خیبر پختونخوا میں بجلی کی پیداوار اور ضرورت میں زمین آسمان کا فرق ہے ،پرویزخٹک، ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 05/01/2014 - 20:33:42 وقت اشاعت: 05/01/2014 - 20:33:42 وقت اشاعت: 05/01/2014 - 20:33:42 وقت اشاعت: 05/01/2014 - 20:03:16 وقت اشاعت: 05/01/2014 - 20:03:16 وقت اشاعت: 05/01/2014 - 19:44:56 وقت اشاعت: 05/01/2014 - 19:04:17 وقت اشاعت: 05/01/2014 - 18:34:23 وقت اشاعت: 05/01/2014 - 18:34:23 وقت اشاعت: 05/01/2014 - 18:31:46 وقت اشاعت: 05/01/2014 - 18:29:09
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

خیبر پختونخوا میں بجلی کی پیداوار اور ضرورت میں زمین آسمان کا فرق ہے ،پرویزخٹک، اختیار صوبے کو مل جائے تو صوبائی خودمختاری کے تقاضے پورے ہونگے، صوبے کی ترقی اور قومی یکجہتی کے فروغ میں سنگ میل قدم ثابت ہو گا،وزیراعظم اور وزیر پانی و بجلی کو خطوط بھی لکھ چکے ہیں جنکے جواب کا ہمیں انتظار ہے ،وزیراعلی خیبرپختونخوا کاپشاورمیں قومی جرگہ کے وفد سے گفتگو

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔5 جنوری ۔2014ء)خیبرپختونخواکے وزیراعلیٰ پرویزخٹک نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں بجلی کی پیداوار اور ضرورت میں زمین آسمان کا فرق ہے جس کا اختیار اگر صوبے کو مل جائے تو نہ صرف آئین اور صوبائی خودمختاری کے تقاضے پورے ہونگے بلکہ یہ صوبے کی ترقی اور قومی یکجہتی کے فروغ میں سنگ میل قدم ثابت ہو گا اس مقصد کیلئے وہ وزیراعظم اور وزیر پانی و بجلی کو خطوط بھی لکھ چکے ہیں جنکے جواب کا ہمیں انتظار ہے اور ہم اپنے مرکز سے اچھے کی توقع رکھتے ہیں تاہم وزیراعلی نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ ملک میں جاری توانائی بحران کے پیش نظر بجلی کا استعمال احتیاط سے کریں اور بجلی چوری کی روک تھام میں واپڈا سے پورا تعاون کریں انہوں نے کہا کہ وارسک ڈیم سے قومی گرڈ میں بجلی کی خاطر خواہ پیداوار شامل ہوتی ہے اسلئے اس ڈیم کے متاثرین کی داد رسی بھی اتنی ہی ضروری ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں وہ کے پی سات سے رکن صوبائی اسمبلی محمود جان کی زیرقیادت خدمتگار قومی جرگہ کے ایک وفد سے باتیں کر رہے تھے جس نے علاقے کے بعض مسائل سے انہیں اگاہ کیا جن میں سرفہرست وارسک ڈیم کے متاثرین کے بجلی بل کے بقایاجات کا تھا وفد میں سابق صوبائی وزیر حافظ حشمت خان، ارباب شہریار خان اور ارباب شماز بھی شامل تھے وفدنے بتایا کہ وارسک ڈیم کے اہل علاقہ نے میٹر نہیں لگوائے تاہم اگر انکے ذمے بھاری بھرکم بجلی واجبات میں رعایت کی جائے اور انکی رائلٹی سے منہا کیا جائے تو وہ نہ صرف بجلی میٹر لگوانے کو تیار ہیں بلکہ باقاعدگی سے بل بھی ادا کریں گے وزیراعلیٰ نے کہا

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

05/01/2014 - 19:44:56 :وقت اشاعت