی لوگوں نے سخت اعتراض کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت انتظامی حوالے سے حیدرآباد ایک ضلع ہے جبکہ معاشی اور ترقیاتی حوالے سے اسے مختلف حصوں میں بانٹ کر لوگوں میں پائی جانے والی محرومی کو ختم کیا گیا

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

12/01/2014 - 20:46:03 :وقت اشاعت