دو مواقع پرپاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر کے حل پر پہنچ گئے تھے ، برطانوی اور بھارتی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 08/01/2014 - 15:20:03 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 15:18:07 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 15:18:07 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 15:18:07 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 15:16:35 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 15:14:49 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 15:13:07 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 14:57:50 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 14:57:50 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 14:57:50 وقت اشاعت: 08/01/2014 - 14:19:25
پچھلی خبریں - مزید خبریں

دو مواقع پرپاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر کے حل پر پہنچ گئے تھے ، برطانوی اور بھارتی میڈیا کا دعویٰ

لندن/نئی دہلی (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 8جنوری 2014ء)برطانوی اخبا ردی میل اور بھارتی اخبار انڈیا ٹو ڈے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ دو مواقع پرپاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر کے حل پر پہنچ گئے تھے، چناب فارمولے میں چناب کو سرحد تسلیم کیا جانا تھا، سری نگر بھارت کا حصہ ہے ، چناب کا کچھ مغربی حصہ پاکستان کو ملتا،اسی طرح پاکستان کا کچھ حصہ بھارت کو دیا جاتا،چار پیرامیٹرز میں سرحدوں پر نرمی غیر فوجی علاقہ،تجارت اور لوگوں کے روابط کا مشترکا لائحہ عمل، دونوں اطراف کے کشمیریوں کی شمولیت تھا۔

بدھ کو برطانوی اخباردی میل اور بھارتی اخبار انڈیا ٹو ڈے نے اپنی رپورٹس میں یہ انکشافات وزیر اعظم کے خصوصی نمائندے کے ایک انٹرویو کے حوالے سے کئے گئے۔پاکستانی مندوب نے انکشاف کیا کہ اٹل بہاری واجپائی اور من موہن سنگھ کے دور حکومت میں پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر پر ایک قرارداد کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم وزیر اعظم واجپائی اور جنرل مشرف کے درمیان علاقائی مراعات کاسوال پیدا ہوا جس میں دونوں ممالک کو اپنے کچھ علاقوں کا ایک دوسرے سے تبادلہ کرنا تھا،اسے چناب فارمولہ کا نام دیا گیا،اس کے مطابق چناب کو دونوں ممالک کی سرحد تسلیم کیا جانا تھا جو پاکستان اور بھارت کو تقسیم کرتی،فارمولے کے مطابق سری نگر بھارت کا حصہ ہی رہتا جبکہ چناب کا کچھ مغربی حصہ پاکستان کے حصہ بن جاتا،اسی طرح پاکستان کا کچھ حصہ بھارت کے پاس چلا جاتاتاہم

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

08/01/2014 - 15:14:49 :وقت اشاعت