بند کریں
پیر فروری

چالیس ارب روپے کاسوال ہے بابا

پروفیسر رفعت مظہر :

دودِن پہلے میرے میاں گھرآئے تواُن کاموڈ بہت بگڑا ہواتھا ۔وہ مُنہ ہی مُنہ میں کچھ بڑبڑاتے ہوئے کمرے میں چلے گئے ۔تھوڑی دیربعد جب ہم کمرے میں داخل ہوئے تواُنہیں پھر بڑبڑاتے پایا ۔ہم نے ہمت کرکے اِس ”ناسازیٴ طبع “ کی وجہ پوچھی تووہ تیوریاں چڑھا کربولے کہ اگرکوئی نوازلیگ کے زوال کاباعث ہوگا تووہ صرف وزیرِخزانہ ۔ہم نے پوچھا ”وہ کیسے“؟۔

جواب ملا ”سگریٹ کاوہ پیکٹ جو پچھلے سال اسّی روپے میں ملتا تھا وہ اب ڈارصاحب کی مہربانی سے ایک سوتیس کا ہوگیا ہے۔ ہماری زندگی تواجیرن ہوکے رہ گئی ہے“۔ ہم جی ہی جی میں بہت خوش ہوئے کہ شایداسی بہانے اِس ”مَرجانی“ سے چھٹکارا مِل جائے کیونکہ ہم نے توجب بھی میاں کو سگریٹ چھوڑنے کاکہا اُن کاگھڑا گھڑایا جواب ملا ”یہ رسمِ عاشقی کے خلاف ہے ۔

اگر میں سگریٹ سے چالیس سالہ رفاقت چھوڑ سکتاہوں توتمہیں بھی چھوڑسکتا ہوں“۔ اُن کے اِس جواب پرہم ہمیشہ جَل بھُن کر ”سیخ کباب“ ہوتے رہے لیکن ”وہ اپنی خُو نہ چھوڑیں گے ،ہم اپنی وضع کیوں بدلیں“ کے مصداق ہم بھی سگریٹ ترک کرنے کاتقاضہ کرتے رہے۔ ڈارصاحب کے اِس دِل خُوش کُن اقدام پر وفورِ مسرت سے ہماری باچھیں کھلنے ہی والی تھیں کی ہم کھسک لیے کیونکہ میاں کے سامنے اِس کااظہار جنگ وجدل سے بھرپور شاہکار کی صورت میں سامنے آتاجس کافی الحال ہماراکوئی ارادہ نہ تھا۔

جب ہم نے نیوزچینلز اوراخبارات میں اِس کی تفصیل پڑھی اورسُنی تو خودہمارے ہاتھوں کے مینا ،طوطے ،سب اُڑ گئے اورپاپی پیٹ کے کُتے بھونکنے لگے کیونکہ ڈارصاحب نے سوائے جینے مرنے کے ہرشے پرٹیکس لگادیا تھا۔ ویسے ہمارے وزیرِخزانہ اسحاق ڈالر صاحب ہیں بڑے ”مخولیے“۔ اُنہوں نے 40 ارب روپے کے اضافی ٹیکس عائدکرتے ہوئے یہ لطیفہ سنایا” اضافی ٹیکس سے عام آدمی متاثر نہیں ہوگا“۔

جانتے وہ بھی ہیں کہ ٹیکس لگے نہ لگے حکومتی ”حرکات“ سے متاثر توصرف عام آدمی ہی ہوتا ہے ،ڈارصاحب جیسی اشرافیہ توصاف بچ نکلتی ہے۔ ازلی ،ابدی اورمسلمہ اصول یہی کہ ”خربوزہ چھری پہ گرے یا چھری خربوزے پر ،نقصان توبیچارے خربوزے کاہی ہوناہوتا ہے“۔
وزیرِخزانہ نے 50 کروڑڈالر کی قسط لینے کے لیے عالمی مالیاتی فنڈکی شرائط پوری کردیں لیکن بہانہ یہ کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن ضربِ عضب کے نتیجے میں بے گھرہونے والوں کے لیے 40 ارب روپے درکار ہیں۔

۔۔۔ واہ ! ڈارصاحب واہ ! کیا خوب بہانہ تراشاہے کہ
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
سوال مگریہ کہ کیااربوں ،کھربوں روپے کی ”میٹروشیٹرو“ اور ”اورنج لائن“ بناناضروری ہے یامجبوروں ،مقہوروں کے آتشِ شکم کی سیری؟۔ہم میٹروکے خلاف ہیں نہ اورنج ٹرین کے ،اِن کی افادیت سے مفر ممکن نہیں لیکن یہ سب ”چونچلے“ توترقی یافتہ ممالک کے ہیں جن کے عوام کے لیے راوی عیش ہی عیش لکھتاہے ۔

