کراچی میں بھتہ خوروں، ٹارگٹ کلرزاور دہشت گردوں کی خلاف جاری ٹارگیٹڈ آپریشن کے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 08/01/2014 - 23:41:50 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 22:51:05 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 22:23:39 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 22:23:39 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 22:23:13 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 22:21:19 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 22:21:19 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 22:21:19 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 22:20:31 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 22:20:31 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 22:07:20
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

کراچی میں بھتہ خوروں، ٹارگٹ کلرزاور دہشت گردوں کی خلاف جاری ٹارگیٹڈ آپریشن کے غیر معمولی نتائج حاصل ہوئے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ، کسی بھی قوم کی ترقی و خوشحالی کے لئے پرامن فضا ناگزیر ہے ، نیو سندھ سیکرٹریٹ میں منعقدہ نیشنل سیکورٹی ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔8 جنوری ۔2014ء)وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ کراچی میں بھتہ خوروں، ٹارگٹ کلرزاور دہشت گردوں کی خلاف جاری ٹارگیٹڈ آپریشن کے غیر معمولی نتائج حاصل ہوئے ہیں اور جلد ہی شہر کو جرائم سے پاک کیا جائے گا۔وہ بدھ کونیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کی جانب سے نیو سندھ سیکرٹریٹ میں منعقدہ نیشنل سیکورٹی ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کررہے تھے ۔

اس موقع پر سینئر صوبائی وزیر نثاراحمد کھوڑو، وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر سکندر میندھرو، چیف سیکرٹری سندھ سجاد سلیم ہوتیانہ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ ممتاز علی شاہ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات عارف احمد خان، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، آزاد کشمیر، سول سوسائٹی کے نمائندوں، اور دیگر محکموں کے اعلیٰ حکام موجود تھے جنہوں نے بحث مباحثے میں بھی حصہ لیا۔

ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کسی بھی قوم کی ترقی و خوشحالی کے لئے پرامن فضا ناگزیر ہے اس لئے حکومت سندھ عوام کی جان و مال ، سرکاری و نجی املاک ، ہر ادارے اور فرد کی سیکورٹی اولین ترجیح ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی گذشتہ پانچ سالہ دور حکومت کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ عالمی سطح پر کسادبازاری اور بدتر اقتصادی صورتحال کے باوجود حکومت سندھ نے پہلے سال 55 ہزارجبکہ پانچ سالوں میں 2 لاکھ افراد کو سرکاری محکموں میں نوکریاں دیں، اور اتنے ہی نوجوانوں کوتربیت دے کر روزگار کے قابل بنایا ۔

انہو ں نے کہا کہ مسلسل کوششوں کے نتیجے میں این ایف سی ایوارڈ کا معاملہ اتفاق رائے سے حل کیا جس کے تحت قومی وسائل کو آبادی کے بنیاد کے بجائے کثیر فیکٹر کے تحت صوبوں میں تقسیم کرنے کو یقینی بنایاگیا۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی پر اتفاق رائے کے بعد صوبہ سندھ کے حصے میں 25 بلین اضافی آئے اوراس کے علاوہ خدمات پر ٹیکس کی مد میں بھی 20 ارب روپے اضافی موصول ہوئے جو کہ ان کے مطابق اس سے قبل صرف 4 سے 5 ارب روپے ملتے تھے۔

اس کے علاوہ ایف بی آر یکوری چارچز جو کہ پہلے 4 فیصد تک وصول کی جاتی تھی ، اس کو ایک فیصد تک لیکر آئے ہے جس سے صوبے کو کافی فائدہ پہنچا۔ فوڈ سیکورٹی سے متعلق بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت 2008

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

08/01/2014 - 22:21:19 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان