بند کریں
جمعہ فروری

قاسم علی کے کالم

عالمی اسلامی یوم دفاع کا خواب کب پورا ہوگا ؟

قاسم علی :

بھارت کی جانب سے کشمیرپر غاصبانہ قبضہ نصف صدی سے زائد کا قصہ ہے اور اس پر ہماری بھارت کیساتھ تین جنگیں بھی ہوچکی ہیں ،اسرائیل کی جانب سے معصوم فلسطینیوں پر آئے روز بمباری اور راشن پانی کی بندش سے فلسطینیوں کی زندگیاں اجیرن ہوچکی ہیں،امریکی سازشوں کے باعث عراق ،لیبیا ،مصر اور شام میں جنگ و جدل ختم ہونے میں نہیں آرہی ادھر انڈیا کی جانب سے پاکستان کے خلاف جنگ کی ایک بار پھر تیاریاں کی جارہی ہیں اور بھارتی آرمی چیف نے اپنی فوج کو محدود جنگ کیلئے تیار رہنے کا حکم بھی دے دیا ہے جس کا آغاز وہ سرحدی علاقوں میں اائے روز تباہ کن فائرنگ سے کربھی چکاہے جس کے نتیجے میں امسال شہادتوں کی تعداد تقریباََ ساٹھ ہوچکی ہے مگر امت مسلمہ کی اس پریشانی اورمصیبت کی اس گھڑیوں میں پوری مسلم دنیا کے عالیشان تختوں پر براجمان حکمرانوں اور خصوصاََاو آئی سی کا کردار کہیں ڈھونڈے سے بھی نہیں نظر نہیں آتااو آئی سی تو اپنے دفاع امت کے مشن کو کب کی فراموش کرچکی ہے دوسری جانب تمام مسلم حکمران بھی یہ بھول چکے ہیں کہ یہ ہمارے وہی مسلمان بھائی ہیں جن کے بارے میں حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ''سب مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں کہ جسم کے ایک حصے کو اگر تکلیف پہنچے تو اس کو سارا جسم محسوس کرتا ہے'' اس بدترین منافقت کے بعد عوام یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ مسلم حکمرانوں کے روپ میں اسلامی ممالک پر صیہونی کٹھ پتلیاں مسلط ہیں جن کی طرف سے تو ہردور میں کفار کی جانب سے مظالم پر تقاریر،جلسے جلوسوں اور احتجاج کی صورت میں اگر کوئی مذمتی الفاظ بھی اداہوتے ہیں تو وہ بھی شائد تل ابیب اور پینٹاگان کی اجازت سے کیوں کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ان بیانات اور الفاظ کا کوئی اثر کبھی نہیں ہوا کیوں کہ اگر ہم ماضی پر ایک نظرڈالیں تو ہمیں 1982ء میں صرف 48گھنٹوں میں جنرل شیرون کے ہاتھوں 8000مسلمانوں کا قتل عام بھی نظرآتا ہے اور 2008ء میں حماس کے برسراقتدارآنے کے بعد کی ناکہ بندی اور بمباری بھی جس میں1400کے قریب فلسطینیوں کی شہادت بھی ہمارے سامنے ہیں جن میں زیادہ تر تعداد نابالغ بچوں کی تھی اور گزشتہ برس عید کے ایام میں بہتر گھنٹے کی جنگ بندی کو صرف تین گھنٹوں میں توڑ کر بمباری کردی گئی اور بدھوں کی جانب سے مسلمانوں پر کئے گئے روح فرساقتل عام کوکون بھول سکتا ہے ان تمام مظالم پر امریکہ ویورپ اور خود اسرائیل میں بھی اس حیوانیت پر لوگ سڑکوں پر نکل آئے مگرانسانی حقوق کے نام نہاد چیمپیئن امریکہ و یورپ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی اور رینگے گی بھی نہیں جب تک اس کا مستقل اور ٹھوس حل نہیں کیا جاتا جو کہ ایک عالمی اسلامی فوج کے سوا کچھ نہیں جس کا تصور کئی دہائیاں قبل مرحوم شاہ فیصل،ذولفقار علی بھٹواور مہاتیر محمد پیش کرچکے ہیں ۔

اگرچہ موجودہ حالات میں جب تقریباََ تمام اسلامی ممالک پر امریکی غلام براجمان ہیں یہ خاصا مشکل ہے مگر اب اگر یہ لوگ اپنی زندگیوں اور اقتدار کو ہی سامنے رکھیں جس کے بچاوٴ کیلئے یہ امریکہ ویورپ کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں تو پھر بھی انہیں فوراََ مضبوط اسلامی بلاک کا قیام عمل میں لانا ہوگا جس کی اپنی یونیورسٹیاں ہوں جہاں سے مسلم امہ کے اپنے سائینسدان اور انجینئر پیدا ہوں تاکہ مسلمان سائینس و ٹیکنالوجی میں یہودیوں اور عیسائیوں کی دسترس سے باہر نکل آئے،اس کیساتھ اگر تمام مسلمان ممالک ان ظالم ممالک کے ساتھ تجارتی بائیکاٹ کرکے صرف آپس میں تجارت شروع کردیں تو راتوں رات اسرائیل سمیت پورے مغرب کو نانی یادآجائے گی کیوں کہ یہ ایک تلخ ترین حقیقت ہے کہ مسلمان ممالک پر دن رات مظالم ڈھانے والے ممالک کی سب سے بڑی منڈی بھی ہمارے مسلمان ممالک ہیں یعنی وہ جس سرمائے سے ڈیزی کٹر اور فاسفورس بم بناکر ہمارے مسلمان بھائیوں پر برساتے ہیں وہ یہ سرمایہ کماتے بھی ہم سے ہی ہیں اور تو اور ٓاپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ظالم ترین اور ایک ناجائزوسفاک ریاست اسرائیل کے اردگرد آباد بارہ اسلامی ممالک یہیودی مصنوعات کی تیسری بڑی منڈی ہیں آہ۔


سادگی اپنوں کی اور غیروں کی عیاری بھی دیکھ
سائنس و ٹیکنالوجی میں خودکفالت کے ساتھ ساتھ اگر ہم اسلامی فوج کے قیام پر ایک سرسری سی نظر ڈالیں تو ہمیں ایک طاقتور اور مضبوط ترین فوج بنتی نظرآتی ہے ۔مثلاََ آپ دیکھیں کہ ان 61اسلامی ممالک کی اس وقت کل آبادی ایک ارب ستر کروڑ ہے ،ان کے پاس تین کروڑ پچاس لاکھ کلومیٹر رقبہ ہے ان ممالک کے پاس موجود ٹرینڈ فوجیوں کی تعداد 80لاکھ ہے اور یہ تمام ممالک اپنے دفاع پر 80ارب ڈالر کی خطیر رقم خرچ کرتے ہیں ۔

اب اگر یہ تمام ممالک اپنے بجٹ کا ایک چھوتھائی حصہ اس عالمی اسلامی فوج کو دے دیں اور اپنی آرمی کا بھی چوتھا حصہ اس فوج کیلئے وقف کردیں تو یہ اسلحہ،تیکنیک اور سب سے بڑھ کر جذبہ ایمانی و شہادت سے لیس وہ فوج ہوگی جس کی دنیا میں کوئی نظیر نہیں ہوگی اورجس کے سامنے امریکہ،فرانس،برطانیہ،چین ، جرمنی اسرائیل اور بھارت کی افواج مل کر بھی آجائیں تو بھی اس کاسامنے ٹھہر نہیں پائیں گی اگرمسلم حکمرانوں نے اب بھی اپنی فکر نہ کی تو اس کی داستاں بھی نہ ہوگی داستانوں میں ۔

ہمیں اتحاد امت اور عالمی اسلامی فوج کے قیام کیلئے سنجیدہ کوششیں تیز کرنا ہوں گی اور ایک ایسی فوج تیارکرنا ہوگی جو کسی بھی مسلم ملک پر مصیبت کی گھڑی میں ہمہ وقت تیار کھڑی ہو اور پھر پوری دنیا ایک ساتھ ہی عالمی اسلامی یوم دفاع منایا جائے ۔اس کیلئے پہلے مرحلے میں اگر پاکستان،ترکی،مصر اور سعودی عرب اس کی بنیاد رکھ دیں تواور آپس کے تمام تر اختلافات کو بھلاکر اپنی بقا کیلئے ایک ہوجائیں تو دیگر ممالک کی اس بلاک میں شمولیت چنداں مشکل نہیں ہوگی اور اس کے بعد عالمی طاقت کا مرکز صرف اور صرف عالم اسلام ہوگا ۔

وقت اور دشمن کی سازشوں نے روزروشن کی طرح یہ ثابت کردیا ہے کہ مسلم امت کا اتحاد اور اسلامی فوج کا قیام مسلم امت کے حکمرانوں پر ایک قرض ہے جس کو اداکرکے مسلمان بھی محفوظ رہ سکتے ہیں اور اسلام کا نام بھی مزید روشن ہوگا اور اگر خدانخواستہ ایسا نہ کیاگیا تو اللہ اسلام کو زندہ رکھنے کیلئے تو اور لوگوں کو بھی پیدا کرلے گا مگر یہ نام نہاد مسلم حکمران اپنی جھوٹی شان و شوکت کے ساتھ غرق ہوجائیں گے اور ٓانیوالی ہماری نسلیں ان کی قبروں پر یہ کہہ کر لعنتیں بھیجاکریں گی کہ یہ ہیں وہ لوگ جن کو اللہ نے مسلمانوں پرحکومت دے کر عزت دی مگر انہوں نے یہودونصاریٰ کی غلامی اختیارکرکے اپنے آپ کوذلت وگمنامی کے عمیق گڑھوں میں دھکیل دیا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-09-05

کالم نگار     :     قاسم علی

قاسم علی کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-