پاکپتن، اجتماعی زیادتی کا شکار لڑکی کے ملزمان تاحال گرفتار نہ ہوسکے
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/01/2014 - 15:57:25 وقت اشاعت: 11/01/2014 - 15:54:53 وقت اشاعت: 11/01/2014 - 15:54:53 وقت اشاعت: 11/01/2014 - 15:54:53 وقت اشاعت: 11/01/2014 - 15:13:37 وقت اشاعت: 11/01/2014 - 14:57:36 وقت اشاعت: 11/01/2014 - 14:57:36 وقت اشاعت: 11/01/2014 - 14:56:52 وقت اشاعت: 11/01/2014 - 14:56:52 وقت اشاعت: 11/01/2014 - 14:56:52 وقت اشاعت: 11/01/2014 - 14:55:44
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پاکپتن

پاکپتن، اجتماعی زیادتی کا شکار لڑکی کے ملزمان تاحال گرفتار نہ ہوسکے

پاکپتن(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 11جنوری 2014ء) اغوا ء کے بعد اجتماعی زیادتی کا شکار لڑکی کے ملزمان تاحال گرفتارنہ ہوسکے، پولیس نے ملزمان کیساتھ ساز باز کرلی، ورثاء سراپا احتجاج۔ تفصیلات کے مطابق تھانہ چک بیدی بنگہ حیات کے نواحی گاؤں 22ایس پی کے رہائشی راؤ جمشید علی کی جواں سالہ بیٹی گلناز بی بی کو چند روز قبل چکواں نارائن داس ٹاہلی والا کے اوباش نوجوان محمد وسیم وغیرہ نے 22سے ایس پی سے اغواء کر لیا اور بہاولپور لے جاکر وحشیانہ تشددکے ساتھ ساتھ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے متاثرہ لڑکی گلناز بی بی نے بتایا کہ موقع ملنے پر اس نے والدین سے بذریعہ فون رابطہ کیا جنہوں نے مجھے باز یاب کروایا متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ ہم نے کئی کئی روز تک تھانہ چک بیدی کے چکر لگائے مگر پولیس نے مقدمہ درج نہ کیا بعد ازاں بذریعہ عدالت مقدمہ درج ہوا مگر اب پولیس ملزمان کے ساتھ ساز باز ہے اور مرکزی ملزمان کو گرفتار کرنے سے قاصر ہے متاثرہ لڑکی اور اس کے ورثاء نے چیف جسٹس آف پاکستان ،وزیر اعلیٰ پنجاب ،آئی جی پنجاب ودیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو فوری گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔

11/01/2014 - 14:57:36 :وقت اشاعت