اگر کسی ایک ”میٹرومنصوبے“ کوبھی ملتوی کردیا جاتا اوروہی رقم شمالی وزیرستان کے بے گھروں پر صرف کردی جاتی توحکومت کے خلاف” آگ اورپانی کے اَکٹھ“ کی نوبت نہ آتی۔ پیپلزپارٹی ، تحریکِ انصاف اورجماعت اسلامی ”ایک صفحے“ پر، باہم شیروشکر حالانکہ کپتان صاحب کی زبان توسیّدخورشید شاہ کونوازلیگ کا”مُنشی“ کہتے نہیں تھکتی تھی ۔

آج یہ تینوں جماعتیں پارلیمنٹ کے جاری اجلاس کابائیکاٹ کیے بیٹھی ہیں اورمطالبہ یہ کہ جب تک ”مِنی بجٹ“ اورپی آئی اے کی نجکاری کافیصلہ واپس نہیں لیا جائے گا، اجلاس کابائیکاٹ جاری رہے گا۔ ہمیں خوب معلوم کہ یہ سب کچھ سیاسی مفادات کے حصول اورنوازلیگ کو”ٹَف ٹائم“ دینے کے لیے کیاجا رہاہے ،پھربھی ہم خوش کہ شایداسی طریقے سے حکومت ہوش کے ناخن لے لے ۔


ڈارصاحب نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا”40 ارب روپے اکٹھے کرنے کے لیے آئین اورقانون کے تحت قدم اٹھایا، اسے مِنی بجٹ نہ کہاجائے۔ اگرکسی نے اپنے کتے بلیوں کو درآمدشدہ خوراک کھلانی ہے تواُسے ملک کوپیسے دینے دیں“۔ بالکل بجاارشاد ،یہ” مِنی “ نہیں ،پورابجٹ ہے جوایک ہی سال میں دوسری دفعہ لگاکر عوام کووقفِ مصیبت کردیا گیا۔

ویسے بھی حکومت جوکام بھی کرتی ہے آئین وقانون کے ”دائرے“ میں رہ کرہی کرتی ہے جس میں مقہوروں کی رگوں سے خون نچوڑنابھی شامل ہے۔ ڈار، المعروف ڈالرصاحب نے فرمایا ” جوٹوتھ پیسٹ استعمال کرتاہے اُسے ٹیکس بھی دیناچاہیے“۔ بالکل بجاہم ٹوتھ پیسٹ کی بجائے مسواک استعمال کرکے سنّتِ نبوی پرعمل کرلیں گے، ٹوتھ پیسٹ اُن کے خاندان اوراشرافیہ کے خاندانوں کو مبارک ہو لیکن اُنہوں نے توکنگھی چوٹی سے لے کرکھانے پینے اوراوڑھنے بچھونے تک ،سبھی پر ٹیکس لگادیا لیکن ایک چیزجس کی پاکستان میں فراوانی ہے وہ ڈار صاحب کی نظروں سے بچ گئی، وہ” موت“ ہے جوہمارے ہاں مفت ملتی ہے ۔

اگر ڈارصاحب اِس پربھی ٹیکس لگادیں توہم اُنہیں یقین دلاتے ہیں کہ قومی خزانہ چھلکنا شروع ہوجائے گا۔ جہاں ساڑھے تین سوسے زائداشیاء پرٹیکس لگایاگیا ،وہاں موت اورکفن دفن پرٹیکس بھی ضروری ہے کیونکہ اِس ٹیکس کے نفاذکے بعد شرح اموات بڑھنے کے روشن امکانات ہیں۔
شیخ رشیداحمد نے کہاتھا کہ اگرڈار صاحب ڈالر 96 روپے کاکر دیں تووہ پارلیمنٹ سے استعفیٰ دے دیں گے لیکن جب ڈارصاحب نے ہتھیلی پہ سرسوں جما کے دکھادی اورڈالر 96 روپے کاہو گیا توشیخ صاحب نے مستعفی ہونے سے انکار کرتے ہوئے کہاکہ یہ سب کچھ وقتی ہے اگرڈالر مستقل طورپر 96 روپے کارہا تووہ استعفیٰ دے دیں گے ۔

تب ہم نے شیخ صاحب کاجی بھرکے مذاق اُڑایا لیکن آج جب ڈالر 107 روپے کاہو گیا توہمیں بھی تھوڑاتھوڑا یقین آنے لگا کہ شیخ صاحب کی ساری باتیں غلط نہیں ہوتیں ،ہزارمیں سے ایک آدھ درست بھی ہوجاتی ہے۔ ماہرِ معاشیات وزیرِخزانہ سے یہ سوال
توکیاہی جاسکتا ہے کہ جب ڈالر تیزی سے قلانچیں بھررہا تھا تواُن کی” معیشت دانی“کہاں جا سوئی؟۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-12-11

کالم نگار     :     پروفیسر رفعت مظہر

رفعت مظہر شعبہ درس و تدریس سے وابستہ ہیں، روزنامہ نئی بات اور اُردو پوائنٹ کیلئے باقاعدگی سے کالم لکھتی ہیں۔

پروفیسر رفعت مظہر کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-