بند کریں
پیر جنوری

میر افسر امان کے کالم

سرحد پر بھارت کی جارحیت

میر افسر امان :

مسلمانوں جنگ کی پوری تیاری رکھو۔ جنگ کی خواہش نہ کرو اور جب جنگ مسلط کر دی جائے تو اُ س سے پیچھے نہ ہٹو۔یہ ہیں ہمارے مذہب کے زرین اصول! جہاں تک ہماری مسلح افواج کا تعلق ہے تو اس دفعہ یوم دفاح پاکستان پر طاقت کا بھر پور مظاہرہ کرنا چاہیے۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی قوم کو بھی اتحاد اور یکجہتی کا مثالی مظاہرہ کرنا چاہیے۔ تاکہ دشمن کو سخت پیغام ملے اور وہ جنگ کا سوچ بھی نہ سکے۔

پاکستان کا یوم دفاع جیسے جیسے قریب آ رہا ہے بزدل بھارت سرحدوں پر بلاجواز پاکستان کے نہتے شہریوں کو شہید کر رہا ہے۔ہمار ی مسلح افواج کے سپہ سالار ورکنگ باؤنڈری گئے۔ شہید ہونے والوں اور زخمیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ہسپتال کا دورہ کیا اور عوام کے دکھ درد میں شریک ہوئے جوانوں کو بھر پور کاروائی پر خراج تحسین اور شہریوں کے بلند حوصلے کو سراہا۔

وزیر دفاع نے بھی شہیدوں اور زخمیوں کے خاندانوں سے ملاقات کی اور انہیں حوصلہ دلایا۔ وزیر دفاع نے کہا کہ اگر ہم پر حملہ کیا گیا تو پاکستان اپنی مرضی سے جواب دے گا اور بھارت کا ۶۵ء کی جنگ سے زیادہ نقصان ہو گا۔معاملہ سلامتی کونسل میں اٹھائیں گے۔پہلے بھی۶ /ستمبر کو ہندوستان نے بین الاقوامی سرحد کراس کی تھی۔ بھارت کے جنرل نے کہا تھا کہ ہم لاہور جا کر ناشتہ کریں گے ۔

ہماری بہادر فوج نے لاہوریوں کے ساتھ ملکر بھارت کو شکست دی وہ لاہور میں ناشتہ کیا کرتے انہیں کھیم کرن میں شکست ہوئی اور ہماری فوج نے قبضہ کر لیا تھا۔کشمیر کی طرف ہماری بہادر فوج اکھنور تک پہنچ گئی تھی۔ ہماری فضایہ نے فضاؤں پر برتری حاصل کر لی تھی ۔ ایم ایم عالم نے منٹوں میں بھارت کے کئی ہوائی جہاز تباہ کر دیے تھے ۔پٹھان کوٹ کے ہوئی اڈے کو بھی تباہ کر دیا گیا تھا۔

۶/ ستمبر کی جنگ ہندوستان نے ہاری تھی اس کا اعتراف ہندوستان کے لوگ اپنی کتابوں میں ذکر کر رہے ہیں۔ ڈکٹیٹر مشرف کے دور میں جب بھارت نے فوجین باڈر کے قریب لائیں تھیں تو ڈکٹیٹر مشرف نے بھارت کو دھمکی دی تھی کہ اگر تم نے باڈر کراس کیا توتماری زمین جنگ ہو گی۔ڈکٹیٹر ضیا الحق دور میں بھی بھارت غلطی کرنا چاہتاتھا تو راجیو گاندھی کے کان میں کچھ کہا گیاتھا اس لیے وہ بھی پیچھے ہٹ گیا تھا۔

لیکن ایک بات ارباب اقتدار کو پلے باندھ لینی چاہیے کہ بھارت ہر وقت پاکستان کو ختم کرنے کی کوششیں اور سازشیں کرتا رہتا ہے اس نے ہمارے مشرقی بازو کو ہم سے کاٹ کر بنگلہ دیش بنا دیا جس کا بر ملا اظہار بھی کرتا ہے۔اُس کے لوگ کہتے ہیں کہ دہشت کا جواب دہشت گردی سے دیا جائے گا۔ جبکہ وہ کراچی میں پہلے سے ہی دہشت گردی کر رہا ہے ۔مقامی ایجنٹوں کو پیسہ اور ٹریننگ دے رہا ہے۔

