ولی خان بابر قتل کیس کو دوسال گزر گئے ،سندھ ہائی کورٹ کی ڈیڈ لائن بھی ختم، لیکن ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 12/01/2014 - 20:30:16 وقت اشاعت: 12/01/2014 - 20:30:16 وقت اشاعت: 12/01/2014 - 20:22:24 وقت اشاعت: 12/01/2014 - 20:22:24 وقت اشاعت: 12/01/2014 - 20:20:24 وقت اشاعت: 12/01/2014 - 19:59:47 وقت اشاعت: 12/01/2014 - 19:49:36 وقت اشاعت: 12/01/2014 - 19:49:36 وقت اشاعت: 12/01/2014 - 19:49:36 وقت اشاعت: 12/01/2014 - 18:25:03 وقت اشاعت: 12/01/2014 - 18:17:42
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

ولی خان بابر قتل کیس کو دوسال گزر گئے ،سندھ ہائی کورٹ کی ڈیڈ لائن بھی ختم، لیکن مقدمے کا فیصلہ نہ ہوسکا،اس دوران عینی شاہد سمیت 6گواہ قتل اورایک اشتہاری ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ہوچکا ہے جبکہ عدم تحفظ کی وجہ سے تین وکیل پیروی سے معذرت کرچکے ہیں،حکومت سندھ مقدمے کی حساسیت دیکھتے ہوئے کیس کو کشمور کندھ کوٹ منتقل کرچکی ہے لیکن اب بھی سماعت میں تاخیر کا سامنا ہے

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔12 جنوری ۔2014ء)ولی خان بابر قتل کیس کو دوسال گزر گئے ،سندھ ہائی کورٹ کی ڈیڈ لائن گزرگئی، لیکن مقدمے کا فیصلہ نہ ہوسکا۔ اس دوران عینی شاہد سمیت 6گواہ قتل اورایک اشتہاری ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ہوچکا ہے جبکہ عدم تحفظ کی وجہ سے تین وکیل پیروی سے معذرت کرچکے ہیں۔ شہید صحافت ولی خان بابرکے قتل کا مقدمہ تھانہ سپرمارکیٹ میں درج ہوا اوربعد میں انسداد دہشت گردی کی دفعات کا اضافہ کیا گیا۔

پانچ ملزمان فیصل محمود نفسیاتی ،نوید پولکا،محمد علی رضوی،شاہ رخ عرف مانی اور شکیل ملک گرفتار کئے گئے۔ ابتدائی سماعت اے ٹی سی کی جج خالدہ یاسین نے کی ،بعد میں مدعی کی درخواست پرمقدمہ غلام مصطفی میمن کی عدالت میں منتقل کیا گیا۔ عینی شاہد حیدر علی نے شکیل ملک کے علاوہ تمام ملزمان کو شناخت کرلیا۔ملزم شاہ رخ عرف مانی نے اقبال جرم کیاکہ واردات میں تمام ملزمان ملوث ہیں۔

25اپریل 2011 کوحتمی چالان پیش کیا گیا۔6گواہوں کو تفتیش اور سماعت کے دوران قتل کردیا گیا۔تمام گواہوں کے بیانات قلمبندہوچکے ہیں۔وکلا کے دلائل بھی آخری

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

12/01/2014 - 19:59:47 :وقت اشاعت