
![]() |
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔28جولائی۔2010ء)اسلام آباد میں تباہ ہونے والے طیارے میں متعدد اہم افراد موت کی آغوش میں چلے گئے جے یو آئی اٹک کے امیر نواب الحسن، ائرہوسٹس ناہید بھٹی، یوتھ پارلیمنٹ کے رکن پریم چند اورمونا ڈومکی کے جسد خاکی شناخت کرلئے گئے ہیں۔ حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں وزارت سائینس و ٹیکنالوجی کے جوائینٹ ٹیکنیکل ایڈوائزر نبیل لطفی بھی سوار تھے جو کراچی میں پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے اجلاس میں شرکت کے بعد واپس اسلام آباد جارہے تھے، دو امریکی شہری اور ایسٹریلوی سائنسدان مرکو بھی بد قسمت طیارے کے مسافر تھے، مرکو ، نسٹ یونیورسٹی میں لیکچر دینے اسلام آباد جا رہے تھے۔مسلم لیگ ن سندھ کے میڈیا کو آرڈی نیٹر عبدالغنی سوریانی، تحصیل تلہ گنگ کے سابق یوسی ناظم ملک سکندر اور تحصیل تلہ گنگ کے سابق یوسی ناظم ملک سکندر بھی جاں بحق ہونے والوں میں شامل ہیں۔ یوتھ پارلیمنٹ کے نو عمر ارکان رباب نقوی، پریم چند، اویس بن لئیق، بلال جامی، حسن جاوید اور ارسلان احمد بھی بد قسمت طیارے کے مسافر تھے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والی خواتین فٹبال ٹیم کی رکن میشا داؤد بھی موت کی آغوش میں جا پہنچیں، آل پاکستان آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین افضال مسعود جنرل سیکریٹری عطاء اللہ ہاشمی اور فنانس سیکریٹری محبوب وزیر اور کنٹریکٹر ایسوسی ایشن کے صدر عین الآغا بھی حادثے کا شکار ہوئے۔کشمور کے ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے چار افراد موناڈومکی، افشاں ڈومکی ، عامرڈومکی اور ملیح ڈومکی بھی حادثے کا شکار ہوئے۔۔ جہاز میں دو سگے بھائی سہیل رشید اور عاطف رشید بھی سوار تھے، طیارے کے عملے میں جہاز کے پائلٹ کیپٹن پرویز اقبال چوہدری تھے جو پہلے پی آئی اے کے پائلٹ تھے اور تقریبا پینتیس ہزار فلائنگ ہاورز مکمل کر چکے تھے، کو پائلٹ منتجب الدین احمد تھے جنہوں نے انیس سو تیرانوے میں پاکستان ائیرفورس جوائن کی تھی۔ دو سال پہلے پی اے ایف سے فراغت حاصل کی اور ایک سال پہلے ائیربلو جوائن کی۔ کیبن کیو میں شازیہ رزاق، ام حبیبہ، ناہید اور حنا عثمان شامل تھیں۔ 28/07/2010 22:53:46
|
||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||