افغانستان میں بیٹھ کر بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کی پیسے اور اسلحہ دے کر مدد کر رہاجس کے ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں۔گو کہ اس وقت ہماری اندرونی کمزوری موجود ہے جس کو دور کرنے کی ہنگامی بنیادوں پر کوشش کرنی چاہیے۔ بیرونی دنیا میں بھی ہمارے دوست کم ہوگئے ہیں سعودی عرب وغیرہ، صرف چین ہے مگر اسکے بھارت سے بھی گرم جوشی کی دوستی ہے۔ کچھ بیمار ذہین کے تجزیہ کار کہہ رہے ہیں کیونکہ دنیا اس وقت ہماری مخالف ہے اور ہمارے کچھ لوگ ایٹمی حملے کی باتیں کر رہے ہیں جو ا نہیں کرنی چاہیں اس سے دنیا ہمیں ایٹمی طاقت سے محروم بھی کر سکتی ہے۔

ایک بات یاد رکھنی چاہے کہ دنیا کبھی بھی پاکستان کے ساتھ نہیں تھی۔ ۶ /ستمبر کی جنگ کے وقت امریکہ نے ہماری فوجی مدد بند کر دی تھی۔۱۹۷۱ء میں بھی نیٹو اتحادی ہونے کے باوجود اُس کا بیڑا ہماری مدد کو نہ پہنچا بل کہ ہنری کیسنگر کے مطابق امریکہ نے پاکستان توڑنے میں بھارت کی مدد کی تھی۔ صرف چین نے ہماری مدد کی تھی ان شا ء اللہ اب بھی چین ہماری مدد کرے گا اس وقت پاکستان میں اقتصادی رہداری کی وجہ سے اس کے بھی مفادا ت ہیں۔

امریکہ کی سلامتی کی ایڈوائزر سوزن رائس صاحبہ پاکستان کے دورے پر ہے اور نواز شریف کو امریکہ کے دورے کی دعوت دینے آئی ہے جو انہوں نے قبول کر لی ہے اور اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں اوباما سے ملاقات کریں۔نواز شریف نے کراچی اور بلوچستان میں ہندستان کی مداخلت کے ثبوت بھی اس کے سامنے پیش کیے ہیں ورکنگ باؤنڈری پر بلا جواز فائرنگ کے ثبوت بھی سوزن رائس کو دیے ہیں جس میں ۱۰/ افراد شہید ہوئے اور ۴۷ زخمی ہوئے ۲۰۰ مکانات کونقصان پہنچا۔

اس میں شک نہیں کہ ہماری مشرقی اور مغربی سرحدیں محفوظ نہیں۔ملک میں بیرونی ایجنٹ سرگرم ہیں۔ بھارت اس پوزیشن سے فائدہ اُٹھا کرجنگ چھیڑنا چاہتاہے۔کیا ایسے موقعہ پر ہم خاموش ہو جائیں اور اللہ نے جو ہمیں ایٹمی طاقت دی ہے اُس سے فائدہ نہ اُٹھائیں اور بزدل قوموں کی طرح دبک کر بیٹھ جائیں۔ ٹھیک ہے جنگ سے بچنے کی جتنی بھی تدبیریں ہیں ان پر عمل کرنا چاہیے۔

بیرونی ممالک میں سفارتکاری کے ذریعے اپنے ہم خیال بنانے کی بھی کوشش کرنی چاہیے یعنی جو کچھ بھی ہو سکتا ہے کرنا چاہیے ۔ اس نازک موقعہ پر ہمارا مذہب ہمیں جو سبق سکھاتا ہے اس پر عمل کرنا چاہیے۔ اللہ کے بروسہ پر دشمن کو بتا دینا چاہیے کی اگر تم ہمیں ختم کرنا چاہتے ہو تو ہم بھی تمہیں ختم کئے بغیر نہیں چھوڑیں گے۔ تنگ آمد بہ جنگ آمد والی بات ہے۔

ہاں پاکستانی قوم کو اس خطرے سے بروقت آگاہ کرنا چاہیے اور اس سے مشورہ کرنا چاہیے اور اللہ کا نام لیکر دشمن کا سامنا کرنا چاہیے۔ اس وقت اس کے علاوہ کوئی بھی چارہ نہیں۔ جیسا کہ ہم نے شروع میں ذکر کیا ہے یوم دفاع پاکستان پر دوسری دفاعی سازو سامان کے ساتھ ساتھ میزائل اور ایٹمی آلات کی نمائش کرنا ضروری ہے۔ اس سے دشمن کو صاف صاف پیغام جائے گا اور وہ ہماری طرف دیکھنے سے پہلے ہزار دفعہ سوچے گا۔اللہ ہمارے ملک کو اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے بچائے آمین۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-09-05

: متعلقہ عنوان


کالم نگار     :     میر افسر امان

میر افسر امان کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-