مشرف کی طبی رپورٹ کل تیار کی جائیگی،طبیعت تسلی بخش،وی آئی پی روم میں منتقل
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ جنوری

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:01:42 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:17 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:21 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:23 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:27 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:29 اسلام آباد کی مزید خبریں

مشرف کی طبی رپورٹ کل تیار کی جائیگی،طبیعت تسلی بخش،وی آئی پی روم میں منتقل

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 4جنوری 2014ء)عسکری ادارہ امراض قلب کے میڈیکل بورڈ نے سابق صدر پرویز مشرف کی طبیعت تسلی بخش قرار دے دی ،انہیں آئی سی یو سے وی آئی پی روم میں منتقل کر دیا گیا ہے۔سابق صدر کی طبی رپورٹ کل تیار کی جائے گی. احمد رضا قصوری کا کہنا ہے پرویز مشرف ذہنی دباو کا شکار ہیں اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے،سابق صدر پرویز مشرف راولپنڈی کے آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں زیر علاج ہیں۔

صبح ان کے خون کے نمونے دوبارہ لیے گئے۔یہ نمونے اور سی ٹی انجیو گرام رپورٹ امریکہ اور برطانیہ بھجوا دی گئیں۔اے ایف آئی سی میں ڈاکٹروں کے سات رکنی میڈیکل بورڈ کے اجلاس میں پرویز مشرف کے گزشتہ روز لیے گئے خون کے نمونوں اور دیگر ٹیسٹ رپورٹس کا جائزہ لیا گیا۔میڈیکل بورڈ نے رپورٹس کو کلیئر قرار دیتے ہوئے پرویز مشرف کی حالت کو تسلی بخش قرار دے دیا تاہم ابھی تک انہیں ہسپتال سے ڈسچارج نہیں کیا گیا۔

ان کا کولیسٹرول عام سطح سے تھوڑا زیادہ ہے۔پرویز مشرف کو سی سی یو سے وی وی آئی پی روم میں منتقل کیا جائے گا اور مزید ٹیسٹ بھی لیئے جائیں گے۔ہسپتال انتظامیہ کے مطابق آئی سی یو سے وی وی آئی پی روم میں منتقل کرنے کے بعد مشرف کے مزید ٹیسٹ لیے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹروں نے پرویز مشرف کو سگریٹ نوشی سے منع کر دیا ہے۔ڈاکٹروں نے پرویز مشرف کو خون پتلا کرنے والی ادویات دینا شروع کر دی ہیں تاہم میڈیکل بورڈ کو پرویز مشرف کے علاج کیلئے غیر ملکی ڈاکٹروں کی رائے کا بھی انتظار ہے،برطانوی اور امریکی ڈاکٹروں کی مشاورت سے مزید علاج کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بیگم صہبا مشرف سے بھی پرویز مشرف سے بات بھی کرائی گئی۔دوسری طرف پرویز مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف فوجی ہسپتال کے آئی سی یو میں زیر علاج ہیں اور زہنی دباو کا شکار ہیں ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

04/01/2014 - 11:59:32 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان