خانہ شماری کا کام 5اپریل سے مئی 2011ء کے دوران مکمل کر چکے ، مسئلہ دوبارہ مشترکہ مفادات ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 08/01/2014 - 22:20:31 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 22:20:31 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 22:07:20 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 22:07:20 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 22:07:20 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 22:06:36 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 22:06:36 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 22:06:36 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 22:05:51 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 22:05:51 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 22:05:51
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

خانہ شماری کا کام 5اپریل سے مئی 2011ء کے دوران مکمل کر چکے ، مسئلہ دوبارہ مشترکہ مفادات کونسل میں جائیگا ،وزیر مملکت داخلہ ، سی سی آئی کے فیصلے کی روشنی میں مردم شماری کا عمل آگے بڑھایا جائیگا ، حکومت قانون اور آئین کا احترام کرتی ہے، مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس جلد بلائیں گے ،کیری لوگر بل کے تحت پاکستان کو امریکہ سے ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ کی امداد مل سکتی ہے ، رواں مالی سال کے دوران ٹیکس گوشوارے جمع کرانیوالے افراد کی تعداد بھی بڑھی ہے، حکومت بالواسطہ ٹیکسوں کی بجائے بلاواسطہ ٹیکس بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے ، بلیغ الرحمن کا سینٹ میں وقفہ سوالات کے دور ان اظہار خیال ، منصوبہ بندی کمیشن میں خالی آسامیاں کوٹے کے مطابق پر کی جائیں گی ،خرم دستگیر ،مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلانے کے حوالے سے آئین کا تقاضا پورا کیا جائے گا ،راجہ ظفر الحق ، وزراء ایوان میں موجود نہیں ہونگے تو سوالات کا جواب کون دیگا ، چیئر مین سینٹ نے اجلاس کی کارروائی پندرہ منٹ معطل کر دی ۔ تفصیلی خبر

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔8 جنوری ۔2014ء)سینٹ کو بتایا گیا ہے کہ خانہ شماری کا کام 5اپریل سے مئی 2011ء کے دوران مکمل کر چکے ہیں ، مسئلہ دوبارہ مشترکہ مفادات کونسل میں جائے گا ، سی سی آئی کے فیصلے کی روشنی میں مردم شماری کا عمل آگے بڑھایا جائیگا ، حکومت قانون اور آئین کا احترام کرتی ہے، مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس جلد بلائیں گے ،، رواں مالی سال کے دوران ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والے افراد کی تعداد بھی بڑھی ہے، حکومت بالواسطہ ٹیکسوں کی بجائے بلاواسطہ ٹیکس بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

بدھ کو سینٹ کا اجلاس شروع ہوا تو وقفہ سوالات کے دوران جواب دینے کیلئے وزراء ایوان میں موجود نہیں تھے جس پر چیئرمین سینیٹ سید نیئر حسین بخاری نے قائد ایوان راجہ ظفر الحق سے دریافت کیا کہ وزراء ایوان میں موجود نہیں ہوں گے تو پھر سوالات کا جواب کون دیگا جس پر قائد ایوان نے کہا کہ وزراء سوالات کے جواب دینے کیلئے ایوان میں ہمیشہ موجود ہوتے ہیں جس پر چیئرمین نیئر حسین بخاری نے کہا کہ وقفہ سوالات آگے بڑھانے کے لئے اجلاس کی کارروائی 15منٹ کے لئے معطل کر دیتے ہیں اس دوران وزراء بھی ایوان میں آ جائیں گے چیئرمین سینٹ کی جانب سے اجلاس کی کارروائی 15منٹ کیلئے معطل کر نے کے بعد اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو وقفہ سوالات کے دوران وزیر مملکت برائے داخلہ بلیغ الرحمن نے بتایا کہ مشترکہ مفادات کونسل نے 8نومبر 2010ء کو فیصلہ کیا تھا کہ دو مراحل میں مردم شماری کی جائے گی، خانہ شماری کا کام 5اپریل سے مئی 2011ء کے دوران مکمل کر لیا گیا اب یہ مسئلہ دوبارہ مشترکہ مفادات کونسل میں جائے گا اور سی سی آئی کے فیصلے کی روشنی میں مردم شماری کا عمل آگے بڑھایا جائیگا اس عمل کے لئے پاکستان بیورو برائے شماریات پوری طرح تیار ہے، سی سی آئی کا اجلاس جلد ہو گا ہم پر امید ہیں موجودہ حکومت کے دور میں ہی مردم شماری ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ آخری مردم شماری بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ہی کرائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں خانہ شماری نہیں ہو سکی اس حوالے سے تحفظات کو دور کیا جائے گا کیونکہ پورے ملک میں مستقل اور منصوبہ بندی مردم شماری کی بنیاد پر ہی کی جا سکتی ہے۔ بلیغ الرحمن نے کہا کہ حکومت قانون اور آئین کا احترام کرتی ہے، مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس جلد بلائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ قانون کے تحت ہر دس سال بعد مردم شماری ضروری ہے اور اس لئے 2008ء میں یہ مردم شماری ہونی چاہیے تھی لیکن سابق حکومت نہیں کرا سکی اب ہم اس پر پیش رفت کریں گے۔اس دور ان عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر الیاس بلور کے سوال کے جواب میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے بتایا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ حکومت اٹھارویں ترمیم کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلانے کے حوالے سے آئین کا تقاضا پورا کیا جائے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

08/01/2014 - 22:06:36 :وقت اشاعت