الطاف حسین نے ملک کے آئینی وقانونی ماہرین اورسیاسی ودفاعی تجزیہ نگاروں کی خدمت ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 08/01/2014 - 22:05:51 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 22:05:51 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 22:05:51 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 21:42:20 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 21:42:20 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 21:38:24 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 21:38:24 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 21:34:28 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 21:34:28 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 21:34:28 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 21:33:35
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

الطاف حسین نے ملک کے آئینی وقانونی ماہرین اورسیاسی ودفاعی تجزیہ نگاروں کی خدمت میں سات نکات پیش کردیئے ،جنرل پرویزمشرف پر آرٹیکل 6کے تحت مقدمہ چلاکر پھانسی یاسخت سے سخت سزا دینے کامطالبہ کرنیوالے میرے بیان کردہ دلائل کے جواب میں ٹھوس دلائل پیش کریں یاپھراپنے مطالبات سے دستبردارہوجائیں،قائد ایم کیوایم ۔ اپ ڈیٹ

لندن (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔8 جنوری ۔2014ء)متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے پاکستان کے باشعورعوام ، آئین اورقانون کے طالبعلموں اورخصوصاًملک کے چوٹی کے آئینی وقانونی ماہرین اورسیاسی ودفاعی تجزیہ نگاروں کومخاطب کرتے ہوئے کہاہے کہ وہ لوگ جو جنرل پرویزمشرف کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کا واحدذمہ دارقراردے کران پر آئین کے آرٹیکل 6کے تحت مقدمہ چلاکرانہیں پھانسی کی سزایاسخت سے سخت سزا دینے کامطالبہ کررہے ہیں میں تاریخ کی روشنی میں چندحقائق ایسے مطالبات کرنے والوں کے علم میں لاناضروری سمجھتاہوں تاکہ وہ یا تو میرے بیان کردہ ٹھوس دلائل کے جواب میں ٹھوس دلائل پیش کریں یاپھراپنے مطالبات سے دستبردارہوجائیں۔

میں نکتہ بہ نکتہ اپنے دلائل بیان کروں گا۔الطاف حسین نے کہاکہ 12اکتوبر1999ء کوایک جمہوری حکومت کوبرطرف کرکے مارشل لاء طرز کااقدام فوج کی جانب سے کیاجاتاہے جس لمحے پاک فوج کے جرنیلوں اورافسران نے جمہوری حکومت کی برطرفی کاآغاز کیااس وقت موجودہ ریٹائرڈچیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف ایک غیرملکی دورے سے وطن واپس آرہے تھے اور جب فوج کے جرنیل اورافسران زمین پر حکومت کی برطرفی کے تمام تر اقدامات کررہے تھے اس وقت جنرل ریٹائرڈ پرویزمشرف ہوائی جہاز میں سوارتھے اور فضاوٴں میں سفرکررہے تھے۔

انہوں نے کہاکہ جنرل پرویزمشرف کی زمین پرآمدکے بعد فوج کے جرنیلوں کااجلاس ہواجس میں آئین کو abeyance میں ڈالنے (آئین کی عارضی معطلی) کا فیصلہ اوراعلان ہوا اورایک عبوری آئین جاری کیاگیااور سپریم کورٹ کے ججزسے اس پی سی او کے تحت حلف لینے کوکہاگیا لیکن اس وقت کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سعیدالزماں صدیقی ، جسٹس مامون قاضی، جسٹس ناصر اسلم زاہد، جسٹس خلیل الرحمن، جسٹس وجیہہ الدین احمد اورجسٹس کمال منصور عالم نے پی سی او کے تحت حلف لینے سے انکارکردیا۔

انہوں نے کہاکہ اس وقت سپریم کورٹ وہائیکورٹ کے جن ججز نے پی سی اوکے تحت حلف لیا ان میں جسٹس ارشادحسن خان، جسٹس افتخارمحمدچوہدری، جسٹس بشیر جہانگیری، جسٹس شیخ ریاض احمد، جسٹس عبدالرحمان اورجسٹس چوہدری محمدعارف شامل تھے ۔الطاف حسین نے کہاکہ12اکتوبر1999ء کوجب اس وقت کے وزیراعظم میاں نوازشریف نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویزمشرف کو ان کے عہدے سے برطرف کیا اورآئین کے تحت حاصل اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے اس وقت کے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ضیاء الدین بٹ کوترقی دیتے ہوئے چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے پر فائزکرنے کاتحریری حکم جاری کیا اور انہیں چیف آف آرمی اسٹاف کی وردی اوربیجز لگائے لیکن جی ایچ کیوکے جرنیلوں اورکورکمانڈرز نے وزیراعظم کے ان احکامات کو ماننے سے صاف انکارکردیا۔

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

08/01/2014 - 21:38:24 :وقت اشاعت