کراچی میں 2013ء میں 2736 بچے لاپتہ ہوئے ، غیر سرکاری تنظیم کی رپورٹ ،صرف 173 بچوں کی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار جنوری

مزید مقامی خبریں

وقت اشاعت: 05/01/2014 - 21:30:38 وقت اشاعت: 05/01/2014 - 17:08:27 وقت اشاعت: 05/01/2014 - 14:02:04 وقت اشاعت: 05/01/2014 - 13:12:47 وقت اشاعت: 05/01/2014 - 13:10:52 وقت اشاعت: 05/01/2014 - 13:04:19 وقت اشاعت: 05/01/2014 - 12:47:58 وقت اشاعت: 05/01/2014 - 12:39:45
-

کراچی

کراچی میں 2013ء میں 2736 بچے لاپتہ ہوئے ، غیر سرکاری تنظیم کی رپورٹ ،صرف 173 بچوں کی گمشدگی کی ایف آئی آر پولیس تھانے میں درج ہو سکی

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔5 جنوری ۔2014ء)کراچی میں 2013کے دور ان مختلف علاقوں سے 2736 بچے لاپتہ ہوئے۔ اس بات کا انکشاف کراچی میں خواتین اور بچوں کیلئے ایک سرگرم غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے ایک سالانہ رپورٹ کے ذریعے کیا گیا ۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کراچی کے مختلف علاقوں سے گزشتہ سال 2013 میں 2736 بچے لاپتہ ہوئے جسمیں سے صرف 173 بچوں کی گمشدگی کی ایف آئی آر پولیس تھانے میں درج ہو سکی۔

غیر سرکاری تنظیم روشنی ہیلپ لائن کے سربراہ محمد علی نے بتایا کہ بدقسمتی کی بات ہے کہ جب والدین بچوں کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروانے جاتے ہیں تو پولیس ان سے تعاون نہیں کرتی۔ محمد علی کا نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ والدین بچوں کی گمشدگی کی رپورٹ درج ہی نہیں کرواتے جس کی وجہ قانونی اداروں پر عدم اعتماد ہے۔ والدین مزید شکایت کرتے ہیں کہ رپورٹ درج کروانے کے لئَے تھانوں کیکئی کئی چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ایسے کیسز پولیس تھانوں میں درج ہونے کے بجائے روشنی پیلپ لائن کو شکایات کی صورت میں موصول ہوتے ہیں گمشدہ ہونیوالے ان بچوں کی عمریں 6 سے 14 سال کے لگ بھگ ہے جس میں 66 فیصد لڑکے اور 34 فیصد شرح لڑکیوں کی کی ہے۔رپورٹ کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں سب سے زیادہ گمشدگی کی شکایات تیموریہ، جمشید ٹاون، مبینہ ٹاون، عزیز بھٹی اور محمود آباد سے موصول ہوئی ہیں ان علاقوں میں پولیس اور وقانونی ادارے بچوں کی تلاش کیلئے کسی قسم کے اقدامات نہیں کرتے جبکہ والدین اپنی مدد آپ کے تحت ہی312 بچوں کی تلاش کرسکی ہیں جو کہ صرف 17 فیصد ممکن ہوئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ بچوں کی گمشدگی کی سالانہ رپورٹ پیلپ لائن کو موصول ہونیوالی شکایات اور مساجدوں لئے گئے معلومات سے ترتیب دی گئی جبکہ پولیس تھانوں میں ان اعاد و شمار کو مرتب کرنے کا بھی کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔رپورٹ کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں گمشدگی کے کیسز میں سے کئی والدین نے پولیس سے رابطہ کرنے کے بجائے اپنے پڑوسیوں اور اپنی مدد آپ کے تحت 312 بچوں کو تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے۔رپورٹ میں کہا گیاکہ شہر کے مختلف علاقوں میں قائم مقامی مساجد بھی بچوں کی گمشدگی کے بارے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں بچے کے لاپتہ ہونے کے بعد والدین کا پہلا کام مساجدوں میں بچوں کی گمشدگی کے اعلانات کروانا ہوتا ہے۔شہر کی ہر مسجد میں ماہانہ بنیاد پر 2 سے 3 اعلانات کئے جاتے ہیں

05/01/2014 - 14:02:04 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان