چوہدری اسلم پر حملے کی تحقیقات کرنیوالی ٹیموں کے موقف میں تضاد
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 10/01/2014 - 16:50:02 وقت اشاعت: 10/01/2014 - 16:50:02 وقت اشاعت: 10/01/2014 - 16:50:02 وقت اشاعت: 10/01/2014 - 16:46:23 وقت اشاعت: 10/01/2014 - 16:46:23 وقت اشاعت: 10/01/2014 - 16:46:23 وقت اشاعت: 10/01/2014 - 16:01:28 وقت اشاعت: 10/01/2014 - 15:47:19 وقت اشاعت: 10/01/2014 - 15:46:35 وقت اشاعت: 10/01/2014 - 15:45:39 وقت اشاعت: 10/01/2014 - 15:45:39
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

چوہدری اسلم پر حملے کی تحقیقات کرنیوالی ٹیموں کے موقف میں تضاد

کراچی (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 10جنوری 2014ء) شہید ایس ایس پی چوہدری اسلم پر حملے کی تحقیقات کرنے والی ٹیموں کے موقف میں تضاد پایا جاتا ہے،، موبائل ڈرائیور کے بیان کے مطابق حملہ آور نے اپنی پک اپ چوہدری اسلم کی گاڑی سے ٹکرائی۔ سی آئی ڈی کاونٹر ٹیررازم سیل کے انچارج راجہ عمر خطاب نے ابتدائی تفتیش میں ہی حملے کو خودکش قرار دیا تھا۔

ان کی ماہرانہ رائے میں حملے کے لیے سو کلو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے جائے وقوعہ کے معائنہ کے بعد اپنی رپورٹ میں حملے کو پلانٹڈ ڈیوائس کا شاخسانہ قرار دیا اور دھماکہ خیز مواد کی مقدار پچیس کلو بتائی۔ ذرائع کے مطابق چوہدری اسلم کی حفاظت پر تعینات پولیس موبائل کے ڈرائیور نے بتایا ہے کہ جب وہ لیاری ایکسپریس وے پہنچے تو مخالف سمت سے ایک پک اپ گاڑی آئی جس کے پچھلے حصے میں ایک نیلا ڈرم رکھا ہوا تھا، پک اپ کے چوہدری اسلم کی گاڑی سے ٹکراتے ہی زور دار دھماکہ ہوا۔ ذرائع کے مطابق تفتیشی افسران نے ڈرائیور کے بیان کے بعد جائے وقوعہ سے ملنے والے انسانی اعضا اور پک اپ کے ٹکڑے فرانسک لیب کو ارسال کردیئے ہیں۔

10/01/2014 - 16:46:23 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان