آزادکشمیر اور پاکستان کی معیشت کی ترقی اور خوشحالی کیلئے برفباری، بارشیں اور ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ جنوری

میرپورخاص

میرپورخاص شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

آزادکشمیر اور پاکستان کی معیشت کی ترقی اور خوشحالی کیلئے برفباری، بارشیں اور موسم سرما کی مدت میں اضافہ فروری ہے، ڈاکٹر حبیب الرحمن

میرپور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 4جنوری 2014ء) وائس چانسلر میرپور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈاکٹر حبیب الرحمن نے کہا ہے کہ آزادکشمیر اور پاکستان کی معیشت کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اشد ضروری ہے کہ برف باری اور بارشیں زیادہ ہوں اور موسم سرما کی مدت میں بھی اضافہ ہو ،گزشتہ بیس سالوں کے دوران موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے اس خطہ کا موسم تیزی سے تبدیل ہوا ہے اور ہر سال سردی کی شدت اور دورانیہ میں کمی آرہی ہے اگر یہ صورتحال جاری رہی تو کشمیر اور پاکستان بنجر ہو جائیں گے ڈاکٹر حبیب الرحمن نے کہا کہ پاکستان اور آزادکشمیر کی زراعت کی ترقی کے لیے وافر مقدار میں پانی ضرور ی ہے اور صنعتوں کا پہیہ چلنے کے لیے بجلی کی ضرورت ہے جو پانی کے ذریعے سستے ترین ریٹس پر پید ا کی جا سکتی ہے آزادکشمیر گلگت بلتستان کے پہاڑوں پر جو برف موسم سرما میں پڑتی ہے وہ پورے سال کے لیے وطن عزیز کو پانی فراہم کرتی ہے اس وقت ارضیاتی ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے انتہائی خطرناک صورتحال پیدا ہو رہی ہے اور اس حوالے سے سائنس دانوں کو کام کرنے کی ضرورت ہے میرپور یونیورسٹی آف اینڈ ٹیکنالوجی کے ریسرچ سکالر ز اور تمام سائنس دانوں کو ہم یہ پراجیکٹس دے رہے ہیں کہ کس طریقے سے دستیاب پانی کو انرجی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے تا کہ توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مد د مل سکے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایف ایم 93میرپور ریڈیو آزادکشمیر کے مقبول ترین پروگرام ” لائیو ٹاک ود جنید انصاری “ میں گفتگو کے دوران کیا ۔ایکسپرٹ کے فرائض سینئر صحافی راجہ حبیب اللہ خان نے سر انجام دیئے جبکہ دیگر مہمانوں اے کے این ایس کے صدر عامر محبوب اور سابق مشیر آزادحکومت سردار عبدالراز ق ایڈووکیٹ نے بھی گفتگو میں حصہ لیا ۔

ڈاکٹر حبیب الرحمن نے کہا کہ رواں سال جاری موسم سرما میں آزادکشمیر کے مختلف بالائی پہاڑی علاقے وادی نیلم ،وادی جہلم ،وادی لیپہ ،چکوٹھی اور مختلف قصبات و دیہات برف باری کے دوران لینڈ سلائیڈنگ اور راستے بلاک ہونے کی وجہ سے پوری دنیا سے کٹ گئے ہیں یہ سراسر ہماری نالائقی ہے پوری دنیا کے مختلف ممالک میں بھی برف باری ہوتی ہے اور اگر کوئی سڑک بلاک ہو جائے اس کے لیے متبادل انتظامات کیے جاتے ہیں بدقسمتی سے ہمارے یہاں جب کبھی بھی زیادہ بارشیں ہو جائیں یا برف باری کی وجہ سے راستے بلاک ہو جائیں تو انتظامی سطح پر تمام نظام کسی بھی قسم کا رسپونس دینے کے قابل نہیں ہے اس حوالے سے ہمیں ترقی کرنے کی ضرورت ہے ڈاکٹر حبیب الرحمن نے کہا کہ اگر موسم سرما کا دورانیہ اسی طرح کم ہوتا رہا اور برف باری اور بارشیں خدانخواستہ کم ہونا شروع ہو گئے تو پاکستان اور آزادکشمیر نہ صرف بنجر بلکہ پورے علاقے میں قحط سالی بھی پیدا ہو سکتی ہے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اے کے این ایس کے صدر عامر محبو ب نے کہا کہ یورپ سے لے کر پوری دنیا کے مختلف ممالک میں نے دیکھے ہیں اور ان ممالک میں پاکستان اور آزادکشمیر سے کئی گنا زیادہ برف باری ہوتی ہے لیکن ان ممالک میں عوام کو موسمی شدت سے بچانے کے لیے انتظامات کیے جاتے ہیں جبکہ ہمارے یہاں حکمران اور سیاستدان دعوے تو ”آسمان شکن“ کرتے ہیں لیکن عملی اقدامات انتہائی مایوس کن اور ” اعصاب شکن “ ہوتے

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

04/01/2014 - 15:02:06 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان