سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم کی اسٹیٹ بینک کو کراچی سے اسلام آباد منتقل ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 06/01/2014 - 23:02:41 وقت اشاعت: 06/01/2014 - 23:02:41 وقت اشاعت: 06/01/2014 - 22:57:59 وقت اشاعت: 06/01/2014 - 22:57:59 وقت اشاعت: 06/01/2014 - 22:57:59 وقت اشاعت: 06/01/2014 - 22:56:54 وقت اشاعت: 06/01/2014 - 22:56:54 وقت اشاعت: 06/01/2014 - 22:56:54 وقت اشاعت: 06/01/2014 - 22:55:47 وقت اشاعت: 06/01/2014 - 22:55:47 وقت اشاعت: 06/01/2014 - 22:55:47
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:36 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:38 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:39 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 10:35:10 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 اسلام آباد کی مزید خبریں

سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم کی اسٹیٹ بینک کو کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے کی شدید مخالفت ،کراچی منی پاکستان اور اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز ہے اس کی منتقلی کا کوئی جواز نہیں ، سلام آباد منتقل کرنے سے کیا فائدہ ہو گا،سینیٹر ایم حمزہ،کرنل (ر) طاہر حسین مشہدی،مرکزی بینک اسلام آباد میں ہونا دارالحکومت کا حق ہے،سینیٹر حاجی عدیل، افراسیاب خٹک

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔6 جنوری ۔2014ء) سینیٹ کے اجلاس میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) اور متحدہ قومی موومنٹ نے اسٹیٹ بینک کو کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی منی پاکستان اور اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز ہے اس کی منتقلی کا کوئی جواز نہیں ، اسلام آباد منتقل کرنے سے کیا فائدہ ہو گا جبکہ اے این پی نے مطالبہ کیا کہ مرکزی بینک اسلام آباد میں ہونا دارالحکومت کا حق ہے ۔

پیر کو سینیٹ کے اجلاس میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ہیڈ کوارٹر کو کراچی سے اسلام آباد منتقل نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہونیوالی صورتحال پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے اے این پی کے سینیٹر حاجی عدیل نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد قانون ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس سندھ اسمبلی کی عمارت میں ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد مشاورت کے بعد دارالحکومت کراچی میں بنایا گیا جس کی وجہ سے اسٹیٹ بینک سمیت تمام بڑے بینکوں اور اداروں کے ہیڈ آفس کراچی میں بنے۔

100 بڑے تجارتی اداروں کے صدر دفاتر اور درآمدی و برآمدی تجارتی فرموں کے دفاتر بھی کراچی میں ہیں۔ ون یونٹ بنایا گیا تو اے این پی نے اس کی مخالفت کی۔ کراچی کو دارالحکومت بنانے کیخلاف بھی ہم نے تحریک چلائی۔ ون یونٹ پاکستان ٹوٹنے پر ہی ٹوٹا۔ ہماری ان تحریکوں پر دارالحکومت اسلام آباد لایا گیا۔ اسلام آباد کے دارالحکومت بننے کے بعد دیگر تمام اداروں کے مراکز اسلام آباد منتقل کئے گئے لیکن اسٹیٹ بینک اسلام آباد نہ لایا گیا جس کی وجہ سے کراچی سارے ملکی کاروبار کو لیڈ کرنے لگا۔

چین اور بھارت سمیت اگر دیگر ممالک مرکزی بینک بڑے تجارتی شہروں کی بجائے دارالحکومتوں میں ہیں۔ اسٹیٹ بینک

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

06/01/2014 - 22:56:54 :وقت اشاعت