بنگلہ دیش،125حلقوں کے نتائج آگئے ،90نشستوں پر حکمراں جماعت کی واضح کامیابی،35نشستوں ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 06/01/2014 - 22:10:29 وقت اشاعت: 06/01/2014 - 21:42:41 وقت اشاعت: 06/01/2014 - 21:42:41 وقت اشاعت: 06/01/2014 - 21:41:57 وقت اشاعت: 06/01/2014 - 21:41:57 وقت اشاعت: 06/01/2014 - 21:40:01 وقت اشاعت: 06/01/2014 - 21:39:20 وقت اشاعت: 06/01/2014 - 21:39:20 وقت اشاعت: 06/01/2014 - 21:39:20 وقت اشاعت: 06/01/2014 - 20:52:40 وقت اشاعت: 06/01/2014 - 20:52:40
پچھلی خبریں - مزید خبریں

بنگلہ دیش،125حلقوں کے نتائج آگئے ،90نشستوں پر حکمراں جماعت کی واضح کامیابی،35نشستوں پر اتحادی اورآزاد امیدواروں کی جیت،153امیدوارپہلے ہی کامیاب قراردیئے جاچکے ہیں،اپوزیشن جماعتوں کی ہڑتال، ملک بھر میں ٹریفک معطل،کاروباری مراکز بند،کرنسی ریٹ بھی گرگیا،مبصرین کامعاشی حالات مزید خراب ہونے کا انتباہ، وزیراعظم حسینہ سیاسی عمل کومزید آگے بڑھاتی ہیں تو اثرات تباہ کن ہوں گے،بنگالی میڈیا کا انتخابات پر تبصرہ۔۔عوام نے پرتشددسیاست کوناکام بنادیا،وزیراطلاعات

ڈھاکہ(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔6 جنوری ۔2014ء)بنگلہ دیش میں 147نشستوں پر ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں 125کا اعلان کردیا گیا ،حکمراں جماعت عوامی لیگ نے 90سیٹوں پر کامیابی حاصل کرلی،دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کی ہڑتال کی کال پر ملک بھر میں ٹریفک کا نظام معطل اورکاروباری مراکز بند رہے،مبصرین نے کہاہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی ہڑتال کی کال پر ملک بھر میں کروڑوں روپے کا نقصان ہورہا ہے جبکہ بنگلہ دیشی کرنسی ٹکا میں بھی گراوٹ آئی ہے ،فیکٹریاں بندہونے سے لاکھوں مزدوربے روزگارہوچکے ہیں،معاشی حالات مزید خراب ہونے کاانتباہ کیا گیاہے، بنگلہ دیشی میڈیا نے انتخابات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ اگر وزیراعظم شیخ حسینہ سیاسی عمل کو انتخابات کے بعد مزید آگے بڑھاتی ہیں تو اِس کے ملک کی مجموعی صورت حال پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بنگلہ دیشی پارلیمنٹ 300 اراکین پر مشتمل ہے جن 147 نشستوں کے لیے ووٹنگ ہوئی ، اْن میں سے 125کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج موصول ہو گئے ۔

ان میں سے90 حلقوں میں عوامی لیگ کے امیدوار بھاری اکثریت سے جیت گئے ،باقی حلقوں پر اتحادی اور آزاد امیدواروں کو کامیابی حاصل ہوئی ۔ بنگلہ دیش کے وزیر اطلاعات حسان الحق کا کہنا تھا کہ ووٹنگ کے لیے ٹرن آوٴٹ کوئی معنی نہیں رکھتا اصل میں عوام نے پرتشدد سیاست کو ناکام بنا دیا ،مبصرین کے مطابق عام تاثر یہ ہے کہ 1971میں آزادی کے بعد بنگلہ دیش کے اندر معاشرتی اور سیاسی تقسیم اپنے عروج کو پہنچ گئی ہے اور

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

06/01/2014 - 21:40:01 :وقت اشاعت