بند کریں
منگل جنوری

عید کی خوشیاں

محمد ثقلین رضا :

عیدکو خداوند قدوس کی طر ف سے روزہ داروں کیلئے خصوصی انعام قرار دیاگیا ہے ‘اس انعام کے ساتھ ساتھ کچھ دنیاداری کے لوازمات بھی پورے ہوتے ہیں۔ کپڑے جوتے اور ایسی ہی کئی طرح کی اشیا جن میں سے زیادہ تر تعیشات بھی ہیں لیکن اسکے باوجود ایک تصور عام ہے کہ ”عید توہوتی ہی بچوں کی ہے“ ہوسکتا ہے کہ یہ تصور اس وجہ سے ہو کہ عموماً بچے عید ی وصول کرتے ہیں خوبصورت رنگا رنگ کپڑوں میں ملبوس بچے جب سامنے آتے ہیں تو خواہ مخواہ انہیں پیارکرنے کو دل کرتاہے۔

چند ثانیے کے بعدہاتھ جیب کی طر ف بڑھتاہے اورپھر استطاعت کے مطابق جیب سے نکلے ہوئے نوٹ بچوں کی چھوٹی سی جیبوں میں منتقل ہوجاتے ہیں۔ اب یہ بھی نہیں کہ بڑے عید پر نالاں ہوتے ہیں یا چہرے بسورے دکھائی دیتے ہیں ‘خوشی ان کے دلوں میں بھی ہوتی ہے ‘ کپڑے بھی نئے ‘جوتے بھی ‘ لیکن ارمان کبھی پورے نہیں پاتے ‘اب ارمانوں ‘خواہشوں کے حوالے سے ایک مشہورزمانہ شعر بھی تو ہے ناں
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہرخواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مگر میرے ارمان پھر بھی کم نکلے
ہوسکتا ہے کہ یہ شعر ماضی میں صرف شعر کی ہی حیثیت رکھتا ہو مگر زمانہ حال کاپاکستان اس کا حرف بحرف عکاس ہے ۔

ہر دل میں ہزاروں خواہشیں ہیں مگر ہرخواہش پوری کرنادل گردے کاکام ہے۔گذشتہ کئی سالوں سے پاکستانی معاشرے جن مسائل‘ مصائب کاشکار ہے اس کے بعد عید کی خوشیاں کچھ پھیکی دکھائی دیتی ہیں۔اب بتائیے کہ ایک شخص عید کی تیاریوں میں مشغول ہو اور عید سے محض دو دن قبل ہی آس پاس قتل وغار ت ہوجائے تو عید کی خوشیوں میں وہ مزہ نہیں دکھائی دیتا۔ بدامنی کے علاوہ ایک اوروجہ بیروزگاری اورمہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح بھی ہے ‘ عموماً دنیا بھر میں تہواروں کے موقع پر صارف کو خصوصی حکومتی پیکیج ملتاہے ‘صارف کی آسانی کیلئے سستی اور معیاری اشیاء کے سٹال دکانیں سجائی جاتی ہیں لیکن ہمارے ہاں تصورالٹ ہوچکا۔

عام دنوں میں معمولی قیمت رکھنے والی اشیا عید سے پہلے ہاتھ آتی دکھائی نہیں دیتیں کہ ان کے نرخ آسمان سے باتیں کرتے نظرآتے ہیں۔
اچھا تلخیوں کو چھوڑئیے ایک ذرا لحظہ تصور کیجئے ‘ عید کے دن کا خاص تحفہ سویاں ‘شیر خورمہ بھی ہے‘ اب دیکھئے دونوں چینی کے بغیر کیا مزہ دیں گے؟یقینا ایسا نہیں ہے۔ چینی اور سویاں‘ شیر خورمہ لازم وملزوم ہیں لیکن اب دیکھئے جونہی سویاں اور شیر خورمہ کی تیاری کے دوران گھر کی ماں بہن بیٹی یہ کہے کہ آ پ جو چینی لائے تھے وہ تو بے ذائقہ ہے اور اس میں مٹھاس بھی نہیں تو آپ پر کیا بیتے گی؟ آپ پریشان کہ ابھی کل ہی تو یوٹیلیٹی سٹور سے چینی خرید ی تھی ‘وزن اور قیمت میں ہلکی دیکھ کر خرید لی یہ پتہ تو نہیں تھا کہ اس میں حکومت کی طرح کوئی ذائقہ نہیں ہوگا۔

