کراچی، آپریشنل نفری 13ہزار ،بلٹ پروف جیکٹس بمشکل ہی 2000
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 09/01/2014 - 13:36:50 وقت اشاعت: 09/01/2014 - 13:36:50 وقت اشاعت: 09/01/2014 - 13:35:30 وقت اشاعت: 09/01/2014 - 13:35:30 وقت اشاعت: 09/01/2014 - 13:35:30 وقت اشاعت: 09/01/2014 - 13:05:23 وقت اشاعت: 09/01/2014 - 12:18:17 وقت اشاعت: 09/01/2014 - 12:16:01 وقت اشاعت: 09/01/2014 - 12:16:01 وقت اشاعت: 09/01/2014 - 12:14:20 وقت اشاعت: 09/01/2014 - 12:14:20
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

کراچی، آپریشنل نفری 13ہزار ،بلٹ پروف جیکٹس بمشکل ہی 2000

کراچی(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 9جنوری 2014ء)2014کے ابتدائی دنوں میں ہی پانچ پولیس اہلکارزندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ آئی جی سندھ نے اہلکاروں کو بلٹ پروف اور ہیلمٹ پہننے کے احکامات تو جاری کردیئے ہیں تاہم شاید انھیں یہ معلوم ہی نہیں کہ کراچی کی آپریشنل نفری کی تعداد 13ہزار کے قریب ہے جبکہ بلٹ پروف جیکٹس کی تعداد بمشکل ہی 2000 ہے۔

پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معاشی حب کراچی گزشتہ کئی سالوں سے دہشتگردی اور بد امنی کی بد ترین لپیٹ میں ہے۔ ٹارگٹ کلنگ کا 20سالہ ریکارڈ ٹوٹ چکا ہے جبکہ سیکیورٹی اہلکار بھی اپنی جانوں کا مسلسل نذرانہ دے رہے ہیں۔ گزشتہ سال 163اہلکاروں کی زندگیوں کے چراغ گل کر گیا تھا تو یہ سال شروع ہوتے ہی5اہلکاروں کی زندگیاں نگل چکا ہے۔ اگر بات کی جائے وزیر اعظم کی ہدایت پر 5ستمبر سے شروع ہونے والے ٹارگٹد آپریشن کی تو اس میں بھی اب تک 41اہلکار جاں بحق ہوچکے ہیں۔

ہر اہلکار کی شہادت کے بعد پولیس کے اعلی حکام کی جانب سے نئے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اہلکاروں کو بلٹ پروف جیکٹس، مشترکہ گشت اور اس جیسے نجانے کتنے احکامات جاری کیے جاتے ہیں۔اب اگر بات کر لی جائے بلٹ پروف جیکٹس کی تو ذرائع کے مطابق کراچی پولیس کے پاس تقریبا دو ہزار کے قریب بلٹ پروف جیکٹس ہیں، بعض میں گولیاں روکنے کے لیے پلیٹس ہیں جبکہ بعض صرف ہوا روکنے کے لیے ہیں، جن میں پلیٹس ہیں ان کو بھی محفوظ تصور نہیں کیا جاسکتا کیونکہ بلٹ پروف جیکٹ کی ایک معیاد ہوتی ہے، کئی سالوں پہلے کراچی پولیس کے لیے آنے والی بلٹ پروف جیکٹس کو چیک کروایا جائے تو شاید ان میں سے نجانے کتنی صرف سردی روکنے کے کام ہی آسکیں۔

ماضی میں بھی کئی بار پولیس کے لیے خصوصی رقم مختص کی گئی تاہم یہ رقم استعمال کہاں ہوئی اس کا شاید جواب دینے کے لیے کوئی تیار نہیں، پولیس اہلکار اب بھی حکام سے دہائیاں دیتے نظر آتے ہیں۔سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک کراچی پولیس کو جدید ہتھیاروں اور ساز سامان سے لیس نہیں کی جائے گا تب تک اہلکاروں کی زندگیوں کو محفوظ بنانا شاید خواب ہی رہے۔

09/01/2014 - 13:05:23 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان