بند کریں
جمعرات فروری

بِلّاآزاد ہی پھرتا رہے گاکیا۔۔؟

پروفیسر رفعت مظہر :

گڑھی خُدابخش میں بینظیرشہید کی برسی پر پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین جناب آصف زرداری اوردیگر اکابرین نے بہت سی باتیں کیں،بی بی شہیدکے کارنامے گنوائے ،اُنکی سیاسی رفعتوں سے جیالوں کو روشناس کرایا لیکن اگرکسی نے ذکرنہیں کیا تو اِس بات کاکہ بی بی کے قاتل ابھی تک زندہ کیوں ہیں ۔جب بھی جیالے یہ نعرہ لگاتے ہیں ”بی بی ہم شرمندہ ہیں ،تیرے قاتل زندہ ہیں“توپیپلزپارٹی سے کوئی تعلق نہ رکھنے کے باوجود خودہمیں بھی شرمندگی محسوس ہونے لگتی ہے کیونکہ بی بی کی شہادت کے بعد پیپلزپارٹی نے ہی پانچ سال تک حکومت کی لیکن قاتلوں کا سراغ لگانے میں نہ صرف ناکام رہی بلکہ سچ تو یہی ہے کہ ایسی کوئی سنجیدہ کوشش کی ہی نہیں گئی۔

البتہ جب بیت اللہ محسودڈرون حملے میں ماراگیا تو اُس وقت کے وزیرِاعظم یوسف رضاگیلانی نے بڑے فخرسے کہہ دیا ”ہم نے بی بی شہیدکے قتل کا بدلہ لے لیا“۔جبکہ بی بی کی شہادت کے فوراََبعد بیت اللہ محسودیہ اعلان کر چکاتھاکہ ”ہم عورتوں پرحملے نہیں کیا کرتے “۔اُس وقت زرداری صاحب نے بھی دوٹوک الفاظ میں کہاکہ بی بی کے قتل میں طالبان ملوث نہیں ۔

اُنہوں نے توقاف لیگ کومودرِالزام ٹھہراتے ہوئے ”قاتل لیگ“قراردیا ۔یہی قاتل لیگ بعدمیں ”قابل لیگ“قرارپائی اورقاف لیگ کے وزرا ء کی فوج ظفرموج کے علاوہ چودھری پرویزالٰہی پیپلزپارٹی کے ڈپٹی وزیرِاعظم بھی قرار پائے۔ویسے یہ اقتدارکا نشہ بھی کتنا عجیب ہے کہ زرداری صاحب نے اقتداربچانے کی خاطربی بی شہیدکے قاتلوں کو گلے لگالیا اور چودھری جو ساری زندگی چودھری ظہورالٰہی شہید کے قتل کا الزام پیپلزپارٹی پر دھرتے رہے ،وہ حصولِ اقتدارکی خاطراُسی پیپلزپارٹی کے پہلومیں جاکھڑے ہوئے۔


پیپلزپارٹی نے پرویزمشرف پربھی بی بی کے قتل کاالزام لگایالیکن پھر اسی پرویزمشرف کو پورے پروٹوکول اورگارڈآف آنر کے ساتھ ایوانِ صدرسے رخصت بھی کیا۔جب تک پیپلزپارٹی کا دَورِحکومت رہا ”بِلّا“پاکستان میں آزادہی پھرتارہا اور سپریم کورٹ کے فُل بنچ کے فیصلے کے باوجودپیپلزپارٹی نے اُس پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت تک نہ کی لیکن نوازلیگ کی حکومت کے آتے ہی پتہ نہیں یکایک کیا ”کایا کلپ“ہوئی کہ جنابِ آصف زرداری کا جذبہٴ انتقام جاگ اُٹھااور اُن کی تقریروں میں”بِلّا“میاوٴں میاوٴں کرنے لگا۔

میاں صاحب کو توزرداری صاحب باربار تلقین کرتے ہیں کہ ”بِلّے کو جانے نہ دینا“لیکن جب بِلّا اُن کے قبضہٴ قدرت میں تھا تب وہ کہاں سوئے رہے ،تب اُن کے دِل میں بی بی شہیدکے قتل کے دردنے انگڑائی کیوں نہ لی ؟۔یہ یقین کہ وہ نوازلیگ کے کندھے پربندوق رکھ کرچلانا چاہتے ہیں لیکن نوازلیگ نے توتمام تر خدشات کے باوجود اپنا ”کندھا“پہلے ہی حاضر کررکھاہے۔

میاں صاحب کوبزدلی کا طعنہ دینے والے شایداُن کا ماضی فراموش کرچکے ہیں ۔یاددہانی کے لیے عرض ہے کہ میاں نوازشریف صاحب نے اپنے کسی بھی دورِاقتدارمیں ڈکٹیشن نہیں لی ۔1993ء میں صدرغلام اسحاق خاں سے ٹکرائے اورقوم سے خطاب کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیاکہ ”ڈکٹیشن نہیں لوں گا،اسمبلی نہیں توڑوں گا اورنہ ہی استعفیٰ دوں گا“۔اسی تقریرکی بناپر اُنہیں وزارتِ عظمیٰ سے ہاتھ دھونے پڑے۔

1998ء میں امریکی صدربِل کلنٹن کے شدیددباوٴ اوردھمکیوں کے باوجودایک دونہیں پورے چھ ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کوعالمِ اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت بنادیا۔ پرویزمشرف نے کارگل کی جنگ میاں صاحب کی مرضی اورایماء کے بغیر شروع کی جس پرمیاں صاحب نے 1999ء میں جنرل وحیدالدین بٹ کوچیف آف آرمی سٹاف بنادیالیکن مشرف اوراُسکے کچھ ساتھی جرنیلوں نے حکومت کا تختہ الٹ کرمیاں صاحب کو پورے خاندان سمیت جَلاوطن کردیا۔

میاں صاحب کے ماضی کومدِنظر رکھتے ہوئے زرداری صاحب خاطرجمع رکھیں،میاں صاحب مشرف کیس سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے البتہ اگر عدالتیں مشرف کے حق میں فیصلہ کردیں توالگ بات ہے ۔ویسے تین رُکنی تحقیقاتی کمیشن نے جوفیصلہ سنایاہے اُس سے تو ہرچشمِ بینا کو یہی نظرآنے لگاہے کہ ”بِلّا“آزاد ہی پھرتارہے گا ۔جنابِ آصف زرداری نے فرمایا ”میں دیکھ رہاہوں کہ ”بِلّا“ضمانت پر گھر میں بیٹھاہے جس کے ایک طرف فوج چل رہی ہے اور ایک طرف وہ سیاست کررہاہے ۔

بلّے کو سیاست کرنی ہے توفوج سے ہٹ جائے اور اگرفوج کو اُس سے سیاست کروانی ہے توبتادے کہ وہ اُن کا نمائندہ ہے تاکہ ہمیں پتہ چل جائے ،ہم اُن کا مقابلہ کریں گے“۔ عرض ہے کہ افواجِ پاکستان نے اپنے قول ،فعل یا عمل سے کبھی ثابت نہیں کیاکہ وہ پرویزمشرف صاحب کی پشت پرہے ۔اگرایسا ہوتا توآمر عدالتوں میں دھکے کھا رہاہوتانہ بیماری کا بہانہ بناکر اے ایف آئی سی راولپنڈی میں پناہ ڈھونڈتا۔

رہی مقابلہ کرنے کی بات توعرض ہے کہ دودوست ایک جنگل میں جا رہے تھے ۔ایک نے دوسرے سے پوچھا ”اگراچانک سامنے سے شیر آجائے توتم کیا کروگے ؟“۔دوسرے نے جواب دیا ”جوکچھ کرے گا شیرہی کرے گا ،میں نے کیا کرناہے “۔ اگر فوج نے پرویزمشرف کواپناسیاسی نمائندہ بنانے کی ٹھان لی تو پھرجو کچھ کرے گی ،فوج ہی کرے گی اور کامیاب بھی رہے گی کیونکہ آمروں کو تو دَس بار وردی میں منتخب کروانے والے سیاستدان ایک ڈھونڈوہزار ملتے ہیں۔

آمریت کے خلاف بڑھکیں لگانے والے یاتوچوہوں کی طرح اپنے بلوں میں گھُس جاتے ہیں یا پھر آمر کے پہلو میں۔انگلیوں پہ گنے چند صحافی اورسیاستدان ہی ایسے تھے جو آمریتوں کے خلاف سینہ تان کر کھڑے ہوئے اوربدترین تشددکاشکار بھی ہوئے ۔یہ تسلیم کیے بناکوئی چارانہیں کہ بی بی جمہوریت کے حُسن کے ”لشکارے“ابھی اُس مقام تک نہیں پہنچے کہ سیاستدانوں کی جھولی میں بھی کچھ آن گرے ۔

بڑھکیں جتنی جی چاہے لگاکرخوش ہولیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ ہماری”نرم ونازک“جمہوریت آج بھی اسٹیبلشمنٹ کی مرہونِ منت ہے۔ابھی کل ہی کی بات ہے جب الیکٹرانک میڈیاپر ”امپائر“کی انگلی اُٹھنے کا شورتھا اور کچھ”میڈیائی بزرجمہر“ توتاریخیں تک دے رہے تھے لیکن اسٹیبلشمنٹ فی الحال اِس موڈمیں نظرنہیںآ تی ۔
ہمیں یقین ہے کہ زرداری صاحب نے مقابلہ کرنے کی بات اپنے جیالوں کوخوش کرنے کے لیے کی ہے کیونکہ وہ تواتنے صلح جُو ہیں کہ جنرل اشفاق پرویزکیانی کے ماتھے کی ایک شکن دیکھ کرہی اُنہوں نے ریٹائرمنٹ سے چھ ماہ پہلے ہی جنرل صاحب کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کردی ۔

بلاول زرداری نے الطاف بھائی کے بارے میں سخت الفاظ کیاکہے کہ زرداری صاحب نے اُسے سیاست سے ہی” آوٴٹ“کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا”پہلے بلاول نے کراچی میں تقریرکرتے ہوئے 100 لوگوں کو ناراض کیا ،اگر لاہورآجاتا تو پتہ نہیں اور کتنے ناراض ہوتے۔اِس لیے مقابلہ کرنے کی بات تو زرداری صاحب چھوڑہی دیں کیونکہ کوئی بھی یقین نہیں کرے گا ۔اُدھربلاول زرداری کہتے ہیں کہ ”آصف زرداری کمان ہیں اور میں تیرہوں “۔ہم نوجوان بلاول کی اِس بات سے مکمل اتفاق کرتے ہیں لیکن اِس فرق کے ساتھ کہ وہ ”کمان سے نکلاہوا تیر“ہیں جو کسی کے بَس میں بھی نہیں ہوتا ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-01-03

کالم نگار     :     پروفیسر رفعت مظہر

رفعت مظہر شعبہ درس و تدریس سے وابستہ ہیں، روزنامہ نئی بات اور اُردو پوائنٹ کیلئے باقاعدگی سے کالم لکھتی ہیں۔

پروفیسر رفعت مظہر کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-