عید کا پہلا مزہ ہی کرکرا ہوگیا۔ خیر عید نماز پڑھنے مسجدیا عید گاہ میں گئے وہاں داخلے سے پہلے آپ کی تلاشی ہوئی‘ موڈ خراب‘ عید کی نماز کیلئے جونہی لب سے ”اللہ اکبر“ نکلا دل میں جاگزیں خدشات تقویت پکڑنے لگے کہ”کچھ ہونہ جائے“ بعض منچلوں کو تو عید نماز کے دوران ”جوتے چوری “ کاڈر رہتا ہے اوروہ بیچارے جوتے آگے رکھ نہیں پاتے کہ نماز نہیں ہوتی اوراگر پیچھے رکھیں تو جوتے نہیں ہوتے۔


عید کی بات کرتے کرتے دل چاہتا ہے کہ ذرا خریداری کا بھی جائزہ لے لیاجائے۔ ارے بھئی اگرتو کوئی شادی شدہ ہے اور بال بچے دار بھی ‘تو اس کیلئے خریداری گویاجا ن جوکھوں کا کام ہوا‘ بچوں کاہاتھ پکڑے جونہی بازار میں داخلہ نصیب ہوتا تو روشنیوں کی چکاچوند میں اس کے ذہن سے یہ بھی اترجاتاہے کہ وہ کیا خریدنے آیاتھا ۔ خیر کپڑے خریدنے جاناہو تو بزاز جو نرخ بتائے گا وہ چودہ اٹھارہ کیا سو کے سو طبق روشن کردیگا ۔

اچھا بچوں کیلئے بھی تو ریڈی میڈ سوٹ خریدنا ہیں۔ آپ ریڈی میڈ سٹور والے کے مہمان بنے۔ بچوں کیلئے سوٹ پسند کئے جونہی نرخ کی بات ہوئی ‘ وہ مسکرا کر اور باقاعدہ دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے نرخ بتا ئے گا ۔ آپ پریشانی کے عالم میں کہیں گے ”میاں پچھلے سال او ر اس سے پچھلے سال تو ا س کا نرخ یہ نہ تھا “ وہ کہے گا ”بھائی جی آپ پچھلے سال کی بات نہ کرو وہ تو پہلے کی بات ہے آج تو 2015ہے۔

دو چار سال پرانی یاد اشت پیش کریں گے تو جواب آئیگا کہ وہ مشرف کا دور تھا اوریہ نوازشریف کا ‘ پھر حکمرانوں کی شان میں وہ ”قصیدے “ گھڑے گا کہ خواہ مخواہ منہ بسورتے ہوئے جیب سے بٹوہ نکال کر اس کے بتائے ہوئے پیسے دینے پر مجبورہوجائیں گے جوتوں کی خریداری بھی ایسے ہی مراحل طے کرنے کے بعد ممکن ہوتی ہے۔ خیر بازار سے نکلتے ہوئے آپ کا ہاتھ جونہی جیب میں پڑے پرس پر پڑتاہے تو دل میں سے آہ سی نکل جاتی ہے کہ اتنے ارمانوں سے یہ پیسے جمع کئے تھے۔

ابھی تو اور بھی فرمائشیں ہیں‘ بلکہ ابھی تو بیگم صاحبہ کی لمبی چوڑی لسٹ بھی گھر میں انتظا رکر رہی ہوگی۔ پھر پاکستانی حکمرانوں کی سی شکل بناکر مانگ تانگ پر گزارہ ہوتا ہے۔
عید کادن ہو تو کچھ میٹھی ‘کچھ پھیکی باتیں ہوئی ‘ہوسکتاہے کہ میٹھے اورپھیکے کے ملاپ سے کچھ عجب ذائقہ بن گیا ہو لیکن صاحب کی خوشیوں میں بندہ ہرچیز بھلائے عید ہی مناتا ہے لیکن تھوڑی دیر ٹھہرجائیے‘ وہ جو سامنے سے روتا ہوا میلے پھٹے کپڑے پہن کر آنیوالا بچہ کس کا ہے؟ ذرا دھیان دیجئے ‘ خبر گیری کیجئے‘ ہوسکتا کہ آپ کی جیب پر بھاری گزرے لیکن اگرآپ اس معصوم بچے کے ہونٹوں پر ”مسکان “ لاسکیں تو آپ کی عید کی خوشیاں دوگنی ہوجائیں گی۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-07-18

: متعلقہ عنوان


کالم نگار     :     محمد ثقلین رضا

محمد ثقلین رضا کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-