سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز کااجلاس،1200افراد کو جعلی ڈاکٹر بنانے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 08/01/2014 - 22:06:36 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 22:06:36 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 22:06:36 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 22:05:51 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 22:05:51 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 22:05:51 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 21:42:20 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 21:42:20 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 21:38:24 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 21:38:24 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 21:34:28
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:01:42 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:17 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:21 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:23 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:27 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:29 اسلام آباد کی مزید خبریں

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز کااجلاس،1200افراد کو جعلی ڈاکٹر بنانے کاانکشاف، نیشنل کونسل برائے ہومیو پیتھک نے1200افراد کو جعلی ڈاکٹر بنا دیاجو معصوم لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں، ادارے کے امتحانات کا سسٹم انتہائی خراب ہے،امتحانات میں نقل عام کی جاتی ہے، ملی بھگت کر کے پیپرز میں اضافی نمبر لگوائے جاتے ہیں،کمیٹی کو بریفنگ

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔8 جنوری ۔2014ء)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز میں انکشاف کیا گیا کہ نیشنل کونسل برائے ہومیو پیتھک نے1200 افراد کو جعلی ڈاکٹر بنا دیاجو معصوم لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں، ادارے کے امتحانات کا سسٹم انتہائی خراب ہے،امتحانات میں نقل عام کی جاتی ہے اور ملی بھگت کر کے پیپرز میں اضافی نمبر لگوائے جاتے ہیں۔

سابقہ وفاقی وزیر برائے قومی صحت فردوعاشق اعوان کے دور میں بوگس بھرتیاں کر کے قومی خزانے کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر سید ظفر علی شاہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا ۔ اجلاس میں سینیٹر ز ڈاکٹر کریم احمد خواجہ ، ثریا امیرالدین ، کلثوم پروین اور ہیمن داس کے علاوہ وفاقی وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ ، سیکرٹری صحت امتیاز عنایت الہی ، نیشنل کونسل برائے ہومیو پیتھک، کالج آف فزیشن اینڈ سرجن آف پاکستان اور پی ایم ڈی سی کے اعلی احکام نے شرکت کی ۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں نیشنل کونسل برائے ہومیو پیتھک کے امتحانات کے چیئرمین نے کمیٹی کوبتایا کہ اس ادارے کی کونسل نے لوگوں سے ملی بھگت کر کے ادارے کی کارکردگی اور معیار کو انتہائی خراب کر دیا ہے۔1200افراد کو جعلی ڈاکٹر کی ڈگری بیچی گئی جو معصوم لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں اور اس ادارے کے امتحانات میں نقل عام کی جاتی ہے ۔ اور رہی سہی کسر پیپر کے نمبروں میں پیسے دے کر اضافہ کروا لیا جاتا ہے ۔

اسی طرح سابقہ وفاقی وزیر برائے صحت فردوس عاشق اعوان کے دور میں 16 فرضی بھرتی کر کے قومی خزانے کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچایا جا رہا ہے ۔ رائل کالج بہاولپور ہومیوپیتھک کے حکام نے بھی الزام لگایا کہ کونسل کے صدر سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے مختلف کالجوں کی رجسٹریشن نہیں کر رہے جس سے بہت سے اداروں کے طلباء متاثر ہو رہے ہیں۔ جس پر قائمہ کمیٹی نے سیکرٹری صحت سے سفارش کی کہ معاملے کی انکوائری کر کے معاملات کو حل کریں۔



مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

08/01/2014 - 22:05:51